اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کے بعد پوٹن کی بیجنگ انٹری، دنیا کی نظریں چین پر جم گئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پیوٹن دورہ چین
روسی صدر پیوٹن 19 مئی کو چین پہنچیں گے

کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن 19 اور 20 مئی کو چین کا اہم سرکاری دورہ کریں گے، جسے موجودہ عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ 

یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب عالمی سطح پر امریکہ، چین اور روس کے درمیان سفارتی و اقتصادی صف بندیاں تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں۔

روسی صدر کا یہ دورہ چینی صدر کی خصوصی دعوت پر ہوگا، جہاں دونوں رہنما نہ صرف دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے بلکہ یوکرین جنگ، عالمی تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بین الاقوامی توازنِ قوت جیسے حساس موضوعات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

مزید پڑھیں

کریملن کے مطابق صدر پوٹن اپنے دورے کے دوران چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں روس اور چین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، صنعتی تعاون اور مقامی کرنسیوں میں لین دین بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی پابندیوں کے بعد روس نے اپنی اقتصادی اور سفارتی ترجیحات کا بڑا حصہ چین کی جانب منتقل کردیا ہے، جبکہ

 چین بھی امریکہ کے ساتھ بڑھتی تجارتی اور ٹیکنالوجی کشیدگی کے دوران ماسکو کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

اس دورے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ روس اور چین کے درمیان حسنِ ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے تاریخی معاہدے کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر ہورہا ہے، جسے دونوں ممالک اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔

کریملن نے بتایا کہ مذاکرات کے بعد کئی اہم مشترکہ دستاویزات اور بین الحکومتی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جن میں اقتصادی تعاون، توانائی، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی اور علاقائی شراکت داری سے متعلق معاہدے شامل ہوسکتے ہیں۔

یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے چند دن بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث عالمی سفارتی حلقوں میں اسے بڑی جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ 

مبصرین کے مطابق بیجنگ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