ماہرِ فلکیات محمد شوکت عودہ نے آج رات 12 اگست کو مکمل سورج گرہن، شہابی بارش، سیاروں کے مبینہ اجتماع اور نئے چاند سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کی حقیقت واضح کردی۔
ان کے مطابق سورج گرہن اور شہابی بارش حقیقی فلکیاتی واقعات ہیں، مگر سیاروں کی کسی نادر صف بندی کا دعویٰ درست نہیں۔
آج بدھ 12 اگست 2026 کو آسمان پر 4 بڑے فلکیاتی مظاہر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف خبریں اور دعوے گردش کر رہے ہیں۔
کہیں مکمل سورج گرہن کا تذکرہ ہے تو کہیں ایک گھنٹے میں درجنوں شہاب دیکھنے کی بات کی جا رہی ہے۔
بعض پوسٹس میں سیاروں کے غیرمعمولی اجتماع اور نئے چاند کو بھی ایک نادر فلکیاتی واقعہ قرار دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی فلکیاتی مرکز کے ڈائریکٹر اور انٹرنیشنل میٹیور آرگنائزیشن کے رکن انجینئر محمد شوکت عودہ نے ان چاروں دعووں کی حقیقت واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان میں سے بعض معلومات درست ہیں، جبکہ سیاروں کے اجتماع سے متعلق مواد میں شدید مبالغہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
مکمل سورج گرہن کہاں نظر آئے گا؟
محمد شوکت عودہ کے مطابق 12 اگست کو مکمل سورج گرہن لگنے کی خبر درست ہے، تاہم یہ دنیا کے مخصوص علاقوں ہی میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا۔
سورج گرہن سائبیریا، قطب شمالی، گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمال مشرقی بحرِ اوقیانوس کے بعض حصوں، اسپین اور مغربی بحیرہ روم میں مکمل
یا نمایاں صورت میں دکھائی دے گا۔
اس کے علاوہ شمالی امریکا، مغربی اور وسطی یورپ، روس اور مغربی افریقہ کے مختلف علاقوں میں جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔
12 اگست کا مکمل سورج گرہن دنیا کے مخصوص علاقوں میں دیکھا جائے گا۔
تاریک مقام سے فی گھنٹہ 50 سے 75 برشاوی شہاب نظر آسکتے ہیں۔
سیاروں کی کسی نادر یا غیرمعمولی صف بندی کا دعویٰ درست نہیں۔
ربیع الاول کا ہلال 13 اگست کو غروبِ آفتاب کے بعد تلاش کیا جائے گا۔
عرب دنیا میں موریطانیہ، مراکش، الجزائر، تیونس اور لیبیا کے شمال مغربی حصوں کے رہنے والوں کو جزوی سورج گرہن دیکھنے کا موقع ملے گا۔
دستیاب جغرافیائی حدود کے مطابق یہ گرہن سعودی عرب اور پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔
گرین وچ وقت کے مطابق سورج گرہن دوپہر 3 بج کر 34 منٹ پر شروع ہوگا اور شام 7 بج کر 58 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا، جبکہ اس کا نقطۂ عروج شام 5 بج کر 46 منٹ پر ہوگا۔
آئس لینڈ کے مغرب میں واقع ایک مقام پر مکمل گرہن کا دورانیہ سب سے زیادہ، یعنی دو منٹ اور 18 سیکنڈ تک رہے گا۔
مکمل سورج گرہن کے دوران ماہرین کو سورج کی بالائی فضا کی دو اہم تہوں، کروموسفیئر اور کورونا، کا مشاہدہ کرنے کا نادر موقع ملتا ہے۔
محمد شوکت عودہ کے مطابق موجودہ گرہن کے دوران سورج کا کورونا پیچیدہ شکل میں دکھائی دے سکتا ہے، کیونکہ یہ واقعہ اگست 2024 میں اپنے عروج پر پہنچنے والی شمسی سرگرمی کے قریب واقع ہو رہا ہے۔
کیا درست، کیا گمراہ کن؟ ⌄
12 اگست کو مکمل سورج گرہن ہوگا، لیکن یہ محدود علاقوں میں نظر آئے گا۔
فجر سے پہلے تاریک مقامات پر شہابوں کی بڑی تعداد دیکھی جاسکتی ہے۔
اس روز سیاروں سے متعلق کوئی نادر یا غیرمعمولی فلکیاتی مظہر نہیں ہوگا۔
محاق ہر قمری مہینے میں پیش آنے والی ایک عام فلکیاتی کیفیت ہے۔
شہابیوں کی بارش کب دیکھی جا سکے گی؟
دوسری بڑی اور حقیقی فلکیاتی سرگرمی ’برشاوی شہابِ ثاقب‘ یا پرسیڈ میٹیور شاور ہے۔
یہ سال کی سب سے مقبول شہابی برساتوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا نام آسمان میں موجود مجموعۂ ستارگان ’پرسیئس‘ سے منسوب ہے۔
یہ شہابِ ثاقب دراصل دم دار ستارے ’سوئفٹ ٹٹل‘ کے چھوڑے ہوئے گردوغبار اور ذرات کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔
زمین جب اپنے مدار میں سفر کرتے ہوئے ان ذرات کے درمیان سے گزرتی ہے تو یہ فضا میں داخل ہوکر جل اٹھتے ہیