براہ راست نشریات

امریکی جنگی مشین متحرک: ایران کے جوہری مراکز تباہ کرنے کا منصوبہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران جنگ

یورپ سے امریکی لڑاکا طیاروں کی منتقلی اور جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں سے جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خطرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے، جس میں جوہری تنصیبات پر نئے حملے اور ایرانی سرزمین کے اندر مزید اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
امریکا نے خطے میں درجنوں فضائی ایندھن بردار طیارے بھیجنے اور یورپ سے لڑاکا طیارے منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ مسلسل ساتویں رات ایرانی فوجی، بحری اور بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات پر حملے جاری رہے۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی محاذ آرائی اب صرف خلیجی پانیوں یا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ تک محدود نہیں رہی۔ 

میدانِ جنگ میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیاں اور امریکا کی مسلسل عسکری نقل و حرکت اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ واشنگٹن تصادم کو ایک زیادہ وسیع اور خطرناک مرحلے میں داخل کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملے اور ملک کے اندر اہم اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

امریکی فوج مسلسل ساتویں رات ایران کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ واشنگٹن نے خطے میں اپنی فضائی طاقت بڑھانے کے لیے درجنوں فضائی ایندھن بردار طیارے روانہ کرنا اور یورپ میں موجود اپنے لڑاکا طیاروں کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

یہ اقدامات امریکا کو طویل فاصلے تک فضائی کارروائیاں کرنے، زیادہ تعداد میں جنگی پروازیں جاری رکھنے اور نسبتاً پیچیدہ فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

ایک سطر میں کہانی

امریکا ایرانی جوہری تنصیبات سمیت بڑے اہداف پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ تہران آبنائے ہرمز کو اپنی سب سے طاقتور جوابی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اگرچہ امریکی انتظامیہ نے ابھی تک جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم یہ عسکری تیاریاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں نئی جنگی حکمت عملیوں پر غور جاری ہے۔ 

مزید پڑھیں

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں تک محدود کارروائیوں کے بجائے ایک بڑے تصادم کے لیے سنجیدہ تیاری کر رہا ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے 3 امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو مزید فضائی ایندھن بردار طیارے بھیجنے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ 

ان طیاروں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی مہم وسیع کرنے کا فیصلہ کریں تو امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کو طویل فاصلے تک کارروائیوں میں معاونت حاصل ہو۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں منعقدہ اجلاس کے دوران کئی نئی عسکری تجاویز کا جائزہ لیا۔ 

ان میں ایران کے اندر زیادہ وسیع حملے بھی شامل ہیں، جبکہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکی کارروائیاں زیادہ تر ایرانی بحری صلاحیت، ساحلی دفاع اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنصیبات تک محدود رہی تھیں۔

جوہری تنصیبات دوبارہ نشانے پر

امریکی انتظامیہ کے زیر غور سب سے خطرناک آپشن ایران کی جوہری تنصیبات پر نئے حملے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق، ان حملوں کا مقصد زیر زمین محفوظ کیے گئے یورینیم کے ذخائر کو مزید گہرائی میں دبا دینا اور مستقبل میں ایران کے لیے ان تک رسائی یا دوبارہ استعمال کے امکانات کم کرنا ہو سکتا ہے۔

اس آپشن پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن نے حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام ایک مرتبہ پھر امریکی فوجی منصوبہ بندی کے مرکز میں آ گیا ہے۔

