شمالی یمن میں صحت کا بحران صرف اسپتالوں اور ادویات کی کمی تک محدود نہیں۔
امدادی کارکنوں کی گرفتاریاں، انسانی سرگرمیوں پر پابندیاں اور ویکسینیشن تک محدود رسائی ایسے وقت میں مزید خطرہ پیدا کر رہی ہیں جب پولیو اور خسرہ بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
تاہم دستیاب شواہد یمن کے پورے طبی بحران کی ذمہ داری صرف حوثیوں پر عائد نہیں کرتے۔
شمالی یمن میں برسوں تک بچوں تک ویکسین کی رسائی محدود رہی، دوسری جانب اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے کارکن گرفتار ہوتے گئے۔
پولیو کی واپسی، خسرے کے ہزاروں کیسز اور بمشکل چلتے صحت کے نظام کے درمیان تازہ بین الاقوامی رپورٹس ایک ایسے بحران کی تصویر پیش کرتی ہیں جہاں جنگ اور مالی قلت کے ساتھ انسانی امداد پر پابندیاں اور گرفتاریاں بھی عام یمنی کی زندگی مزید مشکل بنا رہی ہیں۔
جون 2024 میں جس شخص کو حراست میں لیا گیا، وہ یمن کی کسی جنگی محاذ پر لڑنے والا سپاہی نہیں تھا۔
وہ ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال صحتِ عامہ کے پروگراموں اور بچوں کی زندگیاں بچانے کے کام میں گزارے تھے۔
پھر ایک دن وہ غائب ہوگیا۔
گھر والے خبر کے منتظر رہے۔
ایک دن گزرا، پھر دوسرا، پھر ہفتے اور مہینے۔
ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے دستاویزی شکل دی گئی اہلِ خانہ کی گواہی کے مطابق، 7 ماہ تک انہیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکا۔
لیکن حراست میں گزرتا وقت اس شخص کے لیے صرف کیلنڈر پر بدلتی تاریخیں نہیں تھیں۔
وہ گلوکوما کا مریض تھا۔
آنکھوں کی ایک ایسی بیماری جس کا مناسب علاج اور مسلسل نگرانی نہ ہو تو بینائی مستقل طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔
اس کے اہلِ خانہ کے مطابق اسے باقاعدگی سے مطلوبہ دوا اور طبی نگہداشت دستیاب نہیں تھی۔
جس شخص نے برسوں دوسروں کی صحت بچانے میں گزارے، اب وہ خود علاج کا محتاج تھا۔
6 اہم نکات +
- اقوام متحدہ کے مطابق جون 2026 تک 73 اہلکار حوثیوں کی من مانی حراست میں تھے۔
- اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں نے ضرورت مند یمنیوں تک انسانی امداد پہنچانے کی صلاحیت شدید محدود کی۔
- 2025 میں یمن میں ویکسین سے ماخوذ پولیو وائرس کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں تعداد 187 تھی۔
- 2025 میں 27,560 خسرے کے تصدیق شدہ کیسز اور 218 متعلقہ اموات رپورٹ ہوئیں۔
- شمالی یمن میں تین سال سے زیادہ عرصے بعد بچوں تک رسائی کے ذریعے ویکسینیشن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئیں۔
- WHO کے مطابق 23.1 ملین افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں، جبکہ صرف تقریباً 60 فیصد طبی مراکز مکمل طور پر فعال ہیں۔
اس کی کہانی یمن کے پورے طبی بحران کی کہانی نہیں، مگر یہ ایک بڑے سوال کا دروازہ ضرور کھولتی ہے:
اگر دوا، خوراک اور ویکسین لاکھوں ضرورت مندوں تک پہنچانے والے لوگ خود گرفتار ہوجائیں یا کام نہ کرسکیں، تو مریضوں اور بچوں تک کون پہنچے گا؟
مزید پڑھیں
امدادی دفتر سے حراست تک
10 جون 2026 کو اقوام متحدہ نے مسئلے کی سنگینی ایک ایسے عدد میں بیان کی جسے نظرانداز کرنا مشکل ہے۔
حوثی حکام کی تحویل میں اقوام متحدہ کے 73 اہلکار بدستور من مانی حراست میں تھے۔
بعض کو بیرونی دنیا سے رابطے کے بغیر رکھا گیا، جبکہ اقوام متحدہ کا
ایک اہلکار حراست کے دوران جان سے بھی جا چکا ہے۔
لیکن اقوام متحدہ کے بیان کا سب سے اہم پہلو صرف گرفتار افراد کی تعداد نہیں تھا۔
