آج حج کا نہایت اہم اور مصروف ترین دن ہے۔
مزدلفہ سے منیٰ پہنچنے کے بعد حجاج کرام کو ترتیب کے ساتھ اہم مناسک ادا کرنے ہوتے ہیں۔ ان اعمال کو اطمینان، صبر اور سنتِ نبویﷺ کے مطابق انجام دینا انتہائی ضروری ہے۔
منیٰ پہنچنے کے بعد سورج طلوع ہونے پر تلبیہ بند کردیا جائے اور بڑے جمرہ ’جمرۂ عقبہ‘ کو 7 کنکریاں ماری جائیں۔
نبی کریمﷺ نے 10 ذوالحجہ کو سواری پر جمرات کی رمی فرمائی تھی، جبکہ دیگر دنوں میں پیدل تشریف لے جاتے تھے، اسی لیے دونوں طریقے جائز ہیں۔
رمی مکمل کرنے کے بعد قربانی کی جاتی ہے۔
قربانی ادا کرنے کے بعد مرد حضرات حلق ’سر منڈوانا‘ یا تقصیر ’بال ترشوانا‘ کریں۔
خواتین کے لیے حکم ہے کہ ہر چوٹی سے انگلی کی پور کے برابر بال کاٹیں۔
مزید پڑھیں
حلق یا تقصیر کے بعد حاجی احرام کی پابندیوں سے جزوی طور پر آزاد ہوجاتا ہے، جسے تحللِ اول کہا جاتا ہے۔
اس مرحلے کے بعد عورتوں کے تعلق کے علاوہ احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔
اس کے بعد مکہ مکرمہ جاکر طوافِ افاضہ ادا کیا جائے، جو حج کے بنیادی ارکان میں شامل ہے۔
طواف افاضہ کے بعد مکمل طور پر احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔
البتہ حجِ تمتع ادا کرنے والے حجاج کے لیے تحللِ ثانی اس وقت مکمل ہوگا جب طوافِ افاضہ کے بعد سعی بھی ادا کرلی جائے۔
اگر کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے طوافِ افاضہ فوری طور پر ادا نہ ہوسکے تو بعد میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے تاہم اسے غیرضروری تاخیر کے بغیر مکمل کرنا بہتر ہے۔
یہ دن عبادت، صبر، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا عملی مظہر ہے۔
حجاج کرام کو چاہئے کہ مناسکِ حج سنت کے مطابق، نظم و ضبط اور مکمل اطمینان کے ساتھ ادا کریں تاکہ حج کی برکتیں اور فضیلتیں مکمل طور پر حاصل ہوسکیں۔
حج اسلام کا عظیم رکن ہے، جس میں لاکھوں مسلمان ایک وقت اور ایک مقام پر عبادات انجام دیتے ہیں۔
ایسے عظیم اجتماع میں نظم و ضبط کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔
اگر قواعد و ضوابط کی پاسداری نہ کی جائے تو مسائل اور مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
حجاج کرام کو جمرات کی رمی، قربانی، حلق یا تقصیر اور دیگر مناسک کے دوران مقررہ اصولوں کی مکمل پابندی کرنی چاہیے تاکہ ہر شخص آسانی اور اطمینان کے ساتھ عبادات انجام دے سکے۔