فیکٹ باکس

امریکی منصوبہ کیا ہے؟
ایران کے اندر فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنا اور مزید حساس اہداف کو حملوں میں شامل کرنا۔
ممکنہ بڑے اہداف کون سے ہیں؟
جوہری تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، فوجی رسد، بحری مراکز اور اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچہ۔
امریکا کی فضائی تیاری کیا ہے؟
درجنوں فضائی ایندھن بردار طیاروں کی تعیناتی اور یورپ سے اضافی لڑاکا طیاروں کی مشرقِ وسطیٰ منتقلی۔
حملے کتنی راتوں سے جاری ہیں؟
امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل سات راتوں تک نئی کارروائیوں کا اعلان کیا۔
کن ایرانی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا؟
قشم، بوشہر، سیریک اور بندر عباس سمیت کئی ساحلی اور اسٹریٹجک علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات آئیں۔
کون سی تنصیبات متاثر ہوئیں؟
پل، بندرگاہ، ہوائی اڈہ، ریلوے اسٹیشن، ساحلی دفاعی مراکز اور بجلی کی تنصیبات۔
جانی نقصان کتنا بتایا گیا؟
ایرانی سرکاری اطلاعات کے مطابق حملوں میں 8 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔
تنازع کا مرکزی مقام کہاں ہے؟
عالمی توانائی اور تجارت کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز موجودہ کشیدگی کا مرکز ہے۔
امریکا کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
ایران کو جہاز رانی میں رکاوٹ ختم کرنے، بحری حملے روکنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے پر مجبور کرنا۔
ایران کی جوابی حکمتِ عملی کیا ہے؟
آبنائے ہرمز، تجارتی جہازوں اور عالمی توانائی کی ترسیل کو امریکا کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا۔

گزشتہ کارروائیوں میں امریکا نے زیادہ تر ایران کی بحری طاقت، ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاع اور آبنائے ہرمز میں اس کی عملی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اب جنگی اہداف کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ ایران کے اندر موجود فوجی، لاجسٹک اور اسٹریٹجک تنصیبات کو بھی نئے ’ٹارگٹ بینک‘ میں شامل کرنے کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم ان مقامات کی نوعیت یا ممکنہ حملوں کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یہ اطلاعات اسرائیلی رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ایران کے اندر زیادہ حساس اہداف پر حملوں کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

ان میں ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں سے منسلک تنصیبات کے علاوہ وہ بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہو سکتا ہے جس پر تہران جنگی انتظام، اسلحے کی منتقلی اور فوجی رسد کے لیے انحصار کرتا ہے۔

امریکا کے لیے جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکی ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاکہ تہران جہاز رانی پر حملے روکے اور مستقبل کے کسی ممکنہ معاہدے میں زیادہ سخت امریکی شرائط تسلیم کرے۔

تاہم اس آپشن پر عمل درآمد پورے خطے کو ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔ ایران اپنی جوہری تنصیبات پر حملے کو ممکنہ طور پر سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف سمجھے گا اور اس کے جواب میں خطے بھر میں امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور واشنگٹن کے اتحادی ممالک کے اہم مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اہم نکات
ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
ایرانی جوہری تنصیبات پر دوبارہ حملے کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔
امریکا مزید فضائی ایندھن بردار طیارے مشرقِ وسطیٰ روانہ کر رہا ہے۔
یورپ میں تعینات امریکی لڑاکا طیارے بھی خطے میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔
امریکی حملے مسلسل ساتویں رات ایران کے مختلف علاقوں میں جاری رہے۔
پلوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ریلوے اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
ایران آبنائے ہرمز کو امریکا کے خلاف اہم دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
کشیدگی مزید بڑھی تو خطہ وسیع جنگ اور عالمی توانائی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

مسلسل ساتویں رات حملے

سیاسی اور عسکری مشاورت کے ساتھ ساتھ امریکی فوج نے جمعہ کو ایران کے اندر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا، جو مسلسل ساتویں رات کی کارروائی تھی۔

امریکی مرکزی کمان ’سینٹ کام‘ نے بتایا کہ حملے گرین وچ وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہوئے اور ان کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے قشم، بوشہر، سیریک اور بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات دیں۔ 

یہ تمام علاقے فوجی، بحری اور لاجسٹک اعتبار سے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں اور خلیج اور آبنائے ہرمز میں ایرانی کارروائیوں سے براہِ راست منسلک ہیں۔

امریکی فوج نے اس سے ایک رات پہلے بھی درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جن میں ساحلی نگرانی کے مقامات، فضائی دفاعی نظام، فوجی رسد کا ڈھانچہ اور بحری تنصیبات شامل تھیں۔

تاہم حالیہ حملے روایتی فوجی اہداف سے آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 

ایرانی اطلاعات کے مطابق، حملوں میں پلوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بجلی کے نظام سے منسلک تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب صرف ایران کی براہِ راست جنگی صلاحیت کو نہیں بلکہ فوجیوں، ہتھیاروں اور رسد کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

ایرانی حکام نے ملک کے جنوبی حصوں میں بجلی کے نظام کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں سے بجلی کے استعمال میں احتیاط کی اپیل کی۔

ایرانی میڈیا ذرائع کے مطابق، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔

ان تنصیبات کو نشانہ بنانا محض فوجی نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں، بلکہ ایک سیاسی اور نفسیاتی پیغام بھی ہے کہ امریکا جنگ کو ایران کے ساحلی علاقوں سے ملک کے داخلی شہروں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور توانائی کے نظام تک لے جا سکتا ہے۔

بحری محاصرہ، اندرونی دباؤ میں تبدیل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو تمام ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری محاصرہ نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر جہاز رانی میں رکاوٹ کا حل نہ نکلا تو ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

چند ہی دن بعد پلوں، بجلی کی تنصیبات اور نقل و حمل کے مراکز پر حملوں کی اطلاعات سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی دھمکیاں بتدریج عملی جنگی اہداف میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

واشنگٹن اس مہم کے ذریعے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر حملے روکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔

ٹائم لائن

منگل ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری محاصرہ نافذ کرنے کا اعلان کیا اور معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکی دی۔
منگل وائٹ ہاؤس میں نئی جنگی تجاویز
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایران کے خلاف کئی نئے فوجی منصوبوں کا جائزہ لیا، جن میں حملوں کا دائرہ ایرانی سرزمین کے اندر تک بڑھانا شامل تھا۔
بعد ازاں مزید ایندھن بردار طیاروں کی روانگی
امریکا نے اسرائیل کو آگاہ کیا کہ خطے میں مزید فضائی ایندھن بردار طیارے بھیجے جا رہے ہیں، تاکہ کسی ممکنہ وسیع فضائی کارروائی کی حمایت کی جا سکے۔
جمعرات کی رات درجنوں فوجی اہداف پر حملے
امریکی فوج نے ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام، فوجی رسد اور ایرانی بحری تنصیبات سمیت درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا۔
جمعہ مسلسل ساتویں رات نئی کارروائیاں
امریکی مرکزی کمان نے ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات نئی فضائی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
جمعہ کی رات ایرانی شہروں میں دھماکے
قشم، بوشہر، سیریک اور بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ ایرانی ذرائع نے پلوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا۔
اسی دوران یورپ سے لڑاکا طیاروں کی منتقلی
امریکا نے یورپ میں تعینات لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا شروع کیے، جسے زیادہ طویل اور وسیع جنگی مہم کی تیاری قرار دیا گیا۔
ایرانی ردعمل ہرمز میں غیر ملکی جہاز نشانہ بنا
ایران نے دعویٰ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے تھائی پرچم بردار جہاز کو نشانہ بنایا۔
اب جوہری تنصیبات پر حملے کا امکان
ٹرمپ انتظامیہ ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں اور ملک کے اندر اسٹریٹجک اہداف کا دائرہ وسیع کرنے کے آپشن پر غور کر رہی ہے، تاہم کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

ایران نے گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس سے جون میں طے پانے والی کمزور جنگ بندی مزید متاثر ہوئی اور تیل، گیس اور عالمی تجارت کے بہاؤ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی۔

ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کو امریکا کے خلاف سب سے اہم دباؤ کے ہتھیاروں میں شمار کرتا ہے۔

