عالمی مالیاتی منڈی میں ایک ایسی تبدیلی تیزی سے ابھر رہی ہے، جس کے اثرات صرف بڑے سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہیں گے۔
مزید پڑھیں
امریکا سے برطانیہ اور فرانس سے جرمنی تک طویل مدتی سرکاری بانڈز پر منافع بڑھ رہا ہے۔
بظاہر یہ بانڈ مارکیٹ کی معمول کی سرگرمی ہے، مگر اس کے پیچھے تیل، مہنگائی، حکومتی قرض اور مصنوعی ذہانت پر ہونے والی غیر معمولی سرمایہ کاری کے گہرے اثرات موجود ہیں۔
تازہ صورت حال یہ ہے کہ سرمایہ کار اب حکومتوں کو طویل مدت کے
لیے پہلے جیسی آسان شرائط پر مزید قرض دینے کو بالکل تیار نہیں ہیں۔
📉 بانڈ مارکیٹ پر اچانک خطرات کیوں منڈلانے لگے؟
مارکیٹ تجزیہ
▼
آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور 91 ڈالر فی بیرل خام تیل کے باعث توانائی اور مصنوعات کی ترسیل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس سے مہنگائی طویل عرصے تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
صرف امریکہ کا قومی قرض 40 ٹریلین ڈالر اور برطانیہ کا 4 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ حکومتوں کے بڑھتے اخراجات مارکیٹ میں نئے بانڈز کا سیلاب لا رہے ہیں۔
توانائی کی قیمتیں مسلسل بلند رہنے کی صورت میں امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینکوں کے پاس شرح سود میں دوبارہ اضافے یا اسے طویل عرصے سخت رکھنے کے سوا چارہ نہیں بچے گا۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ 10 سے 30 سال کے دوران افراطِ زر ان کے سرمائے کی قوتِ خرید گھٹا دے گا، اس لیے وہ حکومتوں کو پیسہ دینے کے بدلے غیر معمولی پریمیم مانگ رہے ہیں۔
اس وقت سرمایہ کار زیادہ منافع چاہتے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں مہنگائی اور قرض دونوں بلند سطح پر رہ سکتے ہیں۔
امریکا سے یورپ تک بے چینی
امریکی 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع 5.33 فیصد تک پہنچ چکی، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح فرانس میں حکومتی قرض کی لاگت 2008 اور جرمنی میں طویل مدتی بانڈز کی شرح 2011 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
مہنگے ایندھن، بڑھتے ہوئے سرکاری قرض اور مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر کے اخراجات نے عالمی بانڈ مارکیٹ میں منافع کی شرح کو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
سرمایہ کار مستقبل میں مہنگائی اور مسلسل حکومتی قرضوں کے خدشے پر زیادہ منافع مانگ رہے ہیں۔
برطانیہ کا سرکاری قرض 4 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جس سے طویل مدتی سیکیورٹیز پر دباؤ بڑھ گیا۔
توانائی اور بجٹ خسارے کو سنبھالنے کے لیے نئے بانڈز کے اجرا نے مارکیٹ پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت پر سرمایہ کاری کے لیے کارپوریٹ کمپنیاں بڑے پیمانے پر قرض لے رہی ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
برطانیہ میں بھی صورتحال مزید نمایاں ہے۔ وہاں سرکاری بانڈز کا منافع 5.86 فیصد تک پہنچ کر 1998 کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دباؤ زیادہ تر طویل مدتی بانڈز پر ہے۔ یہی فرق بتاتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی اصل پریشانی آج سے زیادہ آنے والے برسوں کے بارے میں ہے۔
تیل نے مالیاتی حساب بدل کر رکھ دیا
دنیا میں بڑھتی اس نئی بے چینی کا ایک بڑا سِرا آبنائے ہرمز اور ایران جنگ سے جڑتا ہے۔
فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے بعد تیل مہنگا ہوا۔ برینٹ خام تیل تقریباً 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
مبصرین کے مطابق مہنگا تیل صرف پیٹرول اور بجلی کے بل نہیں بڑھاتا، بلکہ توانائی کی بلند قیمتیں مصنوعات کی تیاری اور نقل و حمل مہنگی کرکے مجموعی مہنگائی بڑھا سکتی ہیں۔
اسی لیے سرمایہ کار اب یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ اگر تیل مسلسل مہنگا رہا تو کیا امریکی فیڈرل ریزرو کو دوبارہ شرح سود بڑھانا پڑے گا؟
🤖
اے آئی کی کھربوں ڈالر کی دوڑ اور خطرہ
▼
بارکلیز کے مطابق 2026 میں انویسٹمنٹ گریڈ بانڈز کا اجرا ریکارڈ 1.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کا بڑا حصہ ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ پاور کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 9 بڑی ٹیک کمپنیوں کے طویل مدتی خریداری اور لیز معاہدے کھربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جن کی ادائیگیاں مستقبل کے برسوں میں واجب الادا ہوں گی۔
اگر کاروباری ادارے اور عام صارفین توقع کے مطابق AI مصنوعات پر رقم خرچ نہ کر سکے تو انفراسٹرکچر کے بھاری سود اور کرائے کمپنیوں کی بیلنس شیٹ کو ڈبو سکتے ہیں۔