عالمی ادارے کے مطابق ان اقدامات نے یمن میں لاکھوں ضرورت مند افراد کی مدد کرنے کی اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کی صلاحیت کو شدید محدود کردیا ہے۔
یہیں سے گرفتاری کا معاملہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے بڑھ کر صحت اور زندگی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
ایک گرفتار امدادی کارکن محض دفتر میں خالی پڑی کرسی نہیں۔
ممکن ہے وہ بچوں میں غذائی قلت روکنے والے پروگرام کا حصہ ہو۔
ممکن ہے اس کا کام کسی اسپتال کو ادویات پہنچانا ہو۔
ممکن ہے وہ کسی ویکسین مہم، صاف پانی کے منصوبے یا ہیضے کو پھیلنے سے روکنے والے نظام سے وابستہ ہو۔
فیکٹ باکس +
جنوری 2026 میں ہیومن رائٹس واچ نے امدادی کارکنوں، گرفتار افراد کے رشتہ داروں، سفارت کاروں، وکلا اور کارکنوں سمیت 36 افراد سے گفتگو کے بعد ایک تشویشناک تصویر پیش کی۔
تنظیم کے مطابق گرفتاریوں، چھاپوں اور حراست کے خوف نے بعض امدادی کارکنوں کو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیا اور انسانی اداروں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
ایک صوبے میں تبدیلی انتہائی نمایاں تھی۔
جولائی 2024 میں وہاں اقوام متحدہ اور انسانی امداد کی 15 تنظیمیں، 14 اضلاع میں 26 پروگرام چلا رہی تھیں۔
ان میں خوراک، غذائیت، پانی، صحت اور پناہ گاہوں سے متعلق منصوبے شامل تھے۔
ایک سال بعد صرف دو تنظیمیں 3 اضلاع میں صحت اور غذائیت کے شعبوں میں کام کر رہی تھیں۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ پوری کمی صرف گرفتاریوں کے باعث ہوئی۔
امدادی فنڈنگ میں کمی، امریکی پابندیاں، حوثیوں کی امریکی درجہ بندی اور سلامتی کے مسائل بھی اس ماحول کا حصہ تھے۔
لیکن ہیومن رائٹس واچ کی جمع کردہ شہادتوں کے مطابق گرفتاریاں اس بحران کا ایک اہم عنصر تھیں۔
کیا ثابت ہوچکا ہے؟ +
صحت کے شعبے سے وابستہ ایک کارکن نے تنظیم کو بتایا کہ طبی صورت حال پہلے ہی تباہ کن ہے اور امدادی تنظیموں اور شراکت داروں کے مزید کم ہونے سے شمال میں صحت کا نظام شدید خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔
ایک بچہ اور وہ بیماری جسے روکا جاسکتا تھا
حراستی مراکز سے سیکڑوں کلومیٹر دور ایک دوسری کہانی چل رہی ہے۔
اس بار کہانی کا مرکزی کردار ایک بچہ ہے۔
شاید اس کے والدین اس وائرس کا سائنسی نام نہ جانتے ہوں، لیکن وہ اس خوف کو ضرور جانتے ہیں کہ ان کا بچہ اچانک اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہ ہوسکے۔
پولیو
یمن کئی سال پہلے جنگلی پولیو وائرس سے نجات حاصل کرچکا تھا، مگر اب اسے ویکسین سے ماخوذ پولیو وائرس کی مختلف اقسام کے پھیلاؤ کا سامنا ہے۔
اپریل 2026 میں عالمی ادارۂ صحت نے بتایا کہ cVDPV2 یعنی ویکسین سے ماخوذ پولیو وائرس ٹائپ 2 کا پھیلاؤ 2021 سے جاری ہے، جو بچوں میں حفاظتی قوت کے مسلسل خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
اعداد بحران کی شدت بیان کرتے ہیں۔
2024 میں یمن میں ویکسین سے ماخوذ پولیو وائرس کے 187 کیسز رپورٹ ہوئے۔
2025 میں یہ تعداد کم ہوکر 31 رہ گئی۔
یہ بڑی پیش رفت تھی۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
مئی 2026 میں یمن میں cVDPV2 کا ایک نیا کیس سامنے آیا، جبکہ ماحولیاتی نگرانی کے دوران بھی مثبت نمونے ملے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کا مطلب تھا کہ وائرس کی منتقلی ابھی جاری ہے اور ویکسینیشن اور نگرانی کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔
یعنی وائرس اب بھی موجود تھا۔
3 سال بعد بچوں تک دوبارہ رسائی
