اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

ایران پر محدود حملے یا بڑی جنگ؟ واشنگٹن میں مشاورت جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران جنگ
ٹرمپ اور شی ملاقات ایران بحران پر کوئی بڑی پیش رفت نہ لا سکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے باوجود ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
واشنگٹن میں ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ایران نے بھی اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشے کے تحت مشترکہ تیاریاں کر رہے ہیں، ادھر پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز، معاشی دباؤ اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر دونوں فریق اب بھی سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے باوجود ایسا دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ جاری مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اگرچہ چینی صدر نے سفارتی کوششوں کی حمایت اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم ایرانی معاملے میں کسی حقیقی پیش رفت کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ 

باخبر ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے کئی عہدیدار چین میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کے مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے تاکہ ایران کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی طے کی جا سکے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اب وائٹ ہاؤس کے اندر یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی ہی تنازع ختم کرنے کا مؤثر راستہ ہو سکتی ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں

واشنگٹن میں اختلافات

ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر ایران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ 

بعض حکام، جن میں پینٹاگون کے عہدیدار بھی شامل ہیں، سخت مؤقف اپنانے اور ایران پر محدود فوجی حملوں کے حق میں ہیں تاکہ تہران پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور اسے مذاکرات میں رعایت دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

دوسری جانب کچھ حلقے سفارتی راستہ جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ 

خود ٹرمپ بھی حالیہ ہفتوں میں اسی مؤقف کے قریب دکھائی دیئے، انہیں امید تھی کہ براہِ راست مذاکرات اور معاشی دباؤ ایران کو کسی معاہدے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

تاہم اپریل میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے ایران نے اپنی شرائط میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی، جس کے باعث امریکی صدر کی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات سے ناخوش ہیں، جنہوں نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

65465456 1
آبنائے ہرمز سے وائٹ ہاؤس تک ہلچل، ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز (فوٹو: العربیہ)

اسی طرح ایرانی حکام کے حالیہ بیانات اور تہران کے ردعمل نے بھی واشنگٹن میں یہ شکوک پیدا کیے ہیں کہ آیا ایران واقعی کسی معاہدے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان آنا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشن موجود ہیں تاہم ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری رہی ہے۔

ایران سے
مذاکرات ناکام؟
ٹرمپ کے سامنے
جنگ یا ڈیل کا
فیصلہ کن مرحلہ

ایرانی فوجی تیاری

ادھر ایران نے بھی اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی نور نیوز کے مطابق ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے تمام آپریشنل سطحوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ امریکہ کی کسی بھی ’غلط اندازے‘ کا جواب خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات پر وسیع اور بیک وقت حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایران نے ممکنہ اہداف کی فہرست بھی وسیع کر دی ہے، اور اب ایسے مقامات بھی شامل کیے گئے ہیں جو پہلے ہدفی فہرست میں شامل نہیں تھے۔

پاکستان کی ثالثی

دوسری جانب پاکستان نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ 

اسلام آباد نے اپنے وزیر داخلہ کو تہران بھیجا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران دونوں کو مذاکرات میں لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ثالثی کا عمل پوری سنجیدگی سے جاری ہے۔

اسرائیلی تیاریوں میں تیزی

اسی دوران اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مکمل رابطے میں رہتے ہوئے جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے پیش نظر وسیع فوجی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کی ثالثی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پریس کانفرنس
تہران پر حملے کا خطرہ بڑھ گیا، امریکہ اور اسرائیل ہائی الرٹ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق تل ابیب میں یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکانات تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کوشش کر رہا ہے کہ بحران کو 11 جون کو شروع ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ تک کھینچا جائے تاکہ امریکہ پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

جنگ دوبارہ
شروع ہونے کا
امکان 50 فیصد
تک پہنچ گیا

محدود حملوں کا امکان

اسرائیلی اندازوں کے مطابق ٹرمپ ممکنہ طور پر محدود حملوں پر اکتفا کر سکتے ہیں، جن میں بجلی گھروں، پلوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح زمینی کارروائی کا امکان بھی زیر غور ہے، اگرچہ ٹرمپ اس آپشن کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ممکنہ منصوبوں میں زیر زمین ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرنے کی کارروائی، خارک آئل جزیرے پر کنٹرول، یا آبنائے ہرمز میں پھنسی جہاز رانی کے لیے دوبارہ ’آپریشن فریڈم‘ شروع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک بات تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ برقرار رکھا جائے گا بلکہ ممکنہ طور پر اسے مزید سخت بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ تہران پر معاشی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے بھی حالیہ دنوں میں سکیورٹی مشاورتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ تہران اب بھی اپنی بنیادی شرائط پر قائم ہے، جن میں بحری محاصرے کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے نیا نظام، اور یورینیم افزودگی کے حق کو برقرار رکھنا شامل ہے، چاہے اسے محدود مدت کے لیے منجمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی جائے۔