براہ راست نشریات

مشہور یمنی اسپائیڈرمین آتش فشاں کے گڑھے میں گر کر جاں بحق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
یمنی اسپائیڈرمین باسم القعقاع کا آتش فشاں کے گڑھے حرضہ دمت میں المناک حادثہ
القعقاع اپنی بے خوف مہم جوئی اور خطرناک پہاڑی چوٹیوں پر چڑھنے کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے (فوٹو: انٹرنیٹ)

یمن کے مشہور ’مہم جُو‘ نوجوان باسم القعقاع، جو اپنے مداحوں میں یمنی اسپائیڈر مین کے نام سے مشہور تھے، ایک المناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گئے۔

مزید پڑھیں

وہ جنوبی یمن کے گورنریٹ الضالع میں واقع ایک قدیم اور خاموش آتش فشاں کے گہرے دہانے میں گر گئے۔

انہیں ’القعقاع بن عنتر‘ بھی کہا جاتا تھا اور وہ اپنی بے خوف مہم جوئی اور خطرناک پہاڑی چوٹیوں پر چڑھنے کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ 

وہ ’حرضہ دمت‘ نامی آتش فشانی گڑھے کی اندرونی دیواروں پر بغیر کسی حفاظتی سامان کے کرتب دکھا کر روزی کماتے تھے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ باسم القعقاع سیاحوں کے سامنے اپنا معمول کا کرتب دکھا رہے تھے کہ اچانک ان کا توازن بگڑ گیا۔

توازن کھونے کے باعث وہ تیزی سے گہرے گڑھے کی گہرائیوں میں جا گرے جس سے وہاں موجود لوگ صدمے میں آ گئے۔

یمنی اسپائیڈرمین باسم القعقاع کا آتش فشاں کے گڑھے حرضہ دمت میں المناک حادثہ
ان کی بہادری اور خطرناک مقامات پر مہم جوئی کی ویڈیوز نے انہیں انٹرنیٹ پر ایک مقبول شخصیت بنا دیا تھا (فوٹو: انٹرنیٹ)

مرحوم نوجوان نہ صرف دیواروں پر چڑھنے کے ماہر تھے بلکہ وہ معمولی معاوضے کے عوض سیاحوں کے نام اور یادگاریں بھی آتش فشانی چٹانوں پر لکھتے تھے۔

ان کی بہادری اور خطرناک مقامات پر مہم جوئی کی ویڈیوز نے انہیں انٹرنیٹ پر ایک مقبول شخصیت بنا دیا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو باسم القعقاع کی لاش نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

آتش فشانی دہانے کی جغرافیائی ساخت انتہائی دشوار گزار اور گہری ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اب تک گہرائی تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ گورنریٹ الضالع کے شمالی علاقے میں واقع ’حرضہ دمت‘ ایک اہم سیاحتی مقام ہے جہاں گرم پانی کے چشمے بھی موجود ہیں۔ 

اس مقام کی چٹانیں انتہائی ڈھلوان اور خطرناک ہیں، جہاں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے یہاں مہم جوئی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