سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل ہوگئے، جہاں 60 روز میں حتمی معاہدے کے لیے روڈ میپ اور 4 ورکنگ گروپس پر اتفاق کیا گیا۔
امریکا نے ایران کو تیل فروخت کی عارضی اجازت دی اور 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی پر بھی پیش رفت ہوئی، تاہم جوہری پروگرام اور فنڈز کے استعمال پر اختلافات برقرار ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکی، ایرانی مذاکرات کے تحت تکنیکی بات چیت کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے، جبکہ دونوں ممالک مستقبل کے مذاکرات کے فریم ورک پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
تاہم منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق نائب وزیر خارجہ اور ایرانی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا کہ 4 فریقی مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں اور آئندہ مذاکراتی عمل کے بنیادی ڈھانچے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
فریقین نے 4 ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے، جو پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، اقتصادی تعمیر و ترقی اور معاہدے پر عمل درآمد و نگرانی کے معاملات پر کام کریں گے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزکشیان نے پاکستان روانگی سے قبل کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف عملی اقدامات اور طے شدہ وعدوں کی مکمل پاسداری پر ہوگا، نہ کہ میڈیا بیانات پر۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کو حتمی امن معاہدے کی جانب ایک مضبوط بنیاد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو رسائی دینے اور منجمد اثاثوں کے انتظام پر اتفاق کیا ہے۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری پروگرام پر ابھی کوئی تفصیلی گفتگو نہیں ہوئی اور ایران نے کوئی نئی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
قطر اور پاکستان نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کرلیا ہے۔
مذاکرات میں لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے رابطہ میکانزم قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ایرانی تیل کی فروخت پر عارضی نرمی
معاہدے کے تحت پہلی بڑی معاشی پیش رفت کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ نے 21 اگست تک بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے، جس سے ایران کو خام تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر تیل سے متعلق مصنوعات فروخت کرنے اور ادائیگیاں وصول کرنے کی اجازت ملے گی۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے مطابق یہ 60 روزہ خصوصی لائسنس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا حصہ ہے اور اس کا مقصد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
12 ارب ڈالر کی رہائی پر اختلاف
منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال کے معاملے پر دونوں فریقوں کے بیانات میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آزاد کیے جانے والے ایرانی فنڈز صرف امریکی کسانوں سے خوراک خریدنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور ایران کو یہ رقم اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس کے برعکس ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر حمایتی نے واضح کیا کہ معاہدوں میں ایسی کوئی شرط شامل نہیں کہ ایران صرف امریکی زرعی مصنوعات خریدے۔
ان کے مطابق ابتدائی 6 ارب ڈالر 2023 کے معاہدے کے مطابق ادویات اور بنیادی اشیاء کے لیے استعمال ہوں گے، جبکہ اس کے بعد جاری ہونے والی رقوم دیگر غیر پابندی شدہ اشیاء کی خریداری پر بھی خرچ کی جا سکیں گی۔
اسی دوران ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے دوران تقریباً 12 ارب ڈالر کے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ مختلف تخمینوں کے مطابق بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