امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ عبوری معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد خطے کی صورتحال نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کھولنے، ایرانی تیل برآمدات میں نرمی اور جوہری مذاکرات کی بحالی شامل ہے جبکہ مبصرین جنگ کے آغاز میں اعلان کردہ امریکی اور اسرائیلی اہداف میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
طہران اور واشنگٹن کے درمیان متوقع معاہدے کی شقوں، جس کے جلد دستخط ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، نے ان بلند اہداف اور جنگی حقائق کے درمیان واضح فرق نمایاں کر دیا ہے، جن کا اعلان امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز میں کیا تھا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے آج اتوار کو ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکا اور ایران 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک عبوری مفاہمتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران کو تیل برآمد کرنے کی اجازت دینے اور ساتھ ہی ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکراتی عمل شروع کرنے کی شق شامل ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی عہدیدار کے مطابق مسودہ معاہدے کی بیشتر شقوں کی متعدد ذرائع سے تصدیق ہو چکی ہے۔
اگرچہ تہران نے سرکاری طور پر تفصیلات کی توثیق نہیں کی، تاہم اس نے کسی حتمی پیش رفت کے قریب ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
چند گھنٹوں کے دوران متعدد بیانات سامنے آئے جن میں پاکستانی ثالثی کے ذریعے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کی تصدیق کی گئی۔
امریکا نے ان بالواسطہ اور پیچیدہ مذاکرات کے نتائج کو مثبت قرار دیا حالانکہ یہ عمل کئی بار تعطل کا شکار ہوا اور اپریل میں اسلام آباد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے ایران کے انکار کے باعث تقریباً ناکام ہو گیا تھا۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کو نئی دہلی سے کہا کہ امکان ہے دنیا آئندہ چند گھنٹوں میں اچھی خبریں سنے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے۔
متوقع معاہدے کی اہم شقیں
مجوزہ معاہدہ 60 روزہ عبوری مفاہمتی یادداشت پر مشتمل ہے، جس میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
• آبنائے ہرمز:
ایران جنگ بندی کے دوران بارودی سرنگیں ہٹانے اور بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کا پابند ہوگا، جبکہ آبنائے ہرمز بغیر کسی اضافی فیس کے کھلی رہے گی۔
• ایرانی بندرگاہیں اور تیل:
امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں میں نرمی اور تیل برآمدات کے لیے رعایتیں دینے پر غور کرے گا، جس سے ایرانی معیشت کو سہارا اور عالمی توانائی منڈیوں کو استحکام مل سکتا ہے۔
• مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی:
پابندیوں میں کمی کا عمل ایران کے زمینی اقدامات، خاص طور پر بحری راستوں کے تحفظ سے مشروط ہوگا۔
• جوہری پروگرام:
ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے، یورینیم افزودگی محدود کرنے اور زیادہ افزودہ ذخائر کے خاتمے پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرے گا۔
• امریکی فوجی موجودگی:
امریکا عبوری مدت کے دوران خطے میں اپنی اضافی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا، جبکہ مستقبل میں ممکنہ کمی وسیع معاہدے سے مشروط ہوگی۔
• لبنان محاذ:
اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی شق بھی شامل ہے، جس پر اسرائیلی وزیر اعظم نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
کیا امریکا کے جنگی اہداف تبدیل ہو گئے؟
معاہدے کی مجوزہ شقیں امریکی اہداف میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔
تقریباً 86 روزہ جنگ کے آغاز میں ایران کے نظام حکومت کے خاتمے اور جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے جیسے بڑے اہداف سامنے رکھے گئے تھے، مگر اب توجہ زیادہ تر آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ سے پہلے والی صورتحال کی بحالی پر دکھائی دیتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر بندرگاہی پابندیوں میں نرمی اور تیل برآمدات کی اجازت ایرانی نظام کو کمزور کرنے کے بجائے مزید معاشی سہارا دے سکتی ہے۔
جوہری اور میزائل پروگرام کا کیا ہوگا؟
مجوزہ معاہدے میں ایرانی جوہری پروگرام کا حتمی حل مؤخر کر دیا گیا ہے۔
معاہدہ صرف مذاکرات، افزودگی محدود کرنے اور ذخائر کم کرنے تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کا ڈھانچہ 2015 کے جوہری معاہدے سے مشابہت رکھتا ہے، اگرچہ اس میں وقت کے تعین کے حوالے سے کچھ اضافی پہلو شامل کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میزائل پروگرام بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ امریکی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق ایران اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل رکھنے اور لانچنگ صلاحیت بحال کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر جنگ کے بھاری معاشی اور سکیورٹی اخراجات سے بچنے کی مشترکہ کوشش معلوم ہوتا ہے، نہ کہ فریقین کے مؤقف میں کسی بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کا اشارہ۔