براہ راست نشریات

امن معاہدہ 30 دن میں خونریز جنگ میں کیسے بدل گیا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران معاہدہ

امریکا اور ایران کا 60 روزہ امن معاہدہ صرف ایک ماہ میں عملی طور پر ناکام ہوگیا۔
آبنائے ہرمز، بحری ناکہ بندی، امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں نے مذاکرات کو منجمد کردیا، جبکہ خطہ دوبارہ جنگ، اقتصادی دباؤ اور سفارتی تعطل کی لپیٹ میں آگیا۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

صرف ایک ماہ قبل امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو خطے میں وسیع تر کشیدگی کم کرنے کی سب سے اہم کوشش قرار دیا جا رہا تھا۔ 

اسے ایک ایسے سفارتی دروازے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کے ذریعے برسوں سے جاری امریکی ایرانی تنازع کو مذاکرات کی میز تک لایا جا سکتا تھا۔

اس دستاویز کے اہداف غیر معمولی طور پر بڑے تھے: 

تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت، ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے عارضی استثنا اور صرف 60 دن کے اندر ایک جامع حتمی معاہدہ۔

مگر بند کمروں میں کاغذ پر لکھی گئی سفارتی امیدیں میدانِ جنگ کے دباؤ کا زیادہ دیر مقابلہ نہ کرسکیں۔

مزید پڑھیں

چند ہی ہفتوں میں امریکی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے، ایران نے خلیجی اور عرب ممالک میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی خطرناک حد تک کم ہوگئی، تیل سے متعلق رعایتیں منسوخ کردی گئیں اور مذاکراتی عمل منجمد ہوگیا۔

یوں جس مفاہمت کو جنگ اور امن کے درمیان ایک پل سمجھا جا رہا تھا، وہ صرف 30 دن میں ایک ایسی دستاویز بن گئی جو نہ جنگ روک سکی

 اور نہ پائیدار مذاکرات کی بنیاد قائم کرسکی۔

جنگ بندی جو عملاً شروع ہی نہ ہوسکی

مفاہمتی یادداشت میں امریکا، ایران اور ان کے اتحادیوں کو تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

فریقین نے اس بات کا بھی عہد کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف نئی جنگ شروع نہیں کریں گے، فوجی طاقت استعمال نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کے استعمال کی دھمکی دیں گے۔ 

لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو بھی معاہدے کا بنیادی جزو قرار دیا گیا تھا۔

لیکن زمینی حقائق نے اس شق کو بہت جلد غیر مؤثر بنا دیا۔

امریکا نے ایران کے اندر کئی روز تک مسلسل فضائی حملے کیے۔ 

واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں، جن کی ذمہ داری امریکا نے ایران پر عائد کی۔

FACT BOX

امریکا ایران معاہدہ: اہم حقائق

ہر نکتے کی تفصیل دیکھنے کے لیے بٹن پر کلک کریں

امریکا اور ایران کو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی گئی تھی، جس میں دونوں فریقوں کی رضامندی سے توسیع ممکن تھی۔

فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی، ایران پر بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل کی برآمدات میں رعایت اور جوہری مذاکرات میں پیش رفت۔

آبنائے ہرمز کی انتظامی حیثیت، مستقبل میں ممکنہ فیس، جہازوں کی آزادانہ آمدورفت اور ایران کے جوہری پروگرام پر اختلاف معاہدے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنے۔

امریکا نے مسلسل چھ راتوں تک ایران میں ساحلی نگرانی، فضائی دفاع، فوجی رسد، پلوں، بندرگاہوں، مواصلاتی مراکز اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔

ایران نے قطر، کویت، بحرین، اردن اور شام میں امریکی فوجی مراکز یا متعلقہ اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔

کویت نے 32 ڈرونز، جبکہ اردن نے تین ایرانی میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ قطر میں دفاعی کارروائی کے دوران ملبہ گرنے سے ایک بچہ زخمی ہوا۔

