28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی فضائی حملے بظاہر اچانک محسوس ہوتے ہیں، لیکن واشنگٹن کے اسٹریٹجک تھنک ٹینکس کے نزدیک یہ تصادم پچھلے 46 سال سے پک رہا تھا۔
مزید پڑھیں
اس دشمنی کی بنیاد 4 نومبر 1979 کو اس وقت رکھی گئی تھی جب تہران میں انقلابی ایرانی طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول کر 52 امریکی سفارت کاروں کو 444 دن تک یرغمال بنا لیا تھا۔
اس کے بعد 1983 میں بیروت میں امریکی سفارت خانے اور امریکی مرینز کے بیرکوں پر بم باری ہوئی جس میں 300 سے زائد امریکی ہلاک ہوئے۔
بعد ازاں 90ء کی دہائی میں سعودی عرب کے شہر الخبر میں امریکی ایئر فورس کے رہائشی کمپلیکس پر ٹرک بم دھماکے میں 19 امریکی فوجی مارے گئے۔
اکیسویں صدی کے آغاز سے اب تک امریکہ کا یہ پختہ مؤقف رہا ہے کہ ایران، عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسیز کا استعمال کر رہا ہے اور حماس، حزب اللہ و حوثیوں جیسے عسکری گروپوں کی مالی و عسکری پشت پناہی کر رہا ہے۔
اوسط امریکی شہری ایران کو اسی خونیں تاریخ کے آئینے سے دیکھتے ہیں۔
اوباما کا جوہری معاہدہ اور ٹرمپ کا سخت ایکشن
2015ء میں جب سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے ساتھ مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) یعنی جوہری معاہدے پر دستخط کیے تو اُسی دن ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے تہران میں ایک بڑے ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگوائے، جس نے امریکی عوام اور مقتدر حلقوں میں شدید تلخی پیدا کی۔
2025ء میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچے، تو ان کے قریبی مشیروں کا خیال تھا کہ امریکی اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات پر اچانک اور تباہ کن فضائی حملے تہران کی قیادت کو صدمے میں ڈال دیں گے اور وہ بین الاقوامی نظام کے ساتھ تعاون پر مجبور ہو جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کا خیال تھا کہ جب ایران کو فوجی تباہی اور مذاکرات کی میز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا تو وہ منطق کا راستہ چنے گا۔
لیکن امریکی مشیر ایرانیوں کی روایتی ’قومی انا‘کو سمجھنے میں ناکام رہے، جو اپنی 90 ملین (9 کروڑ) آبادی کے معاشی مفادات پر بھی اپنی قومی انا کو مقدم رکھتے ہیں۔
عسکری توازن اور مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی جوابی حملے
ابتدائی تعطل کے بعد 2026 کے آغاز میں دونوں فریق پہلے عمان کے دارالحکومت مسقط اور بعد میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مذاکرات کی میز پر آئے۔
اگرچہ دونوں ممالک مذاکرات کے احوال پر الگ الگ دعوے کرتے ہیں، لیکن عمانی وزیر خارجہ، جنہوں نے اس پورے بحران میں ثالث کا کردار ادا کیا، نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ سفارت کاری ناکام ہونے پر جنگ چھڑ جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔
عسکری میدان میں طاقت کا توازن مکمل طور پر امریکہ کے حق میں تھا۔
اگرچہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے جنگ کے پہلے 2 دنوں میں 864 امریکی فوجی ہلاک کر دیے اور امریکی بحری بیڑے ’یو ایس ایس ابراہام لنکن‘ کو آگ لگا دی، لیکن یہ دونوں دعوے بعد میں مکمل طور پر جھوٹے ثابت ہوئے۔
اس دوران ایران دفاعی لحاظ سے بے بس دکھائی دیا، تاہم اس نے غصے میں آ کر خلیجی خطے میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں متحدہ عرب امارات کا ایک پرتعیش ہوٹل، عمان کی ایک تجارتی بندرگاہ اور قطر کی ایک گیس ریفائنری شامل تھی۔
آبنائے ہرمز کا کارڈ اور معاشی ناکہ بندی
35 دن تک جاری رہنے والی اس باقاعدہ جنگ میں ایران صرف ایک امریکی طیارہ گرانے میں کامیاب ہو سکا، جب کہ خود ایران کو اپنے ہی تخمینوں کے مطابق 200 ارب ڈالر سے زائد کا انفرا اسٹرکچر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اس سب کے باوجود ایران نے اپنی سب سے بڑی اسٹریٹجک چال چلی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔
اس کے نتیجے میں دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی رکنے اور عالمی تجارت مفلوج ہونے سے تہران کو واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کا موقع مل گیا۔
تاہم جب صدر ٹرمپ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کر دی اور ایران کی آمدنی کا آخری راستہ بھی بند ہو گیا تو ایرانی قیادت کڑوا گھونٹ پی کر دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو گئی۔
14 نکات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت
کچھ روز قبل سامنے آنے والی اس مفاہمتی یادداشت کو دونوں ممالک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ایران کے سخت گیر حلقے ’شیطانِ بزرگ‘ کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے پر سیخ پا ہیں، جبکہ امریکہ میں دائیں بازو کے رہنما ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایران پر سے پابندیاں ہٹانے اور اس کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر کیوں آمادگی ظاہر کی۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے کا متبادل صرف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ اور عالمی معیشت کی تباہی تھی جو کسی کے حق میں نہیں تھی۔
اس 14 نکاتی فارمولے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- پہلے 3 نکات: فریقین کے درمیان جنگ کا فوری خاتمہ، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام اور 60 دن کے اندر حتمی مذاکرات کی مدت کا تعین۔
- چوتھا اور پانچواں نکتہ: ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولے گا، جبکہ امریکہ ایرانی بحری تجارت کی ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔
- نواں، بارہواں اور تیرہواں نکتہ: موجودہ پوزیشن برقرار رکھنا (کوئی نئی فوج یا دھمکی نہ دینا)، تعمیل کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانا اور 60 دن کی مہلت میں فوری بات چیت شروع کرنا۔
- چودھواں نکتہ: کسی بھی حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے معلوماتی اور لازمی مروجہ قرار داد کے ذریعے دی جائے گی۔
اثاثوں کی بحالی اور جوہری پروگرام کا خاتمہ
معاہدے کی دفعہ 7 کے تحت امریکہ، ایران پر عائد تمام معاشی پابندیاں ختم کر دے گا، لیکن یہ صرف اس صورت میں ہوگا جب حتمی معاہدہ طے پا جائے۔
دفعہ 6 کے تحت ایران میں ہونے والی تباہی سے بحالی اور سرمایہ کاری کے لیے 300 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا جائے گا۔
واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ یہ رقم امریکی خزانے سے نہیں دی جائے گی، بلکہ اگر خلیجی ممالک ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں تو امریکہ ان کے راستے میں بیوروکریٹک رکاوٹیں کھڑی نہیں کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑی کامیابی دفعہ 8 ہے، جس کے تحت ایران اپنے پاس موجود 60 فیصد تک افزودہ شدہ یورینیم کے پورے ذخائر کو تلف کرنے پر راضی ہو گیا ہے، جو کہ کسی بھی سولر انرجی یا سول پروگرام کی حد سے زیادہ ہے اور ہتھیار بنانے کے کام آتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مستقل طور پر تباہ کر دیا ہے، اس لیے صدر ٹرمپ کا یہ بنیادی مقصد حاصل ہو چکا ہے کہ ایران اب نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔
اس کا دوسرا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو کمزور کرنا تھا، جو کہ جنگ کے دوران ایران کے اپنے میزائلوں کے استعمال اور امریکی حملوں کے نتیجے میں پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے اور اب ایران کے پاس اپنے پرانے ذخائر کا محض ایک چھوٹا حصہ ہی بچا ہے۔
اسرائیل کا کردار اور جنیوا مذاکرات کا التوا
اس پورے معاہدے کو سب سے بڑا خطرہ کسی بیرونی فریق سے ہے۔
معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائیاں روکنے کا کہا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیل ایک بڑے بگاڑنے والے (اسپائلر) کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل امریکہ کا حلیف ضرور ہے لیکن وہ واشنگٹن کے احکامات کا پابند نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتا ہے۔
موجودہ صورت حال میں خاص طور پر معاہدے کے بعد اسرائیل کے مفادات امریکہ یا ایران کے ساتھ میل نہیں کھاتے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو چکی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت وارننگز کا بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔
اس کا فوری اور منفی نتیجہ یہ نکلا کہ جمعہ کے روز جنیوا میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات سے ایران نے یہ کہہ کر واک آؤٹ کر دیا ہے کہ جب تک لبنان میں اسرائیل کی طرف سے مکمل جنگ بندی نہیں ہوتی، وہ امریکہ سے کوئی بات نہیں کرے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی ضمانت نہیں بلکہ صرف ایک عارضی مہلت ہے۔
105 دنوں کی شدید جنگ اور اندھیرے کے بعد دنیا نے سکھ کا سانس لیا تھا، لیکن اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور ایران کی طرف سے جنیوا مذاکرات کا بائیکاٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب تک خطے کے تمام بنیادی تنازعات بشمول لبنان اور غزہ کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا، واشنگٹن اور تہران کے درمیان کاغذ پر لکھی گئی کوئی بھی یادداشت پائیدار امن قائم نہیں کر سکتی۔