امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا طرزِ عمل ہمیشہ سے متنازع رہا ہے، جس میں ہر بار ’دیوانگی‘ کو ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
مزید پڑھیں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک طرزِ عمل نہیں، بلکہ ٹرمپ کی وہ حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے وہ مخالفین اور حلیفوں دونوں کو اپنی شرائط پر سودے بازی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
’پاگل انسان‘ کے نظریے کا پس منظر
یہ نظریہ رچرڈ نکسن کے دور میں سامنے آیا تھا، جس کا مقصد حریفوں کو یہ باور کرانا تھا کہ امریکی صدر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اسے نئے دور میں ’فنِ سودے بازی‘ (Art of the Deal) کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی شکل دی ہے، جہاں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کرنا ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔
سودے بازی کا نیا کاروباری ماڈل
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو ایک رئیل اسٹیٹ آفس کی طرح چلایا ہے اور ان کی نظر میں حلیفوں کا تحفظ ایک ’سروس‘ ہے جس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
انہوں نے نیٹو جیسے اتحادوں کو بھی اسی ترازو میں تولا ہے، جہاں وہ ’پیسہ دو ورنہ تحفظ بھول جاؤ‘ کی پالیسی پر گامزن نظر آئے۔
امریکی فوج: قومی سلامتی یا منافع بخش ادارہ؟
ٹرمپ کے نزدیک امریکی فوج کا مقصد جمہوریت کا پھیلاؤ نہیں بلکہ ’سکیورٹی‘ فراہم کرنا ہے، جس کے بدلے میں حلیفوں کو ’لاگت جمع 50 فیصد‘ منافع ادا کرنا چاہیے۔
وہ عسکری قوت کو بھی ایک کاروباری اثاثے کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ اٹھایا جا سکے۔
آبنائے ہرمز: بحران سے منافع کا سفر
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرلیا ہے۔
انہوں نے خلیج عرب میں افراتفری پیدا کر کے یورپی ممالک کو تحفظ کے لیے دباؤ ڈالا اور ساتھ ہی چین اور بھارت جیسے ممالک کو توانائی کی سپلائی کے معاملے میں امریکی شرائط پر آنے پر مجبور کیا، جس سے امریکی شیل آئل انڈسٹری کو تقویت ملی۔
امریکی ’ڈیپ اسٹیٹ‘ پر ٹرمپ کا کنٹرول
اپنی موجودہ (یعنی دوسری) مدتِ صدارت میں ٹرمپ نے ’شیڈول ایف‘ (Schedule F) کے ذریعے وفاقی بیوروکریسی پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
ٹرمپ کا مقصد ان رکاوٹوں کو ہٹانا تھا جو ان کے فیصلوں کے سامنے حائل تھیں۔ اب وائٹ ہاؤس کے ہر فیصلے کا انحصار صرف اور صرف صدر کی خواہشات اور ان کی ٹیم کے وفادار ارکان پر ہوتا ہے۔
عوامی مقبولیت اور قوم پرستانہ بیانیہ
ٹرمپ کا ہر متنازع قدم ان کے ووٹرز کے لیے ’اشرافیہ کے خلاف جنگ‘ ہے۔
اُن کے حامیوں کو لگتا ہے کہ وہ امریکی دولت کو بچا رہے ہیں، یہاں تک کہ ایران کے ساتھ جنگی حالات کو بھی ٹرمپ کے حامی ایک بہادرانہ اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں، جس نے امریکہ کی کھوئی ہوئی ہیبت بحال کی ہے۔
ٹرمپ کا یہ طریقہ کار کہ ’پہلے آگ لگاؤ اور پھر آگ بجھانے والا آلہ بیچو‘ عالمی سیاست کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
اگرچہ یہ حکمت عملی قلیل مدتی فوائد تو دے سکتی ہے، لیکن یہ دنیا کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال کی طرف لے جا رہی ہے جہاں معمولی غلط فہمی بھی بڑے عالمی تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