اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

وقوفِ عرفہ شروع: امت کے اتحاد، مساوات اور اخوت کی عظیم تصویر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
وقوفِ عرفہ

میدان عرفات میں وقوف کا وقت ہوگیا ہے جہاں حج کا سب سے عظیم رکن ادا کیا جائے گا۔
دنیا بھر سے آئے لاکھوں مسلمان رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے فرق سے بالاتر ہوکر ایک رب کے حضور جھکتے ہیں۔
میدانِ عرفات انسانی مساوات، اسلامی اخوت، وحدتِ امت، عاجزی، توبہ اور بندگی کا ایسا بے مثال منظر پیش کیا جارہا ہے جو پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔

لاکھوں فرزندان اسلام نے حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ شروع کردیا ہے۔

قبل ازیں حجاج نے خطبۂ حج سنا اور نبی کریم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں قصر ادا کیں۔

بعد ازاں سورج غروب ہونے کے بعد مزدلفہ کے لئے روانہ ہوں گے جہاں مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی جائے گی اور کھلے میدان میں رات گزاریں گے۔ 

فجر کی نماز کے بعد مشعر الحرام میں وقوف ادا کریں گے جہاں کثرت سے دعا ومناجات کی جائے گی۔

مزید پڑھیں

حج کا عظیم اجتماع صرف عبادات کی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت، مساوات اور اجتماعی شعور کا ایک بے مثال مظہر بھی ہے۔ 

میدانِ عرفات میں وقوف کرنے والے دنیا کے مختلف خطوں، زبانوں، رنگوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمان ایک ہی مقصد کے تحت جمع ہوتے ہیں۔ 

کوئی ہندوستان سے آیا ہے، کوئی ترکی سے، کوئی شام، عراق، ایران یا افغانستان سے جبکہ کوئی دنیا کے دور دراز علاقوں سے سفر کرکے پہنچا ہے مگر سب کا ہدف ایک ہی ہے: اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت کا حصول۔ 

یومِ عرفہ کا وقوف دراصل اسلام کی اس عظیم روح کی یاد دہانی ہے جو مسلمانوں کے درمیان محبت، باہمی تعاون، تعارف اور وحدت کو فروغ دیتی ہے۔ 

اسلام نے امت کے دلوں میں اخوت اور اجتماعیت پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، اور میدانِ عرفات اس تعلیم کا سب سے روشن اور عملی نمونہ بن کر سامنے آتا ہے۔ 

65654654654
مشعرِ عرفات 518 کلومیٹر کی بلندی سے سیٹلائٹ کے ذریعے نظر آنے والا منظر

عرفات کا منظر انسانی تاریخ کے عظیم ترین مناظر میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ 

انسانوں کا ایک وسیع سمندر، ایک ہی لباس یعنی احرام میں ملبوس، ایک ہی رب کے حضور جھکا ہوا، ایک ہی کلماتِ توحید بلند کرتا ہوا اور ایک ہی مقصد کے لیے آنسو بہاتا ہوا نظر آتا ہے۔ 

یہاں زبان، نسل، قومیت اور معاشرتی حیثیت کے تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ 

امیر و غریب، طاقتور و کمزور، حکمران اور عام انسان سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ 

اسلام رنگ، نسل، زبان، قومیت
اور دولت کی
بنیاد پر برتری کو
مسترد کرتا ہے

حجاج کرام مختلف زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی نعرہ بلند کرتے ہیں: ’لبیک اللہم لبیک‘۔
ان کی دعائیں، آہ و زاری، توبہ و استغفار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میدانِ عرفات کی فضا کو روحانیت سے بھر دیتی ہے۔
یہ منظر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت مال، منصب، رنگ یا نسل میں نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاص اور اللہ کے خوف میں ہے۔
قرآنِ کریم انسانی مساوات کا اصول واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، اور اللہ کے نزدیک عزت و برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عرفات میں کھڑا ہر شخص اس حقیقت کو اپنے عمل سے محسوس کرتا ہے کہ سب اللہ کے بندے اور اس کے محتاج ہیں۔
کوئی شخص دوسرے پر برتری نہیں رکھتا، اور نہ ہی دنیاوی حیثیت کسی کو اللہ کے قریب کرسکتی ہے۔

وقوفِ عرفہ صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک اجتماعی تربیت بھی ہے۔ یہ انسان کے دل سے تکبر، غرور، تفاخر اور خود پسندی کو نکال کر عاجزی، انکساری اور بھائی چارے کی صفات پیدا کرتا ہے۔ 

جب ایک صاحبِ ثروت انسان ایک کمزور اور ضرورت مند شخص کے ساتھ کھڑا ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اصل طاقت، عزت اور بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ 

54645646

اسلام مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ رنگ، زبان، قومیت اور مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک جسم کی مانند رہیں۔ 

میدانِ عرفات اسی وحدتِ امت کی عملی تصویر ہے، جہاں ہر حاجی اپنی زندگی کے ہر ظاہری فرق کو پیچھے چھوڑ کر صرف بندگی اور اطاعت کے رشتے میں بندھ جاتا ہے۔