جنگ، بارودی سرنگوں اور دیگر حادثات کے باعث جسمانی معذوری کا شکار ہونے والے یمنی شہریوں کی بحالی کے لیے سعودی عرب کے تعاون سے چلنے والے مصنوعی اعضا اور بحالیٔ صحت کے مراکز مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی امور کے مطابق جنوری 2020 تا جون 2026 ان مراکز نے 4 لاکھ 42 ہزار سے زائد مفت طبی خدمات فراہم کیں، جن سے ایک لاکھ 55 ہزار سے زیادہ افراد نے فائدہ اٹھایا۔
عرب میڈیا کو فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ یمن میں صحت کی بنیادی سہولتوں کو مضبوط بنانے اور معذور افراد کو دوبارہ فعال زندگی کی طرف لانے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔
اس پروگرام کے تحت نہ صرف مصنوعی اعضا فراہم کیے جا رہے ہیں بلکہ فزیو تھراپی، طبی مشاورت، آرتھوپیڈک آلات کی فراہمی اور ان کی مرمت جیسی سہولتیں بھی مفت دی جا رہی ہیں۔
📊 یمن بحالی پروگرام: اہم فیکٹس
شاہ سلمان مرکز کے مطابق اس وقت یہ پروگرام یمن کے 4 شہروں عدن، تعز، سیئون اور مأرب میں قائم خصوصی مراکز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
یکم جنوری 2020 تا 30 جون 2026 ان مراکز نے مجموعی طور پر 4 لاکھ 42 ہزار 192 طبی خدمات انجام دیں۔
اس عرصے کے دوران 7 ہزار 254 مصنوعی اعضا تیار کرکے مریضوں کو لگائے گئے، جبکہ 6 ہزار 54 آرتھوپیڈک آلات بھی فراہم کیے گئے۔
اس کے علاوہ ہزاروں مریضوں نے آؤٹ پیشنٹ کلینک، بحالی صحت اور مصنوعی اعضا کی مرمت جیسی سہولتوں سے بھی استفادہ کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق خدمات سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد کے لحاظ سے تعز کا مرکز پہلے نمبر پر رہا، جہاں 43 ہزار 542 افراد کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 19 ہزار 186 طبی خدمات فراہم کی گئیں۔
دوسری جانب مأرب کا مرکز انجام دی جانے والی خدمات کے اعتبار سے سب سے نمایاں رہا، جہاں ایک لاکھ 29 ہزار 358 خدمات فراہم کی گئیں اور 41 ہزار 901 افراد مستفید ہوئے۔
سیئون کے مرکز نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی، جہاں 34 ہزار 587 افراد کو ایک لاکھ 13 ہزار 44 طبی خدمات فراہم کی گئیں۔
اسی طرح عدن کے مرکز سے 34 ہزار 990 افراد نے فائدہ اٹھایا، جبکہ یہاں مجموعی طور پر 80 ہزار 604 طبی خدمات انجام دی گئیں۔
اس پروگرام کے سلسلے میں جون 2026 کی کارکردگی بھی قابل ذکر رہی، جس کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران چاروں مراکز نے 2 ہزار 501 مریضوں کو 8 ہزار 137 مفت طبی خدمات فراہم کیں۔
🏥 یمن: سعودی انسانی امداد اور بحالی
مصنوعی اعضا کے مراکز سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد معذور افراد کی مفت بحالی
شاہ سلمان مرکز کے تعاون سے یمن کے 4 شہروں میں قائم مراکز نے جنگ اور حادثات سے متاثرہ 155,000 سے زائد افراد کو مفت مصنوعی اعضا اور طبی خدمات فراہم کیں۔
🌐 مجموعی طبی خدمات
442,192جنوری 2020 سے جون 2026 تک 155,000 سے زائد مریضوں کو مفت طبی سہولتیں، علاج اور فزیو تھراپی فراہم کی گئی۔
📍 مأرب مرکز (خدمات میں نمبر 1)
129,358خدمات کی فراہمی میں سب سے نمایاں مرکز، جہاں 41,901 متاثرہ افراد نے دیکھ بھال اور علاج حاصل کیا۔
👥 تعز مرکز (مریضوں میں نمبر 1)
43,542مستفید ہونے والے افراد کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا مرکز، جہاں 119,186 طبی خدمات انجام دی گئیں۔
🦾 مصنوعی اعضا اور آلات
13,308متاثرین کو 7,254 نئے مصنوعی اعضا جبکہ 6,054 آرتھوپیڈک آلات تیار کر کے مفت فراہم کیے گئے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس عرصے میں 59 نئے مصنوعی اعضا بھی نصب کیے گئے۔ جون میں مأرب کے مرکز سے 698، سیئون سے 673، عدن سے 596 اور تعز سے 534 افراد نے علاج اور بحالی کی سہولتیں حاصل کیں۔
شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی امور کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد صرف علاج نہیں بلکہ ایسے افراد کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے جو جنگ یا حادثات کے باعث جسمانی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بحالی کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد مریض نہ صرف روزمرہ زندگی کے معمولات بہتر انجام دے سکتے ہیں بلکہ روزگار اور سماجی سرگرمیوں میں بھی دوبارہ حصہ لینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
مرکز کے مطابق یمن میں مصنوعی اعضا اور بحالی صحت کا یہ پروگرام سعودی عرب کی جاری انسانی امدادی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے منصوبوں کے ذریعے متاثرہ افراد کی مدد، ان کی خود انحصاری میں اضافہ اور صحت کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