براہ راست نشریات

بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر سے اوپر.. نئی تیزی یا خریداروں کے لیے جال؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Bitcoin Price

بٹ کوائن تین ماہ بعد دوبارہ 80 ہزار ڈالر سے اوپر پہنچ گیا، جس کے پیچھے کمزور امریکی ڈالر، ETF میں تقریباً 1.92 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور شارٹ پوزیشنز کی بندش اہم عوامل ہیں۔
ایک ہفتے میں قیمت قریب 23 فیصد بڑھی، جس سے 95 سے 100 ہزار ڈالر کے ممکنہ ہدف کی بحث دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
تاہم اگر ڈالر مضبوط ہوا یا ETF میں سرمایہ کاری کم ہوئی تو موجودہ تیزی جلد تصحیح میں بھی بدل سکتی ہے۔

بٹ کوائن ایک بار پھر عالمی مالیاتی منڈیوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ 

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی نے تین ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد دوبارہ 80 ہزار ڈالر کی سطح عبور کرلی، جس سے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی خواہش بھی واپس آتی دکھائی دے رہی ہے۔

منگل 25 اگست 2026 کو ایشیائی کاروبار کے دوران بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر سے اوپر گیا اور بعض اوقات 81 ہزار ڈالر سے بھی زیادہ پر ٹریڈ ہوا۔ 

اس تیزی کے پیچھے صرف کرپٹو مارکیٹ کی کوئی ایک خبر نہیں بلکہ کئی عالمی مالیاتی عوامل ایک ساتھ کام کررہے ہیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTبٹ کوائن — اہم نکات
  • بٹ کوائن تین ماہ سے زیادہ عرصے بعد دوبارہ 80 ہزار ڈالر سے اوپر پہنچا۔
  • 25 اگست کو قیمت ایک موقع پر تقریباً 81,238 ڈالر تک پہنچی۔
  • ایک ہفتے میں بٹ کوائن نے تقریباً 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔
  • امریکی اسپاٹ Bitcoin ETFs میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً 1.92 ارب ڈالر آئے۔
  • کمزور ڈالر، بانڈ ییلڈ میں نرمی اور شارٹ پوزیشنز کی بندش نے ریلی کو طاقت دی۔
overseaspost.net

ان میں امریکی ڈالر کی کمزوری، امریکی بانڈ مارکیٹ میں تبدیلیاں، بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز یعنی ETFs میں سرمایہ کاری اور قیمت میں کمی پر شرط لگانے والے سرمایہ کاروں کی پوزیشنز بند ہونا شامل ہیں۔

مزید پڑھیں

ایک ہفتے میں 23 فیصد چھلانگ

بٹ کوائن کی حالیہ تیزی معمولی نہیں۔ 

صرف ایک ہفتے میں اس کی قیمت تقریباً 23 فیصد بڑھی، جبکہ اگست کے آغاز سے اب تک اس میں قریب 28 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

یہ رفتار اس لیے اہم ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بٹ کوائن شدید اتار چڑھاؤ اور فروخت کے دباؤ میں رہا تھا۔

 ایسے میں 80 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد عبور ہونا سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم تکنیکی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

حالیہ تیزی کا ایک اہم تعلق امریکی بانڈ مارکیٹ سے ہے۔ 

امریکی وزارت خزانہ نے طویل مدت کے سرکاری بانڈز کی دوبارہ خریداری بڑھائی ہے تاکہ بانڈ ییلڈ اور حکومت کے قرض لینے کی لاگت پر دباؤ کم کیا جاسکے۔

اس کے ساتھ امریکا کے بڑھتے ہوئے قرض اور بجٹ خسارے پر بھی نئی بحث شروع ہوئی، جس نے بعض سرمایہ کاروں کو ایسے اثاثوں کی طرف متوجہ کیا جو ڈالر کی قدر میں ممکنہ کمی کے خلاف تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔

کمزور ڈالر سے بٹ کوائن کو فائدہ

عام طور پر ڈالر کی کمزوری یا مالیاتی غیر یقینی صورتحال میں سونا سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بٹ کوائن بھی ایک متبادل ڈیجیٹل اثاثے کے طور پر سامنے آیا ہے۔

