اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

اسٹالن ہمیں خدا کو بھولنے پر مجبور کرتا تھا مگر کعبہ فتح یاب رہا!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسمارٹ حج، مسجد الحرام میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ہجوم مینجمنٹ سسٹم کا خاکہ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

روس میں حج کی تاریخ صدیوں پر محیط ایک طویل داستان ہے۔

مزید پڑھیں

یہ سفر اُن کٹھن زمانوں سے شروع ہوتا ہے جب زائرین مہینوں تک پیدل اور بحری راستوں سے سفر کرکے مکہ مکرمہ پہنچتے تھے اور آج جدید فضائی سفری سہولیات تک آ پہنچا ہے۔

موجودہ روس کے مسلم علاقوں میں حج کی روایت ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں داغستان سے شروع ہوئی۔

تاہم اسے وسیع مقبولیت اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں اُس وقت 

حاصل ہوئی جب تاتار قوم کے خوشحال مسلمان تاجروں نے اس مذہبی فریضے کو فروغ دیا۔

روس میں مسلمانوں کی 2 بڑی آبادیاں ہیں:شمالی قفقاز اور وولگا سے سائبیریا تک پھیلا خطہ، جہاں تاتار آباد ہیں۔

یہ داستان 4 اہم تاریخی مراحل سے شروع ہوتی ہے، جو اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ اسلام ان علاقوں تک کیسے پہنچا جو بعد میں روس کا حصہ بنے۔

روسی سرزمین پر اسلام کے آغاز کے مراحل

پہلا مرحلہ 642 عیسوی سے جڑا ہے، جب خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطابؓ کے دور میں اولین مسلمان موجودہ روسی علاقوں میں داخل ہوئے۔

یہ آمد داغستان میں ہوئی، جو بحیرۂ کیسپین کے ساحل پر واقع ایک مسلم خطہ ہے۔ آج داغستان عالمی سطح پر سامبو کے عالمی چیمپئن  خبیب نورماگومیدوف کی وجہ سے بھی معروف ہے۔

صحابۂ کرام کی آمد کے ساتھ ہی داغستان میں پہلی مرتبہ اذان کی صدا بلند ہوئی اور وہاں پہلی مسجد تعمیر کی گئی۔

تاہم اسلام داغستان میں سب سے پہلے رسول اکرمﷺ کے صحابہ کرام کے ذریعے پہنچا، جو آپﷺ کے وصال کے تقریباً 10 برس بعد اور فارسی سلطنت کی شکست کے فوراً بعد اس خطے میں آئے تھے۔
صحابہ کرام نے ان نئے علاقوں کو ’الجبال‘ کا نام دیا۔ داغستان پہنچنے والی مسلم افواج کی قیادت دو بھائیوں، عبدالرحمن اور سلمان بن ربیعہ الباہلی کے ہاتھ میں تھی۔
صحابۂ کرام کی آمد کے ساتھ ہی داغستان میں پہلی مرتبہ اذان کی صدا بلند ہوئی اور وہاں سب سے پہلی مسجد تعمیر کی گئی۔

یہ آج بھی روس کی قدیم ترین مسجد سمجھی جاتی ہے۔ یہ شہر دربند میں واقع ہے، جسے صحابۂ کرام نے ’باب الابواب‘ کا نام دیا تھا۔ اسی مقام سے شمالی قفقاز کے عوام میں اسلام پھیلنا شروع ہوا۔

تاتاروں کا اسلام قبول کرنا

دوسرا اہم مرحلہ وولگا کے کنارے آباد تاتاروں کے اسلام قبول کرنے سے متعلق ہے۔

یہ واقعہ 922 عیسوی میں پیش آیا، جب عباسی خلیفہ کے سفیر احمد بن فضلان تاتار سرزمین پر پہنچے۔ احمد بن فضلان صرف سفارت کار ہی نہیں بلکہ شاعر اور مؤرخ بھی تھے۔

تاتاروں اور روسی علاقوں کے سفر کے بعد انہوں نے ایک نہایت اہم تاریخی دستاویز چھوڑی، جو ’رسالہ‘ یا  ’رحلۃ ابن فضلان‘ کے نام سے معروف ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہالی وڈ فلم سازوں نے بھی احمد بن فضلان کی شخصیت سے استفادہ کیا ہے۔ 

فلم ’The 13th Warrior‘ اسی کردار سے متاثر تھی۔ یہ فلم اسکینڈینیوین داستانوں پر مبنی تھی، جن میں وائکنگ جنگجوؤں اور دیو ہیکل مخلوقات کی لڑائی دکھائی گئی اور بالآخر مسلمان جنگجو احمد بن فضلان ان کے ساتھ شامل ہوکر فتح میں مدد دیتے ہیں۔  اس کردار کو اداکار انتونیو بینڈیراس نے نبھایا تھا۔

