امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا ایران مذاکرات کے باوجود ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کو تباہ کر دیں گے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے اور ایران کے اتحادیوں کے خلاف کارروائی کی بھی دھمکی دی، جبکہ ایران نے جوابی ردعمل میں واضح کیا کہ اس کی مسلح افواج ہر قسم کے حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن شٹوک میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہونے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کو تباہ کر دیں گے۔
ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اگر وہ معاہدے تک نہیں پہنچتے تو میں ایران کو تباہ کر دوں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا آبنائے ہرمز پر بھی کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔
فوکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی حکام کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز بند کی گئی تو مذاکراتی وفد کی واپسی بھی ممکن نہیں رہے گی۔
مزید پڑھیں
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ روز بھی ایران کو آبنائے ہرمز بند نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی۔
دریں اثنا ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں زور دیا کہ ایران فوری طور پر لبنان میں اپنے اتحادی گروہوں کو اشتعال انگیز کارروائیوں سے روکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے لبنان میں اپنے اتحادیوں کی
سرگرمیاں بند نہ کرائیں تو امریکا دوبارہ جنگ شروع کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے اپنے اتحادیوں کی حمایت بند نہ کی تو ہم ایک بار پھر سخت کارروائی کریں گے۔
لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ خطے میں شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
فوکس نیوز کے مطابق امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ شام کے صدر کو جنوبی لبنان میں داخل ہو کر حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کی اجازت دینے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق چلنا ہوگا، ورنہ ہم ایران پر قبضہ کر لیں گے۔
یورینیم افزودگی ترک نہ کرنے سے متعلق مسعود پزشکیان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں محتاط رہنا چاہیے۔
ادھر امریکی صدر کی حالیہ دھمکیوں کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کے جواب کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے موقع پر قالیباف نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کو اپنے بیانات کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو وہ آج اس قدر مایوسی کی حالت میں نہ ہوتے۔
ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ بہتر ہے کہ وہ اپنے بیانات پر نظرِ ثانی کریں۔
ہماری مسلح افواج ان کا مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
وہ جو بھی کہیں، عملی اقدام ہم ہی کرتے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود ایرانی مذاکراتی وفد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور دھمکیوں کے جواب میں ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایجنسی کے مطابق ایرانی وفد مذاکرات کے دوران امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور ممکنہ ردعمل کی حکمتِ عملی مرتب کرنے میں مصروف ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کشیدہ ماحول میں جاری ہیں۔