کشیدگی اور جہازوں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت شدید متاثر ہوئی اور 24 گھنٹوں میں صرف تین جہازوں کے گزرنے کی اطلاع سامنے آئی۔

ایران میں سالانہ مہنگائی 88.6 فیصد تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی، جبکہ معیشت میں 5.4 فیصد سکڑاؤ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

جنگ بندی کمزور ہوچکی ہے، بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہے، تیل کی رعایتیں واپس لے لی گئی ہیں اور جوہری مذاکرات عملی طور پر منجمد ہیں۔

BY: overseaspost.net

اس کے جواب میں تہران نے مختلف عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں، فوجی مراکز اور رسد کے ٹھکانوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔

اگرچہ اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، لیکن خطے کے دیگر حصوں میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے وعدے کو تقریباً بے معنی بنا دیا۔

یوں مفاہمتی یادداشت ایک مستقل جنگ بندی کے بجائے ایک مختصر اور نازک وقفہ ثابت ہوئی، جسے پہلی بڑی عسکری آزمائش ہی بہا لے گئی۔

آبنائے ہرمز، معاہدے کی دیوار میں پہلی دراڑ

مفاہمتی یادداشت کا سب سے حساس حصہ آبنائے ہرمز سے متعلق تھا، اور یہی آبی گزرگاہ بعد میں معاہدے کے انہدام کا بنیادی سبب بن گئی۔

دستاویز کے مطابق ایران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ خلیج سے خلیج عمان اور اس کے برعکس تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامات کرے گا۔ 

پہلے 60 دن تک کسی جہاز سے کوئی فیس وصول نہ کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔

یہ بھی طے پایا تھا کہ جہاز رانی فوری طور پر بحال کی جائے گی اور تکنیکی و عسکری رکاوٹوں اور بارودی سرنگوں کے خاتمے کے بعد 30 دن کے اندر اسے جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لایا جائے گا۔

ایران کو سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کی مستقبل کی انتظامی اور بحری خدمات پر بات چیت کرنا تھی، جبکہ خلیج کے دیگر ساحلی ممالک سے بھی بین الاقوامی قانون اور ان کی خودمختاری کے مطابق مشاورت کی جانی تھی۔

مگر تنازع اس وقت پیدا ہوا جب تہران نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا جغرافیائی محل وقوع اور آبنائے کے تحفظ میں اس کا کردار اسے جہازوں کی آمدورفت کے انتظام اور 60 دن بعد ممکنہ فیس وصول کرنے کا حق دیتا ہے۔

امریکا اور دیگر علاقائی و عالمی فریقوں نے اس تشریح کو مسترد کردیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے، جسے جنگ سے پہلے کی طرح تمام ممالک کے لیے بلا معاوضہ اور بلا رکاوٹ کھلا رہنا چاہیے۔

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 01 55 31 م

واشنگٹن نے ایرانی کنٹرول سے باہر عمانی ساحل کے قریب تجارتی جہازوں کے لیے ایک متبادل راستہ قائم کیا، لیکن اس راستے کو استعمال کرنے والے جہازوں پر حملوں نے کشیدگی دوبارہ بھڑکا دی۔

لڑائی میں اضافے کے ساتھ جہاز رانی میں شدید کمی واقع ہوئی۔ مارین ٹریفک کے اعدادوشمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں صرف 3 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے۔

یوں جس آبی راستے کو فریقین کے درمیان اعتماد سازی کی بنیاد بننا تھا، وہی معاہدے کی دیوار میں پہلی اور سب سے گہری دراڑ ثابت ہوا۔

بحری ناکہ بندی ختم ہوئی، پھر پہلے سے زیادہ سختی سے لوٹ آئی

امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران پر عائد بحری ناکہ بندی اور دیگر رکاوٹیں فوراً ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ یہ عمل 30 دن کے اندر مکمل ہونا تھا۔

ابتدائی مرحلے میں ناکہ بندی واقعی اٹھا لی گئی، لیکن تجارتی جہازوں پر نئے حملوں کے بعد واشنگٹن نے اسے دوبارہ نافذ کردیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے تین ایسے تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا جو مبینہ طور پر ایران پر عائد بحری پابندیوں کی خلاف ورزی کررہے تھے۔ 

