براہ راست نشریات

سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں تعطل، قطری اور پاکستانی کوششیں جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
وینس بورگن شٹوک ریزورٹ میں ہونے والے اجلاس سے قبل، شہباز شریف سے مصافحہ کرتے ہوئے عباس عراقچی کی جانب دیکھ رہے ہیں، جبکہ جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں (فوٹو: رائٹرز)

سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اس وقت اچانک تعطل پیدا ہوگیا جب ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی مقام چھوڑ دیا، تاہم قطر اور پاکستان کی جانب سے وفد کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک باخبر سفارتکار نے بتایا کہ ایرانی وفد اب بھی مذاکراتی عمل کا حصہ ہے اور اس نے ثالثوں کو سوئٹزرلینڈ چھوڑنے یا مذاکرات سے مکمل دستبرداری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔

مزید پڑھیں

یہ تعطل اس وقت پیدا ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے لبنان میں اپنے اتحادیوں کی حمایت روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تہران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو امریکہ ایران پر دوبارہ اور پہلے سے زیادہ طاقتور حملے کر سکتا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ، جن میں تسنیم نیوز ایجنسی اور سرکاری خبر 

ایجنسی ارنا شامل ہیں، نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کے بیانات کے بعد ایرانی وفد نے مذاکراتی مقام چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں مذاکرات پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوگئے۔

45645
فوٹو: الجزیرہ

یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے بورگن اشٹوک ریزورٹ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی کے تحت جاری ہیں، جن کا مقصد حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ایک حتمی معاہدے میں تبدیل کرنا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔

مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ممالک کو 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنا ہے جس میں جنگی کارروائیوں کا خاتمہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ 

تاہم لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیل و حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں اب بھی مذاکرات میں اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

5445646
فوٹو: الجزیرہ

اس دوران جے ڈی وینس نے مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور انہیں توقع ہے کہ آئندہ بھی مزید پیش رفت ہوگی۔ 

ان کے بقول ٹرمپ انتظامیہ ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات میں ایک نیا باب کھولنا چاہتی ہے۔