بٹ کوائن کی مجموعی تعداد محدود ہونے کے باعث اس کے حامی اسے بعض اوقات ’ڈیجیٹل گولڈ‘ کہتے ہیں۔ 

iOVERSEAS POST | FACT BOXبٹ کوائن ریلی: فیکٹ باکس
اہم سطح80,000 ڈالر+
مقامی بلند ترین سطحتقریباً 81,238 ڈالر
ہفتہ وار اضافہتقریباً 23%
اگست میں اضافہتقریباً 28%
ETF آمد1.92 ارب ڈالر
بحث میں اگلا ہدف95,000–100,000 ڈالر
اہم سوالکیا شارٹ اسکویز ختم ہونے کے بعد بھی حقیقی خریداری برقرار رہے گی؟
overseaspost.net

اسی لیے جب ڈالر پر دباؤ بڑھتا ہے یا امریکی قرض اور مہنگائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں تو بعض سرمایہ کار بٹ کوائن کا رخ بھی کرتے ہیں۔

تاہم بٹ کوائن اور سونے میں بڑا فرق موجود ہے۔ 

سونا نسبتاً مستحکم سمجھا جاتا ہے جبکہ بٹ کوائن کی قیمت میں بہت تیز اتار چڑھاؤ ہوسکتا ہے، اس لیے اس میں سرمایہ کاری کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔

ETF میں 1.92 ارب ڈالر کی آمد

بٹ کوائن کی حالیہ تیزی کا دوسرا اہم سبب امریکی اسپاٹ ETFs میں دوبارہ سرمایہ آنا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 21 اگست تک پانچ کاروباری دنوں میں بٹ کوائن ETFs میں تقریباً 1.92 ارب ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ہوئی۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ تیزی کیوں اہم ہے؟

80 ہزار ڈالر کا بریک آؤٹ صرف قیمت کی خبر نہیں، بلکہ مارکیٹ کے بدلتے مزاج کا اشارہ ہے۔

ادارہ جاتی سرمایہETF میں 1.92 ارب ڈالر کی آمد بتاتی ہے کہ بڑے سرمایہ کار دوبارہ متحرک ہوئے ہیں۔
کمزور ڈالرڈالر اور بانڈ ییلڈ پر دباؤ نے بٹ کوائن سمیت رسک اثاثوں کو سہارا دیا۔
تکنیکی بریک آؤٹ80 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد عبور ہونے سے 95 سے 100 ہزار ڈالر کی بحث واپس آگئی۔
اصل اہمیت: اب مارکیٹ کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہ تیزی صرف شارٹ پوزیشنز کی بندش نہیں بلکہ مسلسل حقیقی طلب پر قائم ہے۔
overseaspost.net

اسی عرصے میں ایتھیریم ETFs میں بھی قریب 697 ملین ڈالر داخل ہوئے، جس سے دونوں بڑی کرپٹو کرنسیوں سے منسلک فنڈز میں مجموعی سرمایہ کاری 2.6 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔

ETF میں سرمایہ کاری اس لیے اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف چھوٹے سرمایہ کار نہیں بلکہ بڑے ادارے بھی مارکیٹ میں واپس آ رہے ہیں۔

لیکن ایک ہفتے کی مضبوط سرمایہ کاری اس بات کی ضمانت نہیں کہ تیزی طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ 

اصل امتحان یہ ہوگا کہ آنے والے ہفتوں میں بھی ان فنڈز میں سرمایہ مسلسل داخل ہوتا ہے یا نہیں۔

شارٹ پوزیشن والے سرمایہ کار پھنس گئے

بٹ کوائن کی تیزی کو تیز کرنے والا ایک اور عامل شارٹ اسکویز رہا۔

شارٹ پوزیشن میں سرمایہ کار یہ شرط لگاتا ہے کہ قیمت نیچے جائے گی۔ لیکن اگر قیمت اس کے برعکس تیزی سے اوپر جانے لگے تو نقصان محدود کرنے کے لیے اسے اپنی پوزیشن بند کرکے بٹ کوائن خریدنا پڑتا ہے۔