اس تحقیق کی اہم ترین حقیقتوں میں سے ایک مارچ 2026 میں سامنے آئی۔
عالمی ادارۂ صحت نے اعلان کیا کہ شمالی یمن میں 3 سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی مرتبہ بچوں تک رسائی کے ذریعے ویکسینیشن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔
جملہ مختصر ہے، لیکن اس کے اندر 3 سال چھپے ہیں۔
ایک بچے کی زندگی میں 3 سال معمولی مدت نہیں۔
یہ وہ عمر ہوسکتی ہے جس میں اسے کئی ایسی ویکسین درکار ہوتی ہیں جو اسے جان لیوا بیماری یا مستقل معذوری سے محفوظ رکھتی ہیں۔
کیا ثابت نہیں؟ +
2025 کے دوران شمالی یمن میں خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی 22 لاکھ ویکسین خوراکیں فراہم کی گئیں۔ اس کے ساتھ بچوں، ماؤں اور غذائیت سے متعلق دوسری خدمات بھی فراہم ہوئیں۔
یہ ایک مثبت پیش رفت ہے جسے اس رپورٹ میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ راستہ ملنے اور تعاون ہونے کی صورت میں لاکھوں بچوں تک پہنچنا ممکن ہے۔
لیکن یہی کامیابی ایک مشکل سوال بھی سامنے رکھتی ہے:
ان بچوں تک مؤثر رسائی دوبارہ قائم ہونے میں تین سال سے زیادہ کیوں لگے؟
اور اس تاخیر کی قیمت کس نے ادا کی؟
خسرے کے اعداد ایک اور کہانی سناتے ہیں
پولیو مستقل معذوری کے خوف کی علامت ہے، مگر خسرے کے اعداد یمن میں حفاظتی ٹیکوں کے خلا کی ایک اور تصویر دکھاتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2025 میں یمن میں:
خسرے کے 27 ہزار 560 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے۔
اور بیماری سے منسلک 218 اموات رپورٹ ہوئیں۔
خسرہ کوئی ایسی نئی بیماری نہیں جس کا طبی دنیا کے پاس جواب موجود نہ ہو۔
اس کے خلاف مؤثر ویکسین دستیاب ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟ +
اسی لیے جب ہزاروں کیسز سامنے آئیں تو ویکسینیشن کی شرح اور بچوں تک رسائی پر سوال اٹھنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔
لیکن یمن کی صورت حال میں کسی ایک وجہ کو تمام بیماریوں کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
غربت، نقل مکانی، غذائی قلت، تباہ حال طبی سہولیات، جنگ، فنڈنگ کی کمی اور دور دراز علاقوں تک رسائی کی مشکلات سب مل کر بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے خطرناک ماحول بناتی ہیں۔
اسی لیے یہ کہنا ثبوت سے آگے جانا ہوگا کہ خسرے یا پولیو کے ہر کیس کی براہ راست ذمہ داری حوثیوں پر عائد ہوتی ہے۔
البتہ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے:
ایسے ماحول میں ویکسینیشن یا امدادی سرگرمیوں پر کوئی اضافی رکاوٹ بچوں کے لیے خطرے کو مزید بڑھاتی ہے۔
وائرس کا سراغ بھی ضروری ہے
ویکسین لگانا پولیو کے خلاف جنگ کا صرف ایک حصہ ہے۔
دوسرا حصہ یہ جاننا ہے کہ وائرس کہاں موجود ہے۔
صحت کی ٹیمیں بچوں میں Acute Flaccid Paralysis یعنی اچانک ڈھیلے فالج کے مشتبہ کیسز کی نگرانی کرتی ہیں اور نمونے لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کہیں پولیو وائرس اس کا سبب تو نہیں۔
سعودی عرب اور خطے کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
جتنی تیزی سے وائرس کا سراغ ملے، اتنی جلدی اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ایسے ملک میں جہاں وائرس پہلے ہی گردش کررہا ہو، نگرانی کے نظام میں خلل کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بیماری صحت کے نظام سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
اس لیے مسئلہ صرف اس بچے کا نہیں جسے ویکسین نہیں ملی۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا نظام اگلے متاثرہ بچے کو بروقت تلاش کرسکتا ہے؟