داغستان میں پہلی جامعہ

تیسرا مرحلہ سلجوقی دور کے عظیم وزیر نظام الملک طوسی سے متعلق ہے، جنہوں نے 1075 میں بغداد کی مشہور نظامیہ درسگاہ کی ایک شاخ داغستان کے پہاڑی علاقوں میں قائم کی۔

داغستانی تاریخی روایات کے مطابق یہ ادارہ یورپ کی پہلی کلاسیکی جامعہ شمار ہوتا ہے، کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے داغستان یورپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

آج اسی نظامیہ جامعہ کو روس کی پہلی یونیورسٹی قرار دیا جاتا ہے۔

چرکسی ممالیک اور مسلم اثرورسوخ

قفقاز اور تاتار
علاقوں کے باشندوں
نے بہت ابتدائی
دور میں اسلام
قبول کرلیا تھا

روس کے مسلمانوں کی تاریخ میں چودہویں سے سولہویں صدی کا دور بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
اسی زمانے میں چرکس نسل سے تعلق رکھنے والے ممالیک، جو شمالی قفقاز کی سب سے بڑی نسلی برادریوں میں شمار ہوتے ہیں، مصر میں ایک طاقتور قوت بن کر ابھرے۔
چرکسی ممالیک سلطنت نے 1382 سے 1517 تک مصر پر عملاً حکمرانی کی۔ انہوں نے سیاسی زندگی میں کلیدی کردار ادا کیا، اعلیٰ حکومتی عہدے سنبھالے اور خطے کا دفاع کیا، یہاں تک کہ صلیبی حملہ آوروں کے خلاف بھی صف آرا رہے۔

چرکسی ممالیک حکمران اشرافیہ کی بنیاد بنے اور عرب دنیا کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑ گئے۔

مکہ مکرمہ کی جانب ابتدائی سفر

یہ مختصر تاریخی جائزہ واضح کرتا ہے کہ قفقاز اور تاتار علاقوں کے باشندوں نے بہت ابتدائی دور میں اسلام قبول کرلیا تھا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد ان لوگوں نے مکہ مکرمہ کے حج کا سفر بھی شروع کردیا۔ اس دور میں مسلمان آذربائیجان اور خراسان کے راستے پیدل یا گھوڑوں پر سوار ہوکر جزیرۂ عرب تک پہنچتے تھے۔

یہ طویل سفر بعض اوقات کئی ماہ اور کبھی کئی برسوں پر محیط ہوتا تھا۔

روسی زاروں (روسی زبان میں زار  کا مطلب مطلق العنان شہنشاہ یا بادشاہ ہے۔) کی فتوحات کے بعد سولہویں صدی میں تاتار علاقے روسی سلطنت میں شامل ہوئے، جبکہ شمالی قفقاز کے مسلم خطے انیسویں صدی میں روس کے قبضے میں آئے۔ 

اس کے بعد زار حکومت نے مسلمانوں کی مذہبی زندگی پر کنٹرول قائم کرنا شروع کیا۔

ابتدائی صدیوں میں روسی حکمران مسلمانوں کو زبردستی عیسائیت قبول کروانے کی کوشش کرتے رہے، مگر مسلمانوں نے وسیع پیمانے پر مزاحمت کی۔ 

بعد ازاں حکومت نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ مسلمانوں کو اسلام پر عمل اور بنیادی مذہبی شعائر کی ادائیگی کا حق دینا ناگزیر ہے۔

سرکاری نگرانی سے مکمل پابندی تک

اسی دور میں روسی حکومت نے حج کو منظم کرنے کے لیے ایک سرکاری نظام قائم کیا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں روس سے حج کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

اس زمانے میں روسی مسلم علاقوں سے حج کا سفر 6 ماہ سے لے کر ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے پر مشتمل ہوتا تھا۔

حجاج گھوڑوں، اونٹوں یا پیدل سفر کرتے ہوئے بحیرۂ اسود اور بحیرۂ کیسپین کی بندرگاہوں تک پہنچتے، جہاں سے بھاپ کے جہازوں کے ذریعے آگے روانہ ہوتے تھے۔

انیسویں صدی کے اواخر میں روسی سلطنت نے اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ ہوکر حج پر نگرانی سخت کردی۔

1880ء اور 1890ء کی دہائیوں میں روسی حکومت نے حج کوٹہ سسٹم نافذ کیا، ٹکٹوں کے اجرا، قونصل خانوں کے قیام اور حجاج کے لیے طبی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات کیے۔