تہران جانتا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں خلل سے تیل کی قیمتیں، جہاز رانی کے اخراجات اور انشورنس پریمیم تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بڑی عالمی معیشتیں اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک واشنگٹن پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا سمجھتا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول قائم کرنے کی اجازت دینا امریکی فوجی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ اس کے اتحادیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، بالخصوص ان ممالک کے لیے جو خلیج سے آنے والی توانائی کی فراہمی پر انحصار کرتے ہیں۔

یورپ سے لڑاکا طیارے، طویل جنگ کی تیاری

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق، امریکا نے یورپ میں موجود اپنے لڑاکا طیاروں کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ 

یہ پیش رفت ایران کے اندر اہداف کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

ان طیاروں کی تعیناتی امریکی فوج کو زیادہ تعداد میں جنگی پروازیں کرنے، دور دراز اہداف تک پہنچنے، بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کی حفاظت اور ایرانی طیاروں یا میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

فضائی ایندھن بردار طیارے کسی بھی بڑے فضائی آپریشن میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی مدد سے لڑاکا اور بمبار طیارے زیادہ دیر تک فضا میں رہ سکتے ہیں اور ایران کے اندر دور دراز یا سخت حفاظتی حصار میں موجود مقامات تک پہنچ سکتے ہیں۔

ان عسکری تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف چند روزہ کارروائی کے لیے تیار نہیں ہو رہا، بلکہ سیاسی دباؤ ناکام ہونے کی صورت میں ایک طویل جنگی مہم جاری رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کر رہا ہے۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق، اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا مقصد ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھانا اور اسے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے روکنے پر مجبور کرنا ہے۔

تاہم امریکا کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی غلط اندازوں اور غیر ارادی تصادم کے خطرات بھی بڑھا رہی ہے۔ 

کسی امریکی اڈے یا جہاز پر بڑا ایرانی حملہ، یا حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں، واشنگٹن کو زیادہ سخت ردعمل پر مجبور کر سکتی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

01 جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے

ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ محدود تصادم کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے، جس میں امریکی اڈے اور خلیجی ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

02 آبنائے ہرمز عالمی شہ رگ ہے

آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ سے تیل اور گیس کی ترسیل، بین الاقوامی تجارت، بحری انشورنس اور شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

03 عام صارف پر براہِ راست اثر

تیل مہنگا ہونے سے پیٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام گھرانوں کو اٹھانا پڑے گا۔

04 خلیجی پاکستانی بھی متاثر ہوں گے

خطے میں جنگی خطرات بڑھنے سے فضائی سفر، روزگار، کاروبار، بچت اور پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اصل خطرہ صرف ایک نئے امریکی حملے کا نہیں، بلکہ ایسے جوابی حملوں کا ہے جو توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی کے پورے نظام کو بحران میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

تہران کی آبنائے ہرمز پر گرفت

ایران کی جانب سے بھی پسپائی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم‘ نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے تھائی لینڈ کا پرچم بردار جہاز اس وقت نشانہ بنایا جب اس نے اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی۔

اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں عملی طور پر اجازت ناموں کا نظام نافذ کرنا چاہتا ہے، جو واشنگٹن کے اس مؤقف کے لیے براہِ راست چیلنج ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور ایران کو اسے بند کرنے یا جہازوں کی آمدورفت پر پابندی لگانے کا حق حاصل نہیں۔

یہ واقعہ اس امکان کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے فضائی حملوں کا جواب تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر دے سکتا ہے۔

تاہم ایسی حکمت عملی انتہائی خطرناک ہے۔ 

کسی بڑے تجارتی جہاز یا تیل بردار ٹینکر پر حملہ نہ صرف تیل اور انشورنس کی قیمتیں بڑھا سکتا ہے بلکہ مزید ممالک کو اس تنازع میں مداخلت پر بھی مجبور کر سکتا ہے۔

مذاکراتی دباؤ یا جنگ کا آغاز؟

وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارتِ دفاع نے ابھی تک جوہری تنصیبات پر حملے یا فوجی مہم وسیع کرنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اسرائیل نے بھی سرکاری طور پر یہ تسلیم نہیں کیا کہ اسے مزید امریکی ایندھن بردار طیاروں کی روانگی سے آگاہ کیا گیا ہے، جبکہ بیشتر اطلاعات نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی اور اسرائیلی حکام پر مبنی ہیں۔