23.1 ملین افراد بحران کے بیچ
یہ تمام واقعات ایک ایسے ملک میں ہورہے ہیں جہاں صحت کا پورا نظام پہلے ہی انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی 2026 کی ایمرجنسی اپیل کے مطابق یمن میں 23.1 ملین افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں۔
ملک کے صرف تقریباً 60 فیصد طبی مراکز مکمل طور پر فعال ہیں۔
ہیضہ موجود ہے۔
ملیریا موجود ہے۔
ڈینگی بخار موجود ہے۔
ویکسین سے روکی جانے والی بیماریاں بدستور پھیل رہی ہیں۔
ادویات، طبی عملے، آلات اور فنڈنگ کی کمی الگ مسئلہ ہے۔
صحافتی تحقیق کا نتیجہ +
اسی فرق کو برقرار رکھنا اس رپورٹ کی سب سے اہم صحافتی بنیاد ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے 2026 میں 10.5 ملین افراد تک ہنگامی طبی امداد پہنچانے کے لیے 38.8 ملین ڈالر کی ضرورت ظاہر کی ہے۔
لیکن پیسہ اپنے پاؤں پر چل کر کسی بچے تک ویکسین نہیں پہنچاتا۔
اس کے لیے صحت کارکن کو بچے تک پہنچنا ہوگا۔
ویکسین کو مطلوبہ مقام تک پہنچنا ہوگا۔
نگرانی کرنے والی ٹیموں کو نمونے جمع کرنے اور لیبارٹری تک بھیجنے ہوں گے۔
اور انسانی امداد کے کارکنوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ دفتر جانے کا مطلب گرفتاری کا خطرہ مول لینا نہیں۔
جب گرفتاری صحت کے بحران کا حصہ بن جائے
جون 2026 میں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور قاہرہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن رائٹس اسٹڈیز نے کہا کہ امدادی کارکنوں کی حوثیوں کے ہاتھوں گرفتاریاں زندگیاں بچانے والی امداد کی فراہمی کو براہ راست متاثر کر رہی ہیں۔
حقوقی تنظیموں کے مطابق سنگین بیماریوں میں مبتلا بعض زیرِ حراست افراد کو خود بھی ضروری طبی نگہداشت نہیں مل رہی تھی۔
یہ مسئلہ نیا نہیں۔
فروری 2025 میں ورلڈ فوڈ پروگرام کا ایک ملازم حوثیوں کی حراست میں ہلاک ہوگیا۔
اکتوبر 2023 میں Save the Children کے سیفٹی اینڈ سکیورٹی ڈائریکٹر بھی حراست میں انتقال کرگئے تھے۔
ممکنہ اگلا منظرنامہ +
لیکن اگر امدادی کارکنوں کی گرفتاریاں جاری رہیں، بین الاقوامی ادارے اپنے پروگرام مزید محدود کریں یا فنڈنگ کم ہو تو صحت اور غذائیت کے منصوبے دوبارہ سکڑ سکتے ہیں۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ 2026 میں بہتر ہونے والی ویکسین رسائی مستقل نظام میں تبدیل ہوتی ہے یا عارضی پیش رفت ثابت ہوتی ہے۔
یہاں یمن کے بحران کی ایک تلخ ستم ظریفی سامنے آتی ہے:
جن اداروں کے لوگ یمنیوں کی زندگیاں بچانے آئے تھے، انہی میں سے بعض کو اب اپنی آزادی، صحت اور زندگی کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
کیا یمن کے پورے طبی بحران کے ذمہ دار حوثی ہیں؟
آسان جواب ہوگا: ہاں۔
مگر شواہد ایسا سادہ جواب نہیں دیتے۔
یمن میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ نے طبی ڈھانچے کو کمزور کیا۔
معاشی تباہی نے لاکھوں خاندانوں کے لیے علاج مہنگا کردیا۔
نقل مکانی نے بڑی آبادی کو ایسی جگہوں پر پہنچایا جہاں صاف پانی اور صحت کی سہولیات محدود ہیں۔
بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی نے امدادی تنظیموں کو پروگرام بند یا محدود کرنے پر مجبور کیا۔
فوجی حملوں سے بھی بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنگ کے مختلف فریقوں کی خلاف ورزیاں دستاویزی شکل میں پیش کی ہیں۔
اس لیے یمن کے پورے صحت بحران کی ذمہ داری صرف حوثیوں پر عائد کرنا درست نہیں۔
ایک منٹ میں کہانی +
