تاہم اسلام داغستان میں سب سے پہلے رسول اکرمﷺ کے صحابہ کرام کے ذریعے پہنچا، جو آپﷺ کے وصال کے تقریباً 10 برس بعد اور فارسی سلطنت کی شکست کے فوراً بعد اس خطے میں آئے تھے۔
صحابہ کرام نے ان نئے علاقوں کو ’الجبال‘ کا نام دیا۔ داغستان پہنچنے والی مسلم افواج کی قیادت دو بھائیوں، عبدالرحمن اور سلمان بن ربیعہ الباہلی کے ہاتھ میں تھی۔
صحابۂ کرام کی آمد کے ساتھ ہی داغستان میں پہلی مرتبہ اذان کی صدا بلند ہوئی اور وہاں سب سے پہلی مسجد تعمیر کی گئی۔
روس کے مسلمانوں کی تاریخ میں چودہویں سے سولہویں صدی کا دور بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
اسی زمانے میں چرکس نسل سے تعلق رکھنے والے ممالیک، جو شمالی قفقاز کی سب سے بڑی نسلی برادریوں میں شمار ہوتے ہیں، مصر میں ایک طاقتور قوت بن کر ابھرے۔
چرکسی ممالیک سلطنت نے 1382 سے 1517 تک مصر پر عملاً حکمرانی کی۔ انہوں نے سیاسی زندگی میں کلیدی کردار ادا کیا، اعلیٰ حکومتی عہدے سنبھالے اور خطے کا دفاع کیا، یہاں تک کہ صلیبی حملہ آوروں کے خلاف بھی صف آرا رہے۔
1917ء میں زار حکومت کے خاتمے اور اشتراکی اقتدار کے قیام کے بعد روسی مسلمانوں پر ایک ہولناک دور مسلط ہوگیا۔
جوزف اسٹالن کی قیادت میں نئی کمیونسٹ حکومت نے ملک بھر میں مذہب کے خلاف مہم چلائی اور مسلمانوں، عیسائیوں و یہودیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خدا کو مکمل طور پر فراموش کردیں۔
اس دوران بے شمار مسلم رہنماؤں، ائمہ اور عام اہلِ ایمان کو قتل کیا گیا، کئی افراد قید کیے گئے، جبکہ قفقاز کے بعض باشندوں کو وسطی ایشیا جلاوطن کردیا گیا۔