اس کے باوجود زمینی اور فضائی سطح پر ہونے والی عسکری نقل و حرکت ان رپورٹس کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔

لڑاکا طیاروں کی منتقلی اور فضائی ایندھن بردار طیاروں میں اضافہ محض میڈیا کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی نہیں، بلکہ ایران جیسے وسیع جغرافیے کے حامل ملک کے خلاف بڑی فضائی مہم کے لیے ضروری عملی تیاری بھی ہے۔

ممکن ہے واشنگٹن یہ عسکری طاقت تہران کو خوف زدہ کرنے اور اسے یہ باور کرانے کے لیے استعمال کر رہا ہو کہ آبنائے ہرمز کی بندش جاری رکھنے کی قیمت زیادہ تباہ کن حملوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔

ممکنہ اگلے منظرنامے

01 محدود فوجی دباؤ
امریکا ایرانی ساحلی، بحری اور فوجی اہداف پر حملے جاری رکھے، لیکن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ ایران بھی آبنائے ہرمز میں محدود رکاوٹیں برقرار رکھتے ہوئے مکمل علاقائی جنگ سے بچے۔
خطرے کی سطح: درمیانی
02 مذاکرات کی بحالی
پاکستان، قطر، عمان یا کسی دوسرے ثالث کی کوششوں سے امریکا اور ایران محدود جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت پر رضامند ہو جائیں۔
خطرے کی سطح: نسبتاً کم
03 جوہری تنصیبات پر حملہ
امریکا ایران کی جوہری تنصیبات یا زیرِ زمین یورینیم ذخائر کو نشانہ بنائے، جس کے جواب میں تہران امریکی اڈوں، بحری جہازوں اور خطے میں واشنگٹن کے اتحادیوں پر حملے بڑھا دے۔
خطرے کی سطح: انتہائی بلند
04 وسیع علاقائی جنگ
کسی امریکی اڈے، خلیجی توانائی تنصیب یا بڑے تجارتی جہاز پر تباہ کن حملے کے بعد جنگ کئی ممالک تک پھیل جائے، فضائی اور بحری راستے متاثر ہوں اور عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر لے۔
خطرے کی سطح: فیصلہ کن
سب سے زیادہ امکان محدود فوجی دباؤ اور متوازی سفارتی کوششوں کا ہے، لیکن جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے سے صورتِ حال چند گھنٹوں میں وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

لیکن یہی عسکری تیاری اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے کہ سفارتی راستے ناکام ہونے کی صورت میں امریکا جنگ کو ایک نئے اور کہیں زیادہ خطرناک مرحلے میں لے جانے کے لیے تیار ہے۔

خطہ اب ایک انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔

ایک راستہ ایسا معاہدہ ہے جو آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے اور دونوں طرف کے حملے روک دے۔ دوسرا راستہ ایران کی جوہری تنصیبات، بجلی کے مراکز، پلوں، ہوائی اڈوں اور اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کے خلاف وسیع حملوں کی طرف جاتا ہے۔

یورپ سے آنے والے لڑاکا طیارے، خطے میں پہنچنے والے فضائی ایندھن بردار طیارے، ہر رات پھیلتے ہوئے حملے اور آبنائے ہرمز میں خطرے سے دوچار جہاز اس بات کی علامت ہیں کہ ایک بڑی جنگ کے بیشتر عناصر اب میدان میں موجود ہیں۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ اس طاقت کو ایران کو مذاکرات اور پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، یا واشنگٹن واقعی جنگ کو آبنائے ہرمز سے ایران کے جوہری پروگرام کے قلب تک لے جانے کی تیاری مکمل کر چکا ہے؟

📚
رپورٹ کے اصل ذرائع
اس خصوصی رپورٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے اصل، معتبر اور سرکاری ذرائع
ORIGINAL SOURCES