براہ راست نشریات

میانمار: فوج نے خواتین و بچوں سمیت سیکڑوں افراد قتل کیے، اقوامِ متحدہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
میانمار میں شہریوں کا قتل، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ اور میانمار عسکری بحران کا تذکرہ
معتبر ذرائع نے کم از کم 702 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے میانمار کی فوج پر اگست سے جنوری کے درمیان 700 سے زائد شہریوں کے قتل کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

مزید پڑھیں

ہلاکتوں میں سے نصف سے زائد براہ راست فضائی حملوں کا نتیجہ ہیں۔

جنیوا میں جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معتبر ذرائع نے کم از کم 702 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ 

ہلاک ہونے والوں میں 224 خواتین اور 153 بچے شامل ہیں۔ بڑی تعداد میں ہونے والی یہ ہلاکتیں میانمار میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ترجمان راوینا شامداسانی کے مطابق فضائی حملے ملک میں تباہی اور انسانی تکالیف کی سب سے بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔

فوج کے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں میں 505 شہری مارے گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

میانمار میں شہریوں کا قتل، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ اور میانمار عسکری بحران کا تذکرہ
ہلاکتوں میں سے نصف سے زائد براہ راست فضائی حملوں کا نتیجہ ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگست سے ستمبر 2025 اور دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران ہلاکتوں میں تیزی آئی۔

یہ وہ وقت تھا جب فوجی کونسل نے ملک میں متنازع انتخابات کے انعقاد کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ میانمار کی فوجی حکومت نے 5 سالہ اقتدار کے بعد دسمبر اور جنوری میں پارلیمانی انتخابات کرائے تھے۔ 

اگرچہ اسے جمہوریت کی واپسی قرار دیا گیا، لیکن باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں پولنگ نہ ہونے سے فوجی نواز جماعتوں نے یکطرفہ کامیابی حاصل کی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات سے قبل کا عرصہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عدم استحکام سے عبارت تھا۔ 

اس دوران شہریوں کو زبردستی ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا گیا اور انتخابی عمل کی مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

میانمار میں شہریوں کا قتل، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ اور میانمار عسکری بحران کا تذکرہ
ہلاک ہونے والوں میں 224 خواتین اور 153 بچے شامل ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

اقوام متحدہ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلح اپوزیشن گروہوں نے بھی شہریوں پر حملے کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انتخابات سے متعلق کم از کم 95 ایسے حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں اپوزیشن گروہوں کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کا معاملہ فوری طور پر عالمی فوجداری عدالت کو بھیجا جائے۔ اس کے ساتھ ہی میانمار کو ہتھیاروں، پرزہ جات اور گولہ بارود کی فراہمی بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

عالمی ادارے نے زور دیا ہے کہ جب تک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا خطرہ موجود ہے، میانمار کو عسکری امداد نہ دی جائے۔ 

یہ اقدامات وہاں جاری تشدد کو روکنے اور معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