عالمی اسٹاک مارکیٹس میں جاری غیر یقینی صورتحال کے دوران ایشیائی بازاروں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں
ٹیکنالوجی، بالخصوص سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں حصص کی فروخت کے رجحان نے جاپانی و دیگر ایشیائی انڈیکسز کو شدید متاثر کیا۔ دوسری جانب امریکہ و یورپ میں بازار کچھ حد تک مستحکم نظر آ رہے ہیں۔
ایشیا میں حصص کی فروخت کا رجحان
جاپانی مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ جاری ہے، جہاں نکی انڈیکس 2.8 فیصد گر گیا، جبکہ سیشن کے دوران یہ خسارہ 3.3 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
ٹوبیکس انڈیکس 1.5 فیصد گر کر 4,028.79 پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔ مارکیٹ کے مجموعی رجحان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نکی انڈیکس میں شامل 139 کمپنیاں مندی کا شکار رہیں۔
مارکیٹ میں سیمی کنڈکٹر سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہے، جس میں کیوکسیا کے حصص 15 فیصد، سافٹ بینک کے 6.3 فیصد اور ایڈوانٹیسٹ کے 5.9 فیصد گر گئے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ بنیادی طور پر لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاری میں تبدیلی کا نتیجہ ہے، نہ کہ سیکٹر کی بنیادوں میں کوئی کمزوری۔
تائیوانی کمپنی کے نتائج اور مارکیٹ کا ردعمل
تائیوان کی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) نے اپنی دوسری سہ ماہی کے منافع میں 77 فیصد اضافہ ظاہر کیا ہے اور سالانہ آمدنی میں 40 فیصد سے زائد اضافے کی توقعات بھی ظاہر کی ہیں۔
تاہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی لہر میں ہونے والی غیر معمولی تیزی کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع کا حصول شروع کر دیا ہے۔
امریکہ اور یورپ محتاط
وال اسٹریٹ اور یورپی منڈیوں نے امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار اور بینکوں کے مضبوط مالیاتی نتائج کے سہارے خود کو سنبھالا ہے۔
امریکہ میں افراطِ زر کی شرح توقع سے کم رہی، جس سے جولائی میں سود کی شرح میں اضافے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ انڈیکسز میں معمولی بہتری کے باوجود توانائی کی بلند قیمتیں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
توانائی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراطِ زر کے دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے مرکزی بینکوں کی سخت مانیٹری پالیسیوں میں نرمی کا عمل سست ہو سکتا ہے۔
یورپ کی معاشی توقعات
دوسری جانب یورپی منڈیاں بھی محتاط دکھائی دیتی ہیں، جہاں اسٹوکس 600 انڈیکس میں مجموعی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دوسری سہ ماہی میں منافع میں 14.5 فیصد اضافے کی توقعات کا زیادہ تر انحصار توانائی کے شعبے پر ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں نمو کی شرح محض 5.5 فیصد تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔
معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامہ دو دھاری تلوار بنا ہوا ہے۔
ایک طرف کارپوریٹ سیکٹر کے مضبوط نتائج مارکیٹ کو سہارا دے رہے ہیں تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال اور توانائی کی قیمتیں غیر یقینی پیدا کر رہی ہیں۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب کمپنیوں کے مزید مالیاتی نتائج اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