میدان عرفات میں وقوف کا وقت ہوگیا ہے جہاں حج کا سب سے عظیم رکن ادا کیا جائے گا۔
دنیا بھر سے آئے لاکھوں مسلمان رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے فرق سے بالاتر ہوکر ایک رب کے حضور جھکتے ہیں۔
میدانِ عرفات انسانی مساوات، اسلامی اخوت، وحدتِ امت، عاجزی، توبہ اور بندگی کا ایسا بے مثال منظر پیش کیا جارہا ہے جو پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔
حجاج کرام مختلف زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی نعرہ بلند کرتے ہیں: ’لبیک اللہم لبیک‘۔
ان کی دعائیں، آہ و زاری، توبہ و استغفار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میدانِ عرفات کی فضا کو روحانیت سے بھر دیتی ہے۔
یہ منظر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت مال، منصب، رنگ یا نسل میں نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاص اور اللہ کے خوف میں ہے۔
قرآنِ کریم انسانی مساوات کا اصول واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، اور اللہ کے نزدیک عزت و برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عرفات میں کھڑا ہر شخص اس حقیقت کو اپنے عمل سے محسوس کرتا ہے کہ سب اللہ کے بندے اور اس کے محتاج ہیں۔
کوئی شخص دوسرے پر برتری نہیں رکھتا، اور نہ ہی دنیاوی حیثیت کسی کو اللہ کے قریب کرسکتی ہے۔