اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

امریکہ یا چین؟ دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمتِ عملی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ چین خلیج کشمکش
خلیج اب امریکہ اور چین کی عالمی کشمکش کا مرکزی میدان بنتا جا رہا ہے
Picture of عبد اللہ بندر العتیبی

عبد اللہ بندر العتیبی

قطر یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے اسسٹنٹ پروفیسر

امریکہ اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے نے خلیجی ممالک کو نئی اسٹریٹجک آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
خلیج ایک طرف امریکی سکیورٹی پر انحصار کرتا ہے جبکہ دوسری جانب اس کی معیشت تیزی سے چین اور ایشیائی منڈیوں سے جڑ رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اب کسی ایک طاقت کا انتخاب کرنے کے بجائے متوازن پالیسی اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سلامتی، تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے مفادات کو بیک وقت محفوظ رکھا جاسکے۔

امریکہ اور چین کا تعلق اب خلیج سے دور کوئی عالمی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ خلیجی ممالک کی سلامتی، معیشت، توانائی، تجارت اور ٹیکنالوجی سے براہِ راست جڑ چکا ہے۔ 

خلیج آج ایک ایسے عالمی نظام کے مرکز میں کھڑا ہے جہاں اس کی سلامتی بڑی حد تک امریکہ سے وابستہ ہے، جبکہ اس کی معیشت تیزی سے ایشیا خصوصاً چین کے ساتھ جڑ رہی ہے۔ 

دنیا کی بڑی تجارتی گزرگاہیں، تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت بھی خلیجی پانیوں اور بندرگاہوں سے گزرتی ہے، اسی لیے خطے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

خلیجی ممالک کے سامنے اب اصل سوال یہ نہیں کہ وہ واشنگٹن کا ساتھ دیں یا بیجنگ کا، بلکہ سوال یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی اور تکنیکی تعاون کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ 

یہی آنے والے برسوں میں خلیج کی سب سے بڑی سفارتی اور اسٹریٹجک آزمائش ہوگی۔

مزید پڑھیں

امریکہ اور چین کے درمیان موجودہ مقابلہ پرانی سرد جنگ جیسا نہیں۔ 

ماضی میں دنیا دو واضح نظریاتی بلاکس میں تقسیم تھی، مگر آج دونوں طاقتیں شدید مقابلے کے باوجود ایک دوسرے سے معاشی طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ 

امریکہ چین کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اہم سپلائی چینز پر غلبہ حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے لیکن وہ چینی معیشت سے مکمل

 علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب چین عالمی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے مگر اسے بھی عالمی استحکام، توانائی اور کھلی تجارت کی ضرورت ہے۔

یہ صورتحال خلیج کے لیے خطرات اور مواقع دونوں پیدا کرتی ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ خطہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان دباؤ اور مقابلے کا میدان بن جائے، خصوصاً ٹیکنالوجی، بندرگاہوں، توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں لیکن موقع یہ ہے کہ خلیجی ممالک اس عالمی مقابلے کو اپنی اسٹریٹجک خودمختاری مضبوط بنانے کے لیے استعمال کریں۔

ChatGPT Image 16 مايو 2026، 01 07 21 م
خلیجی ممالک سکیورٹی کے لیے واشنگٹن جبکہ معیشت کے لیے بیجنگ پر انحصار بڑھا رہے ہیں

یہ صورتحال خلیج کے لیے خطرات اور مواقع دونوں پیدا کرتی ہے۔ 

تاریخی طور پر خلیج نے امریکہ کو سب سے بڑا سکیورٹی ضامن سمجھا ہے۔ 

امریکی فوجی موجودگی، دفاعی نظام، بحری راستوں کا تحفظ اور ایران کے مقابلے میں دفاعی تعاون نے واشنگٹن کو خلیجی سلامتی کا اہم ستون بنایا مگر اب صرف یہی تعلق خطے کی پوری تصویر بیان نہیں کرتا۔

چین اب خلیجی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنتا جا رہا ہے۔ 

وہ خلیجی تیل کا بڑا خریدار ہے اور بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 

اسی لیے خلیجی ممالک چین کو اب کسی دور دراز طاقت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے معاشی مستقبل کے اہم حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

امریکہ، چین کو
جدید ٹیکنالوجی
اور عالمی سپلائی
چینز پر غلبہ
حاصل کرنے سے
روکنا چاہتا ہے

یہیں سے نئی خلیجی پالیسی سامنے آتی ہے۔ سلامتی کے میدان میں امریکہ اب بھی اہم ہے، معاشی طور پر جھکاؤ مشرق کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ سفارتی سطح پر خلیجی ممالک بڑی طاقتوں کے درمیان اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ کمزوری یا ابہام نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی نظام کی حقیقت پسندانہ سمجھ ہے۔تاہم یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔
امریکہ اپنے اتحادیوں پر دباؤ بڑھاتا رہے گا کہ وہ حساس شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون محدود کریں، خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بندرگاہوں اور دوہری استعمال والی ٹیکنالوجی میں۔ واشنگٹن کے نزدیک ٹیکنالوجی اب قومی سلامتی کا حصہ بن چکی ہے۔
دوسری طرف خلیجی ممالک سمجھتے ہیں کہ معاشی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی اور نئی صنعتوں کی تعمیر عالمی سیاسی کشیدگی کا انتظار نہیں کرسکتی۔

اسی لیے خلیج کو ایک محتاط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو وسعت دی جائے مگر ساتھ ہی ایسے سکیورٹی ضوابط بھی قائم کیے جائیں جو امریکہ کے ساتھ تعلقات کو متاثر نہ کریں۔

چین بھی خلیج میں امریکہ کی عسکری جگہ لینے کی کوشش نہیں کررہا۔ 

بیجنگ وہ سکیورٹی بوجھ اٹھانا نہیں چاہتا جو واشنگٹن کئی دہائیوں سے اٹھاتا آیا ہے۔ چین دراصل ایک مستحکم ماحول چاہتا ہے جہاں توانائی اور تجارت بلا رکاوٹ جاری رہے اور اسے طویل المدتی معاشی فوائد حاصل ہوں۔

ٹرمپ شی ملاقات
چین خلیج میں فوجی طاقت نہیں بلکہ معاشی اور تجارتی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے

یہی وجہ ہے کہ چین خود کو فوجی طاقت کے بجائے معاشی اور ترقیاتی شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم چین پر حد سے زیادہ معاشی انحصار بھی خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ معاشی اثر و رسوخ وقت کے ساتھ سیاسی اثر میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

آج مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیج صرف تیل پیدا کرنے والا خطہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی ایک اہم جغرافیائی سیاسی گزرگاہ بن چکا ہے۔ 

آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسی سمندری راہداریوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ 

اگر ان راستوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے بلکہ چین، یورپ، امریکہ، بھارت اور پوری عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے۔

یہ صورتحال خلیجی ممالک کو ایک اہم اسٹریٹجک طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔ 

ان کے پاس توانائی، بندرگاہیں، خودمختار سرمایہ فنڈز، اہم جغرافیائی محل وقوع اور عالمی طاقتوں کے درمیان ثالثی کی صلاحیت موجود ہے۔ 

یہی عناصر خلیج کو صرف ایک متاثرہ خطے کے بجائے عالمی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع دیتے ہیں۔

آبنائے ہرمز
اور باب المندب
عالمی معیشت کی
شہ رگ بن چکے ہیں

مگر اس کے لیے زیادہ خلیجی ہم آہنگی ضروری ہوگی۔
ہر ملک الگ الگ امریکہ یا چین کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے، لیکن مشترکہ خلیجی مؤقف توانائی، ٹیکنالوجی، بحری سلامتی اور علاقائی استحکام جیسے معاملات میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
ایران کا مسئلہ اس پیچیدہ صورتحال کی واضح مثال ہے۔
چین ایران پر معاشی اثر رکھتا ہے، امریکہ کے پاس عسکری اور مالی دباؤ کے بڑے ذرائع موجود ہیں، جبکہ خلیجی ممالک جغرافیائی طور پر کسی بھی ممکنہ تصعید کے مرکز میں واقع ہیں۔
اسی لیے خلیج چاہتا ہے کہ اس کے امن و سلامتی سے متعلق فیصلے بیرونی طاقتیں اکیلے نہ کریں بلکہ خطے کے ممالک بھی ان میں شریک ہوں۔
خلیجی ممالک اپنی الگ شناخت اور بیانیہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وہ نہ امریکہ کے خلاف کھڑا ہونا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی چینی مخالف محاذ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
ان کی ترجیح استحکام، آزاد تجارت، توانائی کی محفوظ ترسیل، ترقی کا تحفظ اور خطے کو مستقل جنگی ماحول سے بچانا ہے۔

آخرکار امریکہ اور چین کا مقابلہ آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے مگر خلیج کے پاس کسی ایک فریق کا مکمل انتخاب کرنے کی گنجائش نہیں۔ 

اسے ایک متوازن اور کثیرالجہتی پالیسی اپنانا ہوگی جس میں امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعاون برقرار رکھا جائے، چین کے ساتھ معاشی تعلقات مضبوط کیے جائیں، دفاعی خود انحصاری بڑھائی جائے اور خلیجی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

آنے والے دور میں خلیجی طاقت صرف تیل اور دولت سے نہیں ناپی جائے گی بلکہ اس بات سے طے ہوگی کہ خلیجی ممالک عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے مفادات کا توازن کس حد تک کامیابی سے برقرار رکھتے ہیں۔

بشکریہ: الجزیرہ نیٹ ورک