حج کا مبارک موسم ان عظیم دنوں میں آتا ہے جن کی قسم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کھائی ہے، جیسا کہ مفسرین کی اکثریت بیان کرتی ہے۔
یہ بابرکت ایام مسلمانوں کو، چاہے وہ مکہ مکرمہ پہنچے ہوں یا اپنے گھروں میں موجود ہوں، سستی اور غفلت کو چھوڑ کر اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی رحمت و مغفرت کی طرف متوجہ ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
دنیا بھر سے آنے والے حجاج کرام مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق 2025 میں 16 لاکھ 73 ہزار 230 حجاج نے فریضۂ حج ادا کیا اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال بھی تعداد اس کے قریب رہ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
حج کے دوران عرفات، منیٰ، طواف، سعی اور رمی جمرات جیسے مناسک ادا کرنے کے لیے حجاج کو طویل پیدل سفر اور شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں روزمرہ کی متعدد جسمانی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر پاؤں اور ٹانگوں سے متعلق مسائل۔
سال 2021 میں شائع ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق حجاج میں محسوس ہونے والے 80 فیصد درد نچلے اعضا میں ہوتے ہیں جبکہ پاؤں
اور ٹخنوں کا درد تقریباً 38 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔
حجاج میں پاؤں کے درد کی کئی وجوہات سامنے آتی ہیں، جن میں:
- چھالے (Blisters)
- زخم اور جلد کا چھل جانا
- موچ اور چوٹیں
- انفیکشن
- زیادہ پیدل چلنے سے پیدا ہونے والا دباؤ
ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے دائمی امراض بھی پاؤں کی پیچیدگیوں میں اضافہ کرتے ہیں، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں میں۔
حاجی روزانہ 5 سے 15 کلومیٹر تک پیدل چل سکتے ہیں، جبکہ بعض اوقات گرم اور سخت زمین پر چلنا پڑتا ہے۔
مسلسل دباؤ، شدید گرمی اور غیر آرام دہ جوتے پاؤں میں تکلیف، چھالے اور جلدی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
غیر مناسب جوتے جلد اور جوتے کے درمیان رگڑ بڑھاتے ہیں، جس سے جلد پر زخم اور چھالے بن سکتے ہیں، جبکہ گرمی اور پسینہ انفیکشن کے امکانات بھی بڑھا دیتے ہیں۔
پاؤں کو محفوظ رکھنے کے اہم مشورے
- آرام دہ اور مناسب جوتے پہنیں جو پاؤں کو مکمل تحفظ دیں۔
- ننگے پاؤں چلنے سے گریز کریں۔
- پاؤں کو صاف اور خشک رکھیں۔
- جوتے پہننے سے پہلے ویزلین یا سلیکون پر مبنی حفاظتی مواد استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ رگڑ کم ہو۔
- چھالے، زخم یا درد محسوس ہوتے ہی فوری توجہ دیں اور علاج کروائیں۔
- ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض اپنی ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں۔
- ذیابیطس کے مریض روزانہ اپنے پاؤں کا معائنہ کریں۔
ماہرین کے مطابق پاؤں کی معمولی تکلیف کو نظر انداز کرنا بعد میں انفیکشن یا سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے حج کے دوران پاؤں کی مناسب دیکھ بھال عبادات کو زیادہ آرام دہ اور پرسکون بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