ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی معاہدے پر اندرونی اختلافات کے دوران خامنہ ای کو واضح پیغام دیا کہ اگر قیادت نے واشنگٹن سے مفاہمت کا راستہ نہ اپنایا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔
معاشی بحران، امریکی بحری ناکہ بندی اور خوراک و ادویات کے ممکنہ بحران نے ایرانی قیادت کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔
ایران کے 4 باخبر اعلیٰ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو واضح طور پر آگاہ کر دیا تھا کہ اگر ایرانی قیادت امریکہ کے ساتھ معاہدے کی راہ اختیار کرنے سے انکار کرتی ہے تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔
العربیہ کے ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے شدید اختلافات اور غیر معمولی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
ذرائع نے بتایا کہ معاہدے سے قبل ہونے والے ایک اہم اجلاس میں صدر پزشکیان نے خامنہ ای کو خبردار کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایرانی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کے استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت اب روایتی طریقوں سے اس بحران پر
قابو پانے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی کی جانب سے بھیجی گئی ایک ہنگامی رپورٹ نے بھی قیادت کے فیصلے پر نمایاں اثر ڈالا۔
اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران کو اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے اور اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو اگست کے اختتام تک خوراک اور ادویات کے بنیادی ذخائر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اقتصادی انتباہات اور صدر پزشکیان و ان کی ٹیم کی مسلسل سیاسی کوششوں کے نتیجے میں خامنہ ای نے بالآخر مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کی منظوری دے دی، حالانکہ وہ اس سے قبل امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے سخت مخالف سمجھے جاتے تھے۔
مذاکرات کے لیے اندرونی سیاسی جدوجہد
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر پزشکیان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ریاستی اداروں کے اندر ایک پیچیدہ سیاسی مہم چلائی تاکہ بااثر حلقوں کو امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ضرورت پر آمادہ کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مل کر اقتدار کے مراکز میں ایک ایسا اتحاد تشکیل دیا، جو مذاکرات کو محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ نظام کے استحکام اور بقا کے لیے ناگزیر حکمتِ عملی سمجھتا تھا۔
اسی اتحاد نے سخت گیر حلقوں کی شدید مخالفت کے باوجود جنگ بندی قبول کرنے، امریکی حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے اور بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی راہ ہموار کی۔
قدامت پسند حلقوں میں غیر معمولی تقسیم
رپورٹ کے مطابق ایران میں اس وقت ایک غیر معمولی داخلی تقسیم سامنے آ چکی ہے، جو روایتی اصلاح پسند اور قدامت پسند اختلاف سے آگے بڑھ کر خود قدامت پسند کیمپ کے اندر پیدا ہو گئی ہے۔
ایک جانب صدر پزشکیان، محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور پاسدارانِ انقلاب کے بعض رہنما اس بات کے حامی ہیں کہ مغرب کے ساتھ کشیدگی کم کیے بغیر نہ معیشت کو سنبھالا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظام کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب سخت گیر حلقے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت کو قومی مفادات سے دستبرداری قرار دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ سخت گیر عناصر نے مذاکراتی ٹیم پر ’غداری‘ کے الزامات عائد کیے، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کو شدید سیاسی اور میڈیا مہمات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اندر اصل کشمکش اب صرف واشنگٹن کے ساتھ معاہدے تک محدود نہیں رہی بلکہ مستقبل کے سیاسی نظام اور اقتدار کے توازن پر بھی مرکوز ہو چکی ہے۔