براہ راست نشریات

11 جولائی کو امریکہ اور ایران کے درمیان نئے مذاکرات اسلام آباد میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران مذاکرات

پاکستان آئندہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان نئے سفارتی مذاکرات کی میزبانی کرے گا، جہاں پابندیوں، منجمد اثاثوں اور جوہری پروگرام سمیت اہم تنازعات پر بات چیت ہوگی۔
دونوں ممالک کئی ماہ سے بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔

اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کا اہم مرکز بننے جا رہا ہے۔ 

العربیہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان 11 جولائی کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد حالیہ کشیدگی کے بعد تعطل کا شکار سفارتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں 3 بنیادی موضوعات پر تفصیلی بات چیت ہوگی، جن میں ایران پر عائد امریکی پابندیاں، ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی اور تہران کا جوہری پروگرام شامل ہیں۔ 

مزید پڑھیں

یہ وہی نکات ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا محور رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں شرکت کرنے والے ایرانی وفد کی سطح کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 

امکان ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

کئی ماہ سے جاری سفارتی رابطے

یہ مجوزہ مذاکرات گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے دو ادوار اور گزشتہ ہفتے دوحہ میں منعقدہ ملاقاتوں کا تسلسل ہیں۔ 

ان مذاکرات سے قبل بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ تک بالواسطہ رابطے جاری رہے، جن کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور جوہری مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔

آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کا نقشہ اور منظر

اگرچہ دونوں فریق سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم متعدد اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ 

ان میں پابندیوں کے خاتمے کا طریقہ کار، ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی، جوہری پروگرام پر ممکنہ سمجھوتہ، حالیہ جنگ کے بعد کی علاقائی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق اختلافات نمایاں ہیں۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والا یہ نیا دور خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور امریکہ و ایران کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے، تاہم کسی بڑی پیش رفت کا انحصار دونوں فریقوں کی سیاسی لچک اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