امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ممکنہ سفارتی و معاشی معاہدے نے عالمی مارکیٹ اور معاشی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مزید پڑھیں
اس وقت سب سے بڑا اور براہِ راست سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کے ایرانی کرنسی ریال، اشیا کی قیمتوں اور ملک میں طویل عرصے سے جاری مہنگائی پر درمیانی مدت میں کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
معاہدے کے تحت ایران پر معاشی دباؤ کم، منجمد اثاثوں اور فنڈز بحال کرنے اور مالیاتی لین دین کو آسان بنانے کی بات کی جا رہی ہے، جس سے ایرانی مارکیٹ کو فوری طور پر ایک نفسیاتی تقویت مل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عارضی اعتماد کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ملک سے مہنگائی کا مستقل خاتمہ ہو جائے گا۔
ایرانی معیشت کا دہرا دباؤ
یہ بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایرانی معیشت برسوں سے دہرے اور شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ایک طرف سخت بیرونی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے ملک میں ڈالر اور دیگر مستحکم غیر ملکی کرنسیوں کی آمد رکی ہوئی ہے اور تجارت کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔
دوسری طرف ایران کے اندرونی معاشی مسائل ہیں، جن میں بجٹ خسارہ، مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ نقدی کا بہاؤ (لیکویڈیٹی)، پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کی کمی اور ایکسچینج ریٹ کے متعدد نرخ شامل ہیں۔
اس لیے ماہرین کے درمیان بحث یہ نہیں کہ معاہدے کے اثرات ہوں گے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ اثرات کتنے گہرے اور کتنے عرصے کے لیے ہوں گے؟
کرنسی مارکیٹ پر پہلا اثر
معروف ماہر معیشت پیمان مولوی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایسا سیاسی معاہدہ جو معاشی خطرات کو کم کرتا ہے، اس کا سب سے پہلا اثر فارن ایکسچینج مارکیٹ پر پڑتا ہے۔
مارکیٹ میں جیسے ہی غیر یقینی صورتحال کم ہوتی ہے، تو ڈالر کے خریداروں اور سٹے بازوں کا دباؤ کم ہو جاتا ہے، مارکیٹ میں رکا ہوا سرمایہ دوبارہ پیداواری شعبوں کا رخ کرتا ہے اور مہنگائی کی توقعات نیچے آتی ہیں۔
تاہم پيمان مولوی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی کرنسی کی اصل قیمت صرف سیاسی خبروں سے طے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا انحصار اندرونی اور بیرونی مہنگائی کے فرق، نقدی کے بہاؤ، حقیقی شرح سود، معاشی پیداوار اور حکومتی پالیسیوں پر عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔
عارضی ریلیف اور 30 فیصد نقدی کا بہاؤ
پیمان مولوی کے تخمینے کے مطابق اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو ابتدائی 3 مہینوں کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں 10 سے 20 فیصد تک بہتری آ سکتی ہے۔
لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے فوری طور پر اپنی اسٹرکچرل اصلاحات کو درست نہ کیا، تو ایک سے 2 سال کے اندر یہ تمام بہتری ختم ہو جائے گی اور طویل مدت میں اس معاہدے کا فائدہ صرف 5 سے 10 فیصد ہی رہ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کو معاشی اصلاحات کے لیے صرف کچھ وقت خرید کر دے سکتا ہے، لیکن یہ بنیادی معاشی اصلاحات کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
جب تک سخت مانیٹری پالیسی، بینکنگ نظام کی اصلاح اور بجٹ خسارے پر قابو نہیں پایا جاتا، پائیدار استحکام ممکن نہیں، کیونکہ ایران میں نقدی کا بہاؤ سالانہ 25 سے 30 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے اور شرح سود منفی زون میں ہے۔
70 فیصد نفسیاتی اثر اور دیگر عوامل کی تقسیم
مارکیٹ کے حساس مزاج کا ذکر کرتے ہوئے پیمان مولوی کہتے ہیں کہ معاہدے کی خبر سنتے ہی مارکیٹ ردعمل دیتی ہے، چاہے ملک میں ایک بھی ڈالر نہ آیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے ابتدائی اثرات میں 65 سے 70 فیصد حصہ صرف نفسیاتی ہوتا ہے، جبکہ حقیقی معاشی اثر (جیسے تیل کی فروخت میں اضافہ، منجمد اثاثوں کی واپسی یا بینکنگ سہولیات) صرف 30 سے 35 فیصد ہوتا ہے۔
انہوں نے ریال کی قدر کو سہارا دینے والے عوامل کی تقسیم اس طرح بیان کی کہ:
- سیاسی خطرات میں کمی: 45 فیصد اہمیت
- تیل کی فروخت اور برآمدات میں اضافہ: 35 فیصد اہمیت
- منجمد اثاثوں کی آزادی: 20 فیصد اہمیت
قیمتوں کا نیچے نہ آنا اور آئزک سعیدیان کا نقطہ نظر
دوسری جانب معاشی امور کے ماہر آئزک سعیدیان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے اچھے اثرات تب ہی ممکن ہیں جب معاہدے کے بعد کے مراحل کو درست طریقے سے منظم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ منجمد اثاثوں کی بحالی اور تیل کی آمدن بڑھنے سے حکومت کے پاس بنیادی اشیا کی فراہمی اور شعبوں کو سستا خام مال فراہم کرنے کی صلاحیت ضرور بڑھے گی، جس سے پروڈکشن کاسٹ کم ہو سکتی ہے۔
لیکن انہوں نے ایک عام غلط فہمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ معاہدے سے قیمتیں سستی ہو جائیں گی، ایسا نہیں ہے۔
ایرانی معیشت کا یہ مروجہ تجربہ رہا ہے کہ یہاں قیمتیں ایک بار بڑھ جائیں تو وہ دوبارہ نیچے نہیں آتیں، بلکہ ریال مضبوط ہونے سے صرف مہنگائی کی رفتار کم ہوتی ہے، قیمتیں خود کم نہیں ہوتیں۔
یعنی مکانات، گاڑیوں اور خوراک کی قیمتیں پرانی سطح پر واپس نہیں جائیں گی۔
امریکا اور ایران کا ممکنہ معاہدہ ایرانی معیشت کے لیے کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ صرف ایک موقع ہے۔
اگر ایرانی حکومت نے اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر اپنے بینکنگ نظام، مانیٹری پالیسی اور بجٹ خسارے کو نوٹ چھاپنے کے بجائے حقیقی آمدنی سے پورا نہ کیا، تو یہ معاہدہ معاشی بحران کے ایک طویل سفر میں محض چند لمحوں کا عارضی آرام ثابت ہوگا۔