براہ راست نشریات

سوئٹزرلینڈ مذاکرات کا اگلا مرحلہ کیا ہے؟ 60 روزہ روڈ میپ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات

سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے پہلے سیاسی دور کے بعد دونوں ممالک نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جبکہ تکنیکی مذاکرات پورا ہفتہ جاری رہیں گے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں نئے تکنیکی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے سیاسی مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد عملی امور پر بات چیت شروع کی جا رہی ہے۔

ایرانی طلبہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق آج پیر کے روز تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوگا، جن میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور مختلف شعبوں کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس کی تشکیل پر غور کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

ان تکنیکی مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کریں گے، جبکہ سیاسی، اقتصادی اور قانونی امور کے ماہرین بھی وفد میں شامل ہوں گے۔ قطر اور پاکستان کے نمائندے بھی بطور ثالث شریک ہوں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ مرحلے میں مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے تکنیکی کمیٹیاں اور 

ایک سپروائزری کمیٹی قائم کی جائے گی۔

وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ایرانی تیل کی برآمدات، اس سے متعلق استثنیٰ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور بعض ابتدائی اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی ہے تاکہ طے شدہ امور پر عملی پیش رفت کی جا سکے۔

65454654
فوٹو: الجزیرہ

عہد کے بدلے عہد

تہران نے زور دیا ہے کہ ’عہد کے بدلے عہد‘ کا اصول دونوں فریقوں کی جانب سے وعدوں کی تکمیل کی جانچ کا بنیادی معیار ہوگا۔ 

ایران کا کہنا ہے کہ مزید وسیع مذاکرات اور ورکنگ گروپس کی سرگرمیاں بعض بنیادی شقوں پر عملدرآمد سے مشروط ہوں گی۔

 

یہ تکنیکی مرحلہ سوئٹزرلینڈ میں ایک روزہ سیاسی مذاکرات کے بعد شروع ہو رہا ہے، جہاں قطری اور پاکستانی ثالثوں نے متعدد معاملات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘ کی اطلاع دی تھی۔

ان معاملات میں لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کرنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور تجارتی آمدورفت کے تسلسل کے لیے انتظامات شامل ہیں۔

ٹرمپ ایران دھمکی

اگرچہ مذاکرات کے دوران مجموعی فضا مثبت رہی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات کے باعث مذاکرات عارضی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ایرانی وفد نے ان بیانات پر احتجاج کرتے ہوئے معاملہ مذاکراتی اجلاسوں میں اٹھایا، تاہم دوحہ اور اسلام آباد کی براہِ راست سفارتی کوششوں کے بعد رابطے دوبارہ بحال ہو گئے۔

امریکی وفد میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔

60 روزہ روڈ میپ

ثالث ممالک کے مشترکہ بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے ایک اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی اور جوہری پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔

امریکا ایران مذاکرات

بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور ایران نے 60 روزہ روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ 

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے متعلق مستقل رابطہ لائن قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ کسی بھی حادثے یا غلط فہمی سے بین الاقوامی جہاز رانی متاثر نہ ہو۔

لبنان کے حوالے سے بھی ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کیا جائے گا جو جنگ بندی کی نگرانی اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر عملدرآمد کرے گا۔ 

تہران اور واشنگٹن دونوں اسے نئی مفاہمتوں کے عملی امتحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

توقع ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی ٹیمیں پورا ہفتہ مذاکرات جاری رکھیں گی اور سیاسی، اقتصادی و سلامتی سے متعلق معاملات کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گی، تاکہ ابتدائی مفاہمتوں کو عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جا سکے۔