اسی دوران پولیو وائرس بدستور گردش کررہا ہے اور 2025 میں خسرے کے 27 ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے۔ شمالی یمن میں تین سال سے زائد عرصے بعد بچوں تک ویکسین کی بہتر رسائی دوبارہ شروع ہونا امید کی علامت ہے، لیکن بنیادی سوال بدستور قائم ہے:
کیا وائرس سے پہلے ویکسین بچے تک پہنچ سکے گی؟
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ایسے فیصلوں کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے جنہیں جنگ ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
امدادی کارکن کو گرفتار کرنا ایک فیصلہ ہے۔
کسی تنظیم کے کام میں رکاوٹ ڈالنا ایک فیصلہ ہے۔
انسانی امداد کے کارکنوں کی نقل و حرکت محدود کرنا ایک فیصلہ ہے۔
اور ویکسین ٹیم کو بچے تک پہنچنے دینا بھی ایک فیصلہ ہے۔
کیا ثابت ہے، اور کیا ثابت نہیں؟
دستیاب بین الاقوامی شواہد دونوں کے درمیان واضح لکیر کھینچنے کی اجازت دیتے ہیں۔
یہ ثابت شدہ ہے کہ حوثیوں نے اقوام متحدہ، امدادی اداروں اور سول سوسائٹی سے وابستہ درجنوں افراد کو من مانی حراست میں رکھا؛ اقوام متحدہ کے مطابق ان گرفتاریوں نے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی صلاحیت شدید متاثر کی، حقوقی تنظیموں نے گرفتاریوں اور پابندیوں کے امدادی سرگرمیوں پر اثرات دستاویزی شکل میں پیش کیے، شمالی یمن میں بچوں تک ویکسین پہنچانے کی سرگرمیوں میں طویل خلا رہا، اور ویکسین سے روکی جانے والی بیماریاں اب بھی بڑا خطرہ ہیں۔
جو بات دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ پولیو یا خسرے کا ہر مریض براہ راست حوثی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، یا یمن کے پورے صحت نظام کی تباہی کے واحد ذمہ دار حوثی ہیں۔
یہ فرق رپورٹ کو کمزور نہیں کرتا۔
یہی فرق اسے زیادہ معتبر بناتا ہے۔
کہانی سمجھنے کے لیے ایک بچہ کافی ہے
اس بحران کو اعداد کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔
2025 میں ویکسین سے ماخوذ پولیو کے 31 کیسز۔
خسرے کے 27 ہزار 560 تصدیق شدہ مریض۔
218 اموات۔
اقوام متحدہ کے 73 اہلکار زیرِ حراست۔
23.1 ملین افراد انسانی امداد کے محتاج۔
اور صرف تقریباً 60 فیصد طبی مراکز مکمل طور پر فعال۔
مگر کوئی عدد اس ماں کے لمحے کو بیان نہیں کرسکتا جو دیکھتی ہے کہ اس کا بچہ اچانک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔
کوئی جدول اس خاندان کی پریشانی نہیں بتا سکتا جسے معلوم نہیں کہ حراست میں موجود ان کے عزیز کو دوا مل رہی ہے یا نہیں۔
اور کوئی گراف اس ڈاکٹر کی بے بسی نہیں دکھا سکتا جس کے سامنے ایک ایسا مریض ہو جس بیماری سے بچانے کی ویکسین دنیا کے پاس پہلے سے موجود ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ جنگ کے بعد شاید یمن کا سوال صرف یہ نہیں رہا کہ لڑائی کب ختم ہوگی۔
اب ایک زیادہ فوری سوال ہے:
کیا ڈاکٹر اپنے مریض تک پہنچ سکتا ہے؟ اور کیا وائرس سے پہلے ویکسین بچے تک پہنچ سکتی ہے؟
جب ایک ملک میں درجنوں امدادی کارکن سلاخوں کے پیچھے ہوں اور کروڑوں انسان مدد کے منتظر ہوں، تو یہ سوال صرف صحت کے نظام کا امتحان نہیں رہتا۔
یہ ہر اس قوت کا امتحان بن جاتا ہے جس کے ہاتھ میں علاج کا راستہ کھولنے یا بند کرنے کا اختیار ہے۔
🚑
اصل اور بنیادی ذرائع
یمن کے صحت بحران، حوثیوں کی جانب سے امدادی کارکنوں کی گرفتاریوں اور انسانی امداد پر پڑنے والے اثرات سے متعلق بنیادی ذرائع
8 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
یمن کے صحت بحران، حوثیوں کی جانب سے امدادی کارکنوں کی گرفتاریوں اور انسانی امداد پر پڑنے والے اثرات سے متعلق بنیادی ذرائع