ایک چوتھے جہاز کو احکامات نہ ماننے پر غیر فعال کردیا گیا۔

ایک اور واقعے میں امریکی فورسز نے اس جہاز پر فائرنگ کی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کررہا تھا۔

واشنگٹن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے پانی جہاز رانی کے لیے کھلے ہیں، لیکن ایسے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کریں۔

یہ مؤقف بذات خود ایک تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔ 

امریکا ایک طرف بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن دوسری طرف ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں پر عسکری پابندیاں نافذ کررہا ہے۔

تیل کی رعایتیں بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکیں

اقتصادی محاذ پر واشنگٹن نے وعدہ کیا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد امریکی وزارت خزانہ ایرانی خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلق خدمات کے لیے عارضی استثنا جاری کرے گی۔

ان خدمات میں بینکاری لین دین، نقل و حمل، بحری انشورنس اور دیگر مالی و تجارتی سہولتیں شامل تھیں۔

امریکا نے ابتدائی طور پر یہ رعایتیں جاری بھی کردیں، جسے ایران کے لیے امن اور مذاکرات سے وابستہ رہنے کی ایک بڑی اقتصادی ترغیب سمجھا گیا۔

تاہم بحری جہازوں پر نئے حملوں کے بعد یہ تمام استثنا واپس لے لیے گئے اور پابندیاں ایک بار پھر تہران پر دباؤ ڈالنے کا بنیادی ہتھیار بن گئیں۔

اس طرح ایران کو معاہدے سے حاصل ہونے والا سب سے اہم فوری اقتصادی فائدہ بھی ختم ہوگیا۔

TIMELINE

مفاہمت سے دوبارہ جنگ تک

امریکا ایران امن منصوبہ صرف 30 دن میں کیسے بکھر گیا؟

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں شروع کردیں اور خطہ ایک وسیع فوجی تصادم میں داخل ہوگیا۔

امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور 60 دن میں حتمی معاہدہ طے کرنے پر اتفاق کیا۔

واشنگٹن نے ایران پر بحری ناکہ بندی عارضی طور پر اٹھائی اور ایرانی تیل کی برآمد، بینکاری، انشورنس اور نقل و حمل کے لیے محدود استثنا جاری کیے۔

ایران نے آبنائے ہرمز کی آمدورفت میں انتظامی کردار اور مستقبل میں ممکنہ فیس کا حق ظاہر کیا، جبکہ امریکا نے اسے بلا معاوضہ بین الاقوامی آبی راستہ قرار دیا۔

امریکا نے ایرانی کنٹرول سے باہر ایک متبادل بحری راستہ قائم کیا، لیکن اسے استعمال کرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں نے کشیدگی دوبارہ بھڑکا دی۔

تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی اور تیل کی برآمدات سے متعلق استثنا بھی واپس لے لیے۔

امریکی فورسز نے مسلسل چھ راتوں تک ایران کے ساحلی دفاع، فوجی رسد، پلوں، بندرگاہوں، مواصلاتی مراکز اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایران نے قطر، کویت، بحرین، اردن اور شام میں امریکی یا فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے۔

جوہری مذاکرات میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت شدید متاثر ہے اور حتمی امن معاہدہ غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔

BY: overseaspost.net

مذاکرات منجمد، جوہری مسئلہ بدستور حل طلب

مفاہمتی یادداشت میں امریکا اور ایران کو 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدہ طے کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔ دونوں کی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی گنجائش موجود تھی۔

اس حساب سے مذاکرات کی ابتدائی مدت اگست کے وسط میں مکمل ہونی تھی، لیکن کسی نمایاں پیش رفت کے عوامی شواہد سامنے نہیں آئے۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت اور ان کی تدفین کے باعث مذاکرات روک دیے گئے تھے، تاہم اس کے بعد یہ واضح نہیں ہوسکا کہ بات چیت دوبارہ شروع ہوئی یا فریقین کسی قابلِ ذکر پیش رفت تک پہنچ سکے۔

