یمن کے مشہور ’مہم جُو‘ نوجوان باسم القعقاع، جو اپنے مداحوں میں یمنی اسپائیڈر مین کے نام سے مشہور تھے، ایک المناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گئے۔
مزید پڑھیں
وہ جنوبی یمن کے گورنریٹ الضالع میں واقع ایک قدیم اور خاموش آتش فشاں کے گہرے دہانے میں گر گئے۔
انہیں ’القعقاع بن عنتر‘ بھی کہا جاتا تھا اور وہ اپنی بے خوف مہم جوئی اور خطرناک پہاڑی چوٹیوں پر چڑھنے کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔
وہ ’حرضہ دمت‘ نامی آتش فشانی گڑھے کی اندرونی دیواروں پر بغیر کسی حفاظتی سامان کے کرتب دکھا کر روزی کماتے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ باسم القعقاع سیاحوں کے سامنے اپنا معمول کا کرتب دکھا رہے تھے کہ اچانک ان کا توازن بگڑ گیا۔
توازن کھونے کے باعث وہ تیزی سے گہرے گڑھے کی گہرائیوں میں جا گرے جس سے وہاں موجود لوگ صدمے میں آ گئے۔
مرحوم نوجوان نہ صرف دیواروں پر چڑھنے کے ماہر تھے بلکہ وہ معمولی معاوضے کے عوض سیاحوں کے نام اور یادگاریں بھی آتش فشانی چٹانوں پر لکھتے تھے۔
ان کی بہادری اور خطرناک مقامات پر مہم جوئی کی ویڈیوز نے انہیں انٹرنیٹ پر ایک مقبول شخصیت بنا دیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو باسم القعقاع کی لاش نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آتش فشانی دہانے کی جغرافیائی ساخت انتہائی دشوار گزار اور گہری ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اب تک گہرائی تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گورنریٹ الضالع کے شمالی علاقے میں واقع ’حرضہ دمت‘ ایک اہم سیاحتی مقام ہے جہاں گرم پانی کے چشمے بھی موجود ہیں۔
اس مقام کی چٹانیں انتہائی ڈھلوان اور خطرناک ہیں، جہاں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے یہاں مہم جوئی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
فيديو واضح جدا يوثق لحظة سقوط #القعقاع في فوهة بركان #مدينة دمت الواقعة شمال محافظة الضالع
— زايد المنتصر (@Ashesofmemori) June 12, 2026
اثناء ممارسته رياضة التسلق اليومية وتحدي الطبيعة https://t.co/BkbkmAqpcX pic.twitter.com/tAbBz8PoTK