اسی عرصے میں تاتار علاقوں کے صاحبِ حیثیت مسلمان تاجروں نے روس سے جزیرۂ عرب تک کے راستوں پر اوقاف، ہوٹل اور سرائے قائم کرنا شروع کیے۔

اسٹالن کا دور اور مذہبی جبر

اسٹالن کے
مذہب دشمن
دور میں حج
مکمل طور پر
ناممکن ہوگیا تھا

1917ء میں زار حکومت کے خاتمے اور اشتراکی اقتدار کے قیام کے بعد روسی مسلمانوں پر ایک ہولناک دور مسلط ہوگیا۔
جوزف اسٹالن کی قیادت میں نئی کمیونسٹ حکومت نے ملک بھر میں مذہب کے خلاف مہم چلائی اور مسلمانوں، عیسائیوں و یہودیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خدا کو مکمل طور پر فراموش کردیں۔
اس دوران بے شمار مسلم رہنماؤں، ائمہ اور عام اہلِ ایمان کو قتل کیا گیا، کئی افراد قید کیے گئے، جبکہ قفقاز کے بعض باشندوں کو وسطی ایشیا جلاوطن کردیا گیا۔

اسٹالن کے مذہب دشمن دور میں حج مکمل طور پر ناممکن ہوگیا تھا۔ ملکی سرحدیں بند کردی گئیں، مسلمانوں کو سخت جبر کا سامنا کرنا پڑا، متعدد مساجد منہدم کردی گئیں اور قرآنِ مجید سمیت اسلامی کتابوں کو بڑے پیمانے پر نذرِ آتش کیا گیا۔

صورتِ حال میں تبدیلی صرف 1940ء  اور 1950ء  کی دہائی کے اواخر میں آنا شروع ہوئی، جب ’کونسل برائے مذہبی امور‘ قائم کی گئی۔

اس کے باوجود صرف چند سرکاری وفود کو، جن میں ائمہ اور مفتیان شامل ہوتے تھے، حج کی اجازت دی جاتی تھی اور یہ وفود مکمل طور پر کمیونسٹ پارٹی اور سوویت خفیہ ادارے ’کے جی بی‘ کے کنٹرول میں ہوتے تھے۔

یہاں تک کہ روس میں کمیونسٹ نظام کے خاتمے تک ہر حج وفد کے ساتھ احرام میں ملبوس کے جی بی افسر بھی موجود ہوتے تھے، تاکہ روسی مسلمان عرب مسلمانوں کے اثر میں نہ آئیں یا کسی غیرملکی انٹیلی جنس نیٹ ورک سے متاثر نہ ہوں۔

روس میں حج کی بحالی

1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے اور کمیونسٹ نظام کے انہدام کے بعد روس کی سرحدیں دوبارہ کھل گئیں اور مسلمانوں میں حج کی خواہش نئے سرے سے بیدار ہوئی۔

ابتدائی روسی حجاج کا استقبال اس جوش و خروش سے کیا گیا جیسے وہ کسی نامعلوم دنیا کی جانب روانہ ہونے والے خلانورد ہوں۔

سن 2000ء کے بعد سے ’ریاستی حج کونسل‘ روس میں حج امور کی نگرانی کر رہی ہے۔ یہ کونسل سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ہر سال روس کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے حج کوٹے تقسیم کرتی ہے۔

ان برسوں میں حج کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا، یہاں تک کہ روسی پارلیمان ’دوما‘ کے مسلمان ارکان اور اسلامی جمہوریاؤں کے رہنما، جیسے چیچنیا کے رمضان قدیروف اور تاتارستان کے رستم مننی خانوف بھی باقاعدگی سے مکہ مکرمہ جانے لگے۔

آج روس میں مسلمانوں کے لیے حج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان اور تیز رفتار ہوچکا ہے۔

ہر سال ہزاروں روسی مسلمان ماسکو، داغستان، چیچنیا اور تاتارستان سے خصوصی چارٹر پروازوں کے ذریعے چند گھنٹوں میں سعودی عرب پہنچتے ہیں۔

اس وقت روس سے سالانہ تقریباً 25 ہزار افراد حج ادا کرتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد عمرے کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں باقاعدگی سے حج ادا کرنے والے مشہور روسی مسلمانوں میں سب سے نمایاں نام ایک بار خبیب نورماگومیدوف کا ہے۔

رسلان قربانوف کی یہ تحقیق الجزیرہ پر شائع ہوئی ہے۔ رسلان روسی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کے سینئر محقق اور مسلم اسکالرز کی بین الاقوامی یونین کے رکن ہیں۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے