کاکسس بازار کے پناہ گزین کیمپوں میں 25 اگست صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ جلتے گھروں، بچھڑتے خاندانوں اور سرحد کی جانب بھاگتے انسانوں کی یاد ہے، جن کی زندگیاں 2017ء میں اچانک بدل گئی تھیں۔
مزید پڑھیں
آج 9 سال گزر چکے ہیں، مگر روہنگیا اب بھی اسی بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ہم گھر کب لوٹیں گے؟
اسی سوال کے ساتھ آج بنگلا دیش کے کیمپوں میں ہزاروں روہنگیا سڑکوں اور کھلے میدانوں میں نکل آئے۔ اُن کا مطالبہ صرف زیادہ راشن یا بہتر خیمے نہیں تھے، بلکہ وہ انصاف، عزت، بنیادی حقوق اور میانمار میں محفوظ واپسی چاہتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق احتجاج کرنے والوں کا پیغام واضح تھا کہ دنیا روہنگیا بحران کو فراموش نہ کرے۔
📊
فیکٹ باکس: 9 سال بعد روہنگیا کہاں کھڑے ہیں؟
+
فیکٹ باکس: 9 سال بعد روہنگیا کہاں کھڑے ہیں؟
25 اگست 2017 کے خونی کریک ڈاؤن کے نو برس بعد بھی روہنگیا پناہ گزینوں کی قسمت غیر یقینی کی دلدل میں پھنسی ہے۔ عارضی پناہ گاہیں مستقل قید خانے بن چکی ہیں اور محفوظ واپسی کا خواب اب تک ادھورا ہے۔
12 لاکھ سے زائد پناہ گزین
بنگلا دیش کے کاکسس بازار کیمپوں میں روہنگیا آبادی 1.2 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جہاں خوراک اور رہائش کا دارومدار صرف غیر ملکی امداد پر ہے۔
امدادی بجٹ میں 26% کٹوتی
اقوام متحدہ کی سالانہ امدادی اپیل 71.5 کروڑ ڈالر تک محدود کر دی گئی ہے، جس کے باعث طبی سہولیات اور راشن میں خطرناک کمی واقع ہوئی ہے۔
سمندری راستوں پر 820+ اموات
مستقبل سے مایوس ہو کر سمندری لہروں پر خطرناک سفر کرنے والے سینکڑوں معصوم افراد اسمگلروں کی بوسیدہ کشتیوں میں جان گنوا چکے ہیں۔
بنیادی شہریت و حقوق سے محرومی
میانمار میں راکھین ریاست کے بگڑتے حالات اور اراکان آرمی کے پرتشدد مظالم نے باعزت اور محفوظ واپسی کے تمام راستے مسدود کر رکھے ہیں۔
9 سال پہلے وہ رات جس نے سب کچھ بدل دیا
25 اگست 2017ء کے بعد میانمار کی ریاست راکھین، جسے روہنگیا اراکان بھی کہتے ہیں، میں فوجی کارروائی نے ایک کرب ناک انسانی المیے کو جنم دیا۔
اس المناک واقعے میں بستیاں جلیں، لوگ مارے گئے، لاکھوں جان بچانے کے لیے بنگلا دیش کی طرف نکل پڑے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس مہم میں ہزاروں روہنگیا مرد، خواتین اور بچے مارے گئے، سیکڑوں دیہات تباہ ہوئے اور کم از کم 7 لاکھ افراد بنگلا دیش فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔
روہنگیا مسلمانوں کے المیے کو 9 سال مکمل ہونے پر 12 لاکھ سے زائد پناہ گزین بنگلا دیش کے کیمپوں میں عالمی بے حسی، فنڈنگ کی شدید کمی اور سمندری خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کاکسس بازار میں پناہ گزینوں کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جن میں ڈیڑھ لاکھ نئے پناہ گزین بھی شامل ہیں۔
اگست 2017 کے کرب ناک فوجی آپریشن کے بعد سے ایک پوری نسل کیمپوں کی تاریک فضا میں جوان ہو رہی ہے۔
کیمپوں میں مایوسی کے باعث خستہ حال کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کے دوران سینکڑوں روہنگیا لقمہ اجل بن گئے۔
اقوام متحدہ نے 71.5 کروڑ ڈالر مانگے ہیں، جس کی قلت سے ہر 3 میں سے ایک پناہ گزین فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
آج 9 سال بعد بھی ان مظالم کے لیے جواب دہی کا سوال پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔
اس منظرنامے میں 32 سالہ پناہ گزین سبیکونہار کی کہانی اُسی اجتماعی صدمے کی تصویر بن کر سامنے آتی ہے۔
وہ 2017ء میں بنگلا دیش پہنچی تھیں۔ برسوں گزر گئے، مگر رشتے داروں کے کھونے، گھروں کی تباہی اور بے دخلی کی یادیں آج بھی ان کے ساتھ ہیں۔
ایک پوری نسل کیمپوں میں جوان ہوگئی
▼
ایک پوری نسل کیمپوں میں جوان ہوگئی
🧒 1۔ شناخت اور وطن سے محروم بچپن
ہزاروں بچے ان کیمپوں کے تنگ خیموں میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے، جنہوں نے میانمار کو کبھی نہیں دیکھا اور وہ اپنے آبائی وطن کو صرف والدین کی زبانی کہانیوں سے جانتے ہیں۔
📚 2۔ باضابطہ تعلیم اور روزگار کی بندش
معیاری تعلیمی اداروں اور قانونی ملازمت کے مواقع نہ ہونے سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مایوسی اور بے مقصد مستقبل کا شکار ہو رہی ہے۔
🏷️ 3۔ پیدائشی پناہ گزین کا مستقل ٹیگ
9 سال گزرنے کے بعد یہ بحران عارضی ریلیف کیمپ سے نکل کر ایک مستقل سماجی المیہ بن چکا ہے جہاں پوری نسل قانونی شہریت کے حق سے محروم جوان ہو رہی ہے۔
سماجی المیہ: روہنگیا نوجوانوں کا سب سے بڑا درد یہ ہے کہ وہ بغیر کسی قانونی حیثیت، پاسپورٹ یا ریاست کے دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔
پناہ تو مل گئی، زندگی نہ ملی!
بنگلا دیش نے اُس وقت سرحد کھول کر روہنگیاؤں کو فوری پناہ دی، مگر یہ عارضی پناہ گاہیں اب مستقل بستیوں جیسی دکھائی دینے لگی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق بنگلا دیش میں روہنگیاؤں کی تعداد اب 10 لاکھ سے کہیں زیادہ ہے اور بیشتر کا انحصار خوراک، پانی، رہائش اور علاج کے لیے انسانی امداد پر ہے۔
حالیہ لڑائی نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا اندازہ ہے کہ 2024ء کے وسط سے مزید تقریباً ڈیڑھ لاکھ روہنگیا بنگلا دیش پہنچے ہیں، جس سے وہاں پناہ لینے والوں کی مجموعی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس طرح ایک عارضی انسانی بحران اب پوری نسل کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جہاں بہت سے بچے کیمپوں ہی میں پیدا ہوئے، وہیں بڑے ہوئے اور میانمار کو صرف والدین کی کہانیوں سے جانتے ہیں۔
روہنگیا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک نسل پناہ گزین کی شناخت کے ساتھ ہی جوان ہو رہی ہے۔
⚠️
امداد کم ہوئی تو روہنگیاؤں کا کیا ہوگا؟
فنڈنگ بحران
امداد کم ہوئی تو روہنگیاؤں کا کیا ہوگا؟
🍞 ہر 3 میں سے 1 پناہ گزین فاقہ کشی کے دہانے پر
امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سال کے آخری مہینوں میں فنڈز کی قلت کے باعث کیمپوں میں خوراک کا شدید قحط پیدا ہو سکتا ہے، جس سے بچوں اور بزرگوں کی بقا کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔
👩 خواتین اور بچیوں کے حفاظتی نیٹ ورک میں کمی
یو این پی ایف اے (UNFPA) کے مطابق بجٹ کٹوتی سے تشدد کے خلاف کام کرنے والے 50 فیصد سے زائد کیس ورکرز اور محفوظ پناہ گاہیں بند ہو چکی ہیں۔
🩺 بنیادی ادویات اور علاج کی معطلی
طبی کلینکس میں لائف سیونگ اینٹی بائیوٹکس، ویکسینز اور غذائی سپلیمنٹس کی ترسیل رکنے سے وبائی امراض پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
امداد کا سہارا بھی کمزور
روہنگیا بحران کا سب سے تشویش ناک نیا پہلو عالمی امداد میں کمی ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے 2026ء میں روہنگیا پناہ گزینوں اور میزبان بنگلا دیشی آبادی کی انتہائی ضروریات کے لیے 71 کروڑ 5 لاکھ ڈالر مانگے۔
یہ اپیل 2025ء کے مقابلے میں 26 فیصد ہے اور اسے صرف جان بچانے والی بنیادی ضروریات تک محدود کیا گیا۔
اس کمی کا مطلب محض کسی بجٹ کی چند سطریں کم ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات خوراک، علاج، تعلیم، خواتین کے تحفظ اور بچوں کی غذائیت تک پہنچ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کے لیے تشدد سے تحفظ کے کیس منیجرز کی تعداد فنڈنگ بحران کے باعث نصف سے بھی زیادہ کم ہو چکی ہے۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں امدادی اداروں کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ ستمبر سے دسمبر کے درمیان ہر 3 میں سے ایک روہنگیا پناہ گزین کو خوراک کے سنگین بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
🚪
گھر واپسی اتنی مشکل کیوں؟
◀
گھر واپسی اتنی مشکل کیوں؟
🪖 میانمار فوج اور اراکان آرمی کا گھیراؤ
راکھین ریاست میں خانہ جنگی شدت اختیار کر چکی ہے؛ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دونوں مسلح فریقین روہنگیاؤں کے خلاف جبری مشقت، حراست اور مظالم میں ملوث ہیں۔
📜 شہریت اور قانونی تحفظ کی عدم فراہمی
روہنگیاؤں کا مطالبہ صرف سرحد پار کرنا نہیں بلکہ شناختی دستاویزات، بنیادی انسانی حقوق اور اپنی آبائی زمینوں پر بحالی کی بین الاقوامی ضمانت ہے۔
بنیادی مسئلہ: 9 سال کی طویل سفارتی سرگرمیوں کے باوجود میانمار کی عسکری قیادت نے روہنگیا نسل کشی کے تدارک اور محفوظ واپسی کے لیے کوئی ٹھوس سیاسی لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔
میانمار میں واپسی کا راستہ کیوں بند ہے؟
مسئلے کا سب سے مشکل حصہ یہی ہے۔ روہنگیاؤں کی خواہش اپنے وطن واپس جانے کی ہے، مگر صرف سرحد پار کرکے چلے جانا ہی محفوظ واپسی نہیں ہے۔
روہنگیاؤں کے مطالبات میں شہریت، تحفظ، آزادانہ نقل و حرکت، بنیادی حقوق اور اپنے آبائی علاقوں میں واپس آباد ہونے کی ضمانت شامل ہے۔
9 برس کی سفارتی کوششوں کے باوجود اب تک بڑے پیمانے پر واپسی شروع نہیں ہو سکی ہے۔
مزید یہ کہ راکھین میں حالات پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ میانمار کی فوج کے ساتھ ساتھ اب اراکان آرمی بھی ایک بڑی طاقت بن چکی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے روہنگیاؤں کے خلاف جبری مشقت، حراست، تشدد، قتل اور نقل و حرکت پر پابندیوں سمیت سنگین زیادتیوں کے الزامات اراکان آرمی پر بھی عائد کیے ہیں۔
🌊
خشکی غیر محفوظ، سمندر میں موت کا خطرہ
خطرناک ہجرت
خشکی غیر محفوظ، سمندر میں موت کا خطرہ
مایوسی کا سفر
کیمپوں میں خوراک کی کمی اور بے روزگاری نے نوجوانوں کو ملائیشیا اور انڈونیشیا کی طرف غیر قانونی بحری سفر پر مجبور کیا۔
اسمگلنگ مافیا کا جال
انسانی اسمگلر کھٹارہ کشتیوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کو بھر کر بحیرہ انڈمان کے گہرے طوفانوں میں لاوارث چھوڑ دیتے ہیں۔