ٹیک کمپنیاں اور خودمختار حکومتیں دونوں ایک ساتھ مارکیٹ سے اربوں ڈالر کا سرمایہ مانگ رہی ہیں، جس کی وجہ سے دستیاب کیش کی قلت اور قرضوں کی لاگت میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔
40 ٹریلین ڈالر کا امریکی قرض
دوسرا بڑا مسئلہ اس وقت حکومتوں کی قرض لینے کی مسلسل بڑھتی ضرورت ہے۔
امریکی سرکاری قرض اس وقت تقریباً 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور یورپ بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں۔ برطانیہ کا سرکاری قرض 3 ٹریلین پاؤنڈ، یعنی تقریباً 4 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ زندگی گزارنے اور توانائی کی بڑھتی لاگت سے عوام اور کاروبار کو بچانے کے لیے حکومتوں کو مزید اخراجات کرنا پڑیں گے۔
اس کا مطلب مزید قرض اور مزید بانڈز کا اجرا ہوسکتا ہے۔ جب مارکیٹ میں بانڈز کی رسد بڑھتی ہے تو سرمایہ کار انہیں خریدنے کے لیے زیادہ منافع کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
🌐 امریکا سے یورپ تک ہلچل کیوں؟
عالمی منڈیاں
▼
امریکی سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جو 40 ٹریلین ڈالر کے قرض اور مستقل افراطِ زر کے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
برطانیہ میں منافع 1998 کے بعد بلند ترین ریکارڈ سطح پر ہے۔ 4 ٹریلین ڈالر سے زائد کے قومی قرض اور توانائی کے اخراجات نے مارکیٹ کو شدید دباؤ میں رکھا ہے۔
فرانسیسی حکومت کے لیے طویل مدتی قرض لینے کی لاگت 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد بلند ترین سطح پر چلی گئی ہے جس سے بجٹ خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یورپ کی سب سے مستحکم معیشت جرمنی کے طویل مدتی بانڈز پر شرح منافع 2011 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے، جس سے پورے یورو زون کے لیے فنانسنگ مہنگی ہو چکی ہے۔
اے آئی کی دوڑ کا نیا مالیاتی پہلو
اس کہانی میں سب سے غیر متوقع کردار مصنوعی ذہانت ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفرا اسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کے لیے قرض کی منڈی کا رخ کررہی ہیں۔
بارکلیز کا اندازہ ہے کہ 2026 میں انویسٹمنٹ گریڈ بانڈز کا اجرا ریکارڈ 1.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ گزشتہ سال یہ حجم 1.44 ٹریلین ڈالر تھا۔
اسی طرح وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 9 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی تقریباً 3 ٹریلین ڈالر کی آف بیلنس شیٹ ذمہ داریاں بھی موجود ہیں، جن کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت سے جڑا ہے۔
یعنی اگر اے آئی سے متوقع آمدنی نہ آئی تو یہ بہت بڑا مالی بوجھ ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے۔
💰 سرمایہ کار زیادہ منافع کیوں مانگ رہے ہیں؟
▼
جب مہنگائی مسلسل بلند رہے تو فکسڈ انکم بانڈز کی حقیقی قدر گھٹ جاتی ہے۔ سرمایہ کار اس نقصان کی تلافی کے لیے ابتدائی شرح منافع زیادہ مانگتے ہیں۔
حکومتیں اور ٹیکنالوجی ادارے ایک ساتھ کھربوں ڈالر کے بانڈز بیچنے نکلے ہیں۔ جب مارکیٹ میں پیپر کی سپلائی حد سے بڑھ جائے تو خریدار زیادہ منافع کی شرط رکھتا ہے۔
مرکزی بینک اب معیشت کو مصنوعی طور پر زیرو یا انتہائی کم شرح سود پر نہیں چلا رہے، جس کی وجہ سے رسک فری ریٹ کا عمومی بینچ مارک ہمیشہ کے لیے اوپر چلا گیا ہے۔
جب امریکی اور یورپی بانڈز 5 فیصد سے زیادہ کا محفوظ منافع دیں تو پاکستان اور دیگر ابھرتی منڈیوں کو عالمی سرمایہ حاصل کرنے کے لیے کہیں زیادہ مہنگا قرض اٹھانا پڑتا ہے۔
کیا محفوظ سرمایہ کاری کا پرانا دور ختم ہورہا ہے؟
عالمی مالیاتی بحران کے بعد حکومتیں برسوں تک انتہائی کم شرح سود پر آسانی سے قرض لیتی رہیں، مگر اب حالات بالکل مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔
تیل مہنگا ہے، مہنگائی کا خطرہ برقرار ہے، حکومتوں کو زیادہ قرض چاہیے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی کھربوں ڈالر کے سرمایے کی تلاش میں ہیں۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار طویل مدت کے لیے اپنا پیسہ دینے کی زیادہ قیمت مانگ رہے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ تبدیلی بہت اہم ہے۔ یعنی اگر عالمی سطح پر قرض مہنگا رہتا ہے تو بین الاقوامی سرمایہ حاصل کرنے والے ابھرتے ممالک کے لیے مالی حالات مزید سخت ہوسکتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیویارک، لندن یا پیرس کی بانڈ مارکیٹ میں ہونے والی ہلچل بالآخر ترقی پذیر معیشتوں کے دروازے تک بھی پہنچ سکتی ہے۔