یہ جبری خریداری قیمت کو مزید اوپر دھکیلتی ہے اور دوسرے سرمایہ کار بھی اپنی شارٹ پوزیشنز بند کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا واضح ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟
واضحبٹ کوائن 80 ہزار ڈالر سے اوپر گیا اور مئی کے بعد بلند ترین سطح دیکھی۔
واضحامریکی Bitcoin ETFs میں تقریباً 1.92 ارب ڈالر کی ہفتہ وار آمد ہوئی۔
واضحکمزور ڈالر اور بانڈ مارکیٹ کی تبدیلیوں نے رسک لینے کی خواہش بڑھائی۔
ابھی ثابت نہیںیہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نیا مکمل بل مارکیٹ شروع ہوچکا ہے۔
ادارتی احتیاط100 ہزار ڈالر کو یقینی ہدف نہ سمجھا جائے؛ یہ ایک ممکنہ منظرنامہ ہے، ضمانت نہیں۔
overseaspost.net

حالیہ ریلی کے دوران کرپٹو میں کھلی پوزیشنز میں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیمت میں اضافے کا ایک حصہ انہی شارٹ پوزیشنز کے بند ہونے سے آیا۔

یہ بات مثبت بھی ہے کیونکہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ نئی لیوریج جمع نہیں ہوئی، لیکن خطرہ یہ ہے کہ شارٹ اسکویز مستقل نہیں رہتی۔

جب شارٹ پوزیشنز کا دباؤ ختم ہوجائے گا تو قیمت کو مزید اوپر لے جانے کے لیے نئی اور حقیقی خریداری درکار ہوگی۔

کیا اگلا ہدف 100 ہزار ڈالر ہے؟

80 ہزار ڈالر عبور ہونے کے بعد ایک بار پھر 95 ہزار سے 100 ہزار ڈالر کی پیش گوئیاں سامنے آ رہی ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بٹ کوائن ETFs میں سرمایہ آتا رہا، ڈالر کمزور رہا اور امریکا میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے قانونی ماحول مزید واضح ہوا تو بٹ کوائن نئی بلند سطحوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی
  • 1بٹ کوائن نے تیزی سے واپسی کرتے ہوئے 80 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کی۔
  • 2ریلی کو کمزور امریکی ڈالر، ETF میں 1.92 ارب ڈالر کی آمد اور شارٹ اسکویز نے سہارا دیا۔
  • 3اب اصل امتحان یہ ہے کہ شارٹ پوزیشنز کی بندش کے بعد بھی خریداری جاری رہتی ہے یا نہیں۔
  • 4اگر طلب برقرار رہی تو 95 سے 100 ہزار ڈالر کی راہ کھل سکتی ہے، ورنہ تیز تصحیح بھی ممکن ہے۔
overseaspost.net

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس پر کرپٹو کرنسیوں کے لیے واضح قانونی فریم ورک بنانے پر زور دینے سے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا ملا ہے۔

تاہم 100 ہزار ڈالر کا ہدف ابھی یقینی نہیں۔

اگر امریکی ڈالر دوبارہ مضبوط ہوگیا، بانڈ ییلڈ میں تیزی آئی یا ETFs میں سرمایہ کاری کم ہوگئی تو منافع کی وصولی شروع ہوسکتی ہے اور بٹ کوائن کی قیمت تیزی سے نیچے بھی آسکتی ہے۔

اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بٹ کوائن چند دنوں میں کتنی بلندی تک پہنچتا ہے۔

اصل امتحان یہ ہوگا کہ شارٹ اسکویز ختم ہونے کے بعد بھی سرمایہ کار 80 ہزار ڈالر یا اس سے اوپر خریداری جاری رکھتے ہیں یا نہیں۔

اگر ادارہ جاتی سرمایہ اور حقیقی طلب برقرار رہی تو موجودہ تیزی ایک بڑی صعودی لہر میں بدل سکتی ہے۔ 

لیکن اگر سرمایہ کاری کی رفتار کم پڑگئی تو 80 ہزار ڈالر کا یہ بریک آؤٹ بھی ایک تیز مگر مختصر ریلی ثابت ہوسکتا ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net