علاقائی ریسکیو کا فقدان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سمندر میں بڑھتی ہلاکتوں پر آسیان ممالک کے مابین مشترکہ امدادی آپریشنز کی اپیل کی ہے۔
الم ناک صورتحال: 2026 کے ابتدائی مہینوں میں 820 سے زائد روہنگیا کھلے سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہو چکے ہیں، جو اس بحران کو سمندری المیہ بھی بنا رہا ہے۔
خشکی محفوظ نہ رہے تو سمندر راستہ بنتا ہے
کیمپوں میں مستقبل کی غیر یقینی اور میانمار میں واپسی کے ناموافق حالات نے بہت سے روہنگیاؤں کو سمندر کے خطرناک راستوں کی طرف دھکیلا ہے۔
یہ سفر اکثر خستہ کشتیوں، اسمگلروں اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2026ء کے ابتدائی مہینوں ہی میں 820 سے زیادہ روہنگیا خطرناک سمندری سفر کے دوران جان سے جا چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سمندر میں روہنگیاؤں کی ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے علاقائی سرچ اینڈ ریسکیو تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔
🌐
دنیا روہنگیا کو کیوں بھولتی جارہی ہے؟
◀
دنیا روہنگیا کو کیوں بھولتی جارہی ہے؟
علاقائی و عالمی تنازعات کی بھرمار
غزہ، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں نے بین الاقوامی میڈیا اور ڈونر ممالک کی ترجیحات کو بدل دیا ہے جس سے روہنگیا بحران عالمی خبروں کے حاشیے پر چلا گیا۔
⚖️ بین الاقوامی جواب دہی میں بے عملی
عالمی عدالتوں کے احکامات کے باوجود میانمار کے فوجی جرنیلوں کے خلاف کوئی مؤثر پابندیاں یا تعزیری کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
انتونیو گوتریس کا پیغام: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے متنبہ کیا ہے کہ روہنگیا بحران کو فراموش کرنا خطے میں انسانی حقوق کے مکمل انہدام کے مترادف ہوگا؛ جب تک اس کا جامع سیاسی حل نہیں نکلتا، تب تک انسانیت اس المیے کے بوجھ تلے دبی رہے گی۔
دنیا روہنگیا کو فراموش نہ کرے: گوتریس کا پیغام
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا کو عالمی توجہ کے مرکز میں رکھا جائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔
ان کا زور اس مسئلے کے ایسے جامع سیاسی حل پر ہے جو میانمار کے بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرے اور روہنگیاؤں کے بنیادی حقوق یقینی بنائے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ نے میانمار میں انسانی حقوق کی صورت حال کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں فوج کے ساتھ اراکان آرمی کی جانب سے بھی روہنگیاؤں کے خلاف قتل، تشدد، جبری مشقت، حراست اور بے دخلی جیسی زیادتیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
9 سال بعد روہنگیا بحران اب دنیا کی شہ سرخیوں میں پہلے جیسی جگہ نہیں بنا پاتا، لیکن کاکسس بازار کے کیمپوں میں وقت رُکا نہیں ہے۔ وہاں بچے بڑے ہو رہے ہیں، بوڑھے اپنے وطن دیکھنے کی امید لیے دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں اور امداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
روہنگیا کا مسئلہ اب صرف یہ نہیں کہ 2017ء میں ان کے ساتھ کیا ہوا تھا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ 9 برس بعد بھی دنیا انہیں محفوظ گھر، قانونی شناخت اور باعزت مستقبل کیوں نہیں دے سکی۔