سب سے بڑی رکاوٹ بدستور ایران کا جوہری پروگرام ہے۔

ایران نے ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک نے اصولی طور پر اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ افزودہ جوہری مواد کے ذخیرے کو ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت کم درجے میں تبدیل کیا جائے گا۔

ابتدائی تجویز کے مطابق یہ عمل ایران کے اندر اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہونا تھا۔

لیکن تہران نے اپنے اس روایتی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اعلان نہیں کیا کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے۔

ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو بعض بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے بھی انکار کردیا، جہاں مبینہ طور پر انتہائی افزودہ یورینیم ملبے کے نیچے موجود ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے تمام پابندیاں حتمی معاہدے کے تحت اٹھانے کا وعدہ تو کیا، لیکن امریکی حکام نے اسے جوہری پروگرام اور دیگر سکیورٹی معاملات میں پیش رفت سے مشروط رکھا۔

اصل سوال آج بھی حل طلب ہے: 

ایران اپنے جوہری پروگرام پر کتنی پابندیاں قبول کرے گا، معائنہ کس نظام کے تحت ہوگا اور اس کے بدلے واشنگٹن کتنی اقتصادی اور سیاسی رعایتیں دے گا؟

کیا 60 دن تین دہائیوں کی ناکام سفارت کاری کا حل تھے؟

28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی، اسرائیلی اور ایرانی جنگ کے تین ماہ بعد مفاہمتی یادداشت ایک مکمل امن معاہدے کے بجائے امن معاہدے پر مذاکرات کرنے کی ایک ابتدائی دستاویز ثابت ہوئی۔

اس نے ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں، علاقائی اتحادی نیٹ ورک یا خطے کے مستقبل کے سکیورٹی نظام سے متعلق کسی بڑے سوال کا حتمی جواب نہیں دیا۔

تقریباً تمام اختلافی معاملات کو 60 روزہ مذاکراتی مدت کے لیے مؤخر کردیا گیا، جس میں باہمی رضامندی سے مزید توسیع بھی ممکن تھی۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سب سے بڑا خطرہ صرف مکمل جنگ کا دوبارہ آغاز نہیں، بلکہ ایک ایسی مستقل سفارتی جمود کی کیفیت بھی ہے جس میں نہ جنگ ختم ہوتی ہے اور نہ امن قائم ہوتا ہے۔

ChatGPT Image 12 يوليو 2026، 10 00 07 م 2

ادارے کے مطابق سب سے بڑا فریب یہ تصور تھا کہ دو ماہ میں وہ تنازعات حل کیے جاسکتے ہیں جنہیں تین دہائیوں کی سفارت کاری حل نہ کرسکی۔

مفاہمتی یادداشت نے بنیادی سوالات کے جواب دینے کے بجائے انہیں مؤخر کیا اور فریقین کو مزید بات چیت کا پابند بنایا، جبکہ مذاکرات کا اصل جوہر حل طلب ہی رہا۔

جنگ ایران سے نکل کر عرب ممالک تک پھیل گئی

سیاسی عمل کے جمود کے ساتھ عسکری کشیدگی تیزی سے پھیلنے لگی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نے امریکی حملوں میں آٹھ افراد کی ہلاکت اور بیس کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ 

ان حملوں میں جنوبی ایران کے پلوں اور دیگر بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران نے شام، اردن، قطر، کویت اور بحرین میں مختلف اہداف پر حملوں کے دعوے کیے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے شام کے علاقے التنف میں ایک امریکی آپریشنز سینٹر کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، لیکن ایک شامی فوجی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ اڈے پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور وہاں امریکی فوجی موجود نہیں۔

اردن کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ایرانی میزائلوں کو تباہ کردیا۔ 

واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

قطر میں دارالحکومت دوحہ کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ 

قطری وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ مسلح افواج نے ملک کو نشانہ بنانے والے ایک میزائل حملے کا مقابلہ کیا۔

قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق فضائی دفاعی کارروائی سے گرنے والے ملبے کے باعث ایک بچہ زخمی ہوا، جبکہ سکیورٹی اور سول ڈیفنس اداروں نے ہنگامی منصوبوں کے تحت کارروائیاں شروع کردیں۔

کویت کی وزارت دفاع نے جمعرات کی صبح سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 32 دشمن ڈرونز تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

کویتی حکام کے مطابق بعض اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے رہائشی علاقوں میں مالی نقصان ہوا، تاہم کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

بحرین میں بھی ایران کے ڈرون حملوں کے دعووں کے بعد خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔

ان حملوں نے ظاہر کردیا کہ تنازع اب صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہا، بلکہ خلیجی ممالک کی فضائی حدود، رہائشی علاقے، فوجی تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر بھی اس کی زد میں آچکے ہیں۔

ایران کے پل، بندرگاہیں اور مواصلاتی نظام نشانے پر

ایران کے اندر امریکی حملوں کا دائرہ فوجی اہداف سے بڑھ کر سڑکوں، پلوں، ریلوے، مواصلاتی نظام، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں تک پہنچ گیا۔

ایرانی حکام نے صوبہ ہرمزگان میں دو پلوں پر حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی۔ بندر عباس میں ریلوے لائن کے ایک جنکشن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بوشہر، قشم، خوزستان اور ایرانشہر میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات آئیں، جبکہ خلیج عمان پر واقع اہم بندرگاہ چابہار کا بحری نگرانی کا ٹاور حملے کے بعد مکمل طور پر منہدم ہوگیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق بندر عباس میں ایک پہاڑی پر نصب مواصلاتی ٹاور پر حملے سے بجلی منقطع ہوگئی، جبکہ بندر عباس کو شیراز سے ملانے والے پل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ پلوں پر حملوں کا مقصد بندر عباس تک عسکری رسد کے راستے منقطع کرنا تھا۔ 

واشنگٹن کا الزام ہے کہ اسی علاقے کو آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

WHY IT MATTERS

یہ کیوں اہم ہے؟

امریکا ایران تصادم کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں جہاز رانی میں رکاوٹ تیل، گیس، سامان کی ترسیل اور عالمی سپلائی چین کو براہِ راست متاثر کرسکتی ہے۔

بحری راستوں پر حملوں، انشورنس کی بڑھتی لاگت اور تیل کی ترسیل میں کمی سے عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوسکتا ہے، جس کا اثر ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔

قطر، کویت، بحرین اور اردن تک میزائل اور ڈرون حملوں کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی رکھنے والے ممالک بھی اس جنگ کے براہِ راست میدان میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

توانائی، بجلی، مواصلات، پلوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر حملے عام شہریوں، اسپتالوں، صنعتوں اور روزمرہ خدمات کو متاثر کرسکتے ہیں، جس سے انسانی بحران کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پابندیوں، بحری ناکہ بندی، بلند مہنگائی اور توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان سے ایرانی معیشت مزید سکڑ سکتی ہے، جس کا دباؤ حکومت کے سیاسی اور فوجی فیصلوں پر بھی پڑے گا۔

جوہری تنصیبات تک عالمی معائنہ کاروں کی رسائی نہ ہونا اور افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق غیر یقینی صورت حال کسی بھی حتمی معاہدے کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

مذاکرات ناکام ہوئے تو خطہ ایسی کیفیت میں پھنس سکتا ہے جہاں مکمل جنگ بھی نہ ہو اور پائیدار امن بھی قائم نہ ہوسکے، جبکہ وقفے وقفے سے حملے اور کشیدگی جاری رہے۔

یہ بحران صرف امریکا اور ایران کے درمیان تصادم نہیں، بلکہ خلیجی سلامتی، عالمی توانائی، تجارت اور خطے میں مقیم لاکھوں افراد کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
BY: overseaspost.net

