امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے باوجود ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
واشنگٹن میں ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ایران نے بھی اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشے کے تحت مشترکہ تیاریاں کر رہے ہیں، ادھر پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز، معاشی دباؤ اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر دونوں فریق اب بھی سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔
ادھر ایران نے بھی اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی نور نیوز کے مطابق ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے تمام آپریشنل سطحوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ امریکہ کی کسی بھی ’غلط اندازے‘ کا جواب خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات پر وسیع اور بیک وقت حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایران نے ممکنہ اہداف کی فہرست بھی وسیع کر دی ہے، اور اب ایسے مقامات بھی شامل کیے گئے ہیں جو پہلے ہدفی فہرست میں شامل نہیں تھے۔
اسرائیلی اندازوں کے مطابق ٹرمپ ممکنہ طور پر محدود حملوں پر اکتفا کر سکتے ہیں، جن میں بجلی گھروں، پلوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح زمینی کارروائی کا امکان بھی زیر غور ہے، اگرچہ ٹرمپ اس آپشن کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ممکنہ منصوبوں میں زیر زمین ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرنے کی کارروائی، خارک آئل جزیرے پر کنٹرول، یا آبنائے ہرمز میں پھنسی جہاز رانی کے لیے دوبارہ ’آپریشن فریڈم‘ شروع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک بات تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ برقرار رکھا جائے گا بلکہ ممکنہ طور پر اسے مزید سخت بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ تہران پر معاشی دباؤ بڑھایا جا سکے۔