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مسلسل چھٹی رات فضائی کارروائی مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ بیان کے مطابق درجنوں اہداف کو درست نشانے والے ہتھیاروں سے تباہ کیا گیا۔

ان اہداف میں ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام، فوجی رسد کا انفراسٹرکچر اور ایران کی بحری صلاحیتیں شامل تھیں۔

ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف ایرانی میزائلوں، ڈرونز یا جنگی کشتیوں کو تباہ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ ان تمام راستوں اور نظاموں کو بھی مفلوج کرنا چاہتا ہے جو ایرانی افواج کو خلیج کے ساحلوں تک اسلحہ اور رسد پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔

توانائی کا شعبہ بھی جنگ کی لپیٹ میں

ایرانی وزارت توانائی نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا کہ امریکی فضائی حملوں میں ملک کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

وزارت نے جنوبی صوبوں میں شدید گرمی اور توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث شہریوں سے بجلی کا استعمال محدود کرنے کی اپیل کی۔

ایرانی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ بجلی گھروں، ترسیلی لائنوں یا دیگر توانائی تنصیبات میں سے کن مقامات کو نقصان پہنچا۔

توانائی کے نظام پر حملے جنگ میں ایک خطرناک تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، کیونکہ ان کے اثرات صرف فوجی صلاحیت تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، صنعتوں، اسپتالوں، پانی کی فراہمی اور روزمرہ خدمات تک پہنچتے ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب ایرانی معیشت پہلے ہی پابندیوں، برآمدات میں کمی، مہنگائی اور ممکنہ کساد بازاری کے دباؤ میں ہے۔

تہران میں سخت گیر اور عملیت پسند آمنے سامنے

وال اسٹریٹ جرنل نے ایک باخبر ایرانی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ تہران کے فیصلہ ساز حلقوں میں امریکی بحران سے نمٹنے کے طریقے پر اختلاف بڑھ رہا ہے۔

سخت گیر حلقہ امریکا کے خلاف مزید عسکری کارروائیوں اور آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول کا حامی ہے۔ اس کے نزدیک ہرمز ایران کے پاس واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

دوسری طرف عملیت پسند حلقہ خبردار کررہا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، پابندیوں اور فضائی حملوں کا تسلسل ایرانی معیشت کو مزید تباہی کی جانب لے جائے گا۔ 

یہ حلقہ ایسا سیاسی راستہ تلاش کرنے کا حامی ہے جو ملک پر بڑھتے دباؤ کو کم کرسکے۔

رپورٹ کے مطابق جون میں ایران میں سالانہ صارف مہنگائی 88.6 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے حالیہ کشیدگی سے پہلے ہی رواں سال ایرانی معیشت میں 5.4 فیصد سکڑاؤ کی پیش گوئی کی تھی۔ 

جنگ جاری رہنے کی صورت میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

بعض اقتصادی اندازوں کے مطابق صرف تین فیصد امیر ترین ایرانی گھرانے مکمل غذائی ضروریات پر مشتمل ٹوکری خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

اگرچہ ایرانی حکومت نے قیادت کے اندر اختلافات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، لیکن جنگ کی بڑھتی اقتصادی قیمت تہران کے مستقبل کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

654654564

امن ملتوی، جنگ کا اختتام غیر واضح

گزشتہ 30 دن کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی ایرانی مفاہمتی یادداشت نہ جنگ روک سکی اور نہ اس کے بنیادی اسباب کو حل کرسکی۔

فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوگئیں، بحری ناکہ بندی لوٹ آئی، تیل کی رعایتیں منسوخ ہوگئیں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کم ہوگئی اور جوہری مذاکرات عملی طور پر منجمد ہیں۔

اسی دوران جنگ کا دائرہ کئی عرب ممالک تک پھیل گیا اور ایران کے پل، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، مواصلاتی نظام اور توانائی کی تنصیبات بھی نشانے پر آگئیں۔

مفاہمتی یادداشت کو جنگ سے امن کی طرف جانے والا پل بننا تھا، لیکن وہ سفارت کاری اور فوجی طاقت کے درمیان معلق ایک غیر مؤثر دستاویز بن گئی۔

نہ اس نے پائیدار امن قائم کیا، نہ فریقین کو مکمل جنگ کی طرف جانے سے روکا۔

حتمی معاہدے کے لیے مقررہ مدت قریب آرہی ہے، مگر واشنگٹن اور تہران کسی سمجھوتے کے قریب جانے کے بجائے اپنے عسکری اور اقتصادی دباؤ کے ذرائع مضبوط کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

خطہ اس وقت ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں امن ملتوی ہے، جنگ کا اختتام غیر واضح ہے اور سفارت کاری میدانِ جنگ کی قیادت کرنے کے بجائے اس کے پیچھے چل رہی ہے۔

📚اصل ذرائع و حوالہ جاتPREMIUMامریکا ایران مفاہمت، فوجی کارروائیوں، خلیجی حملوں اور اقتصادی اثرات کے اصل ذرائع19 اصل ذرائع
ایسوسی ایٹڈ پریسمعاہدہ اور موجودہ زمینی صورتِ حال کا تقابلی جائزہاصل ماخذ کھولیں ↗عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سیامریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا مکمل متناصل ماخذ کھولیں ↗رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹامن معاہدے اور مستقل بحران کا تحقیقی تجزیہاصل ماخذ کھولیں ↗امریکی سینٹرل کمانڈایران میں مسلسل چھٹی رات کے امریکی حملوں کا سرکاری بیاناصل ماخذ کھولیں ↗امریکی سینٹرل کمانڈبندر عباس اور دیگر مقامات پر تازہ امریکی حملےاصل ماخذ کھولیں ↗امریکی سینٹرل کمانڈبوشہر، چابہار، جاسک، کنارک اور بندر عباس میں اہدافاصل ماخذ کھولیں ↗امریکی سینٹرل کمانڈایران پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلاناصل ماخذ کھولیں ↗امریکی سینٹرل کمانڈناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو غیر فعال کرنے کا بیاناصل ماخذ کھولیں ↗الجزیرہچھٹی رات کے امریکی حملے اور وسیع جنگ کی ایرانی تنبیہاصل ماخذ کھولیں ↗الجزیرہ لائیوبحرین، کویت اور ایران میں تازہ جنگی پیش رفتاصل ماخذ کھولیں ↗الجزیرہخلیجی ممالک پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملےاصل ماخذ کھولیں ↗الجزیرہآبنائے ہرمز کی بندش اور پانچ خلیجی ممالک پر حملےاصل ماخذ کھولیں ↗اردنی مسلح افواجتین ایرانی میزائل تباہ کرنے کا سرکاری بیاناصل ماخذ کھولیں ↗قطر نیوز ایجنسیکویت میں 32 ڈرونز کے اعتراض سے متعلق سرکاری خبراصل ماخذ کھولیں ↗الرايةقطر میں بچے کے زخمی ہونے سے متعلق وزارتِ داخلہ کا بیاناصل ماخذ کھولیں ↗دی وال اسٹریٹ جرنلایرانی معیشت اور فیصلہ ساز حلقوں میں اختلافاصل ماخذ کھولیں ↗دی وال اسٹریٹ جرنلبندر عباس کی رسد کاٹنے کے لیے پلوں پر حملےاصل ماخذ کھولیں ↗رائٹرزامریکی تیل استثنا کی منسوخی اور ایرانی برآمداتاصل ماخذ کھولیں ↗رائٹرزتازہ کشیدگی، بحیرۂ احمر اور تیل کی قیمتیںاصل ماخذ کھولیں ↗
اس رپورٹ کا مرکزی حوالہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی تقابلی رپورٹ ہے۔ مفاہمتی یادداشت، امریکی فوجی کارروائیوں، خلیجی ممالک کے سرکاری بیانات، ایرانی معیشت اور تیل کی منڈی سے متعلق تفصیلات کے لیے دیگر اصل اور سرکاری ذرائع سے استفادہ کیا گیا ہے۔BY: overseaspost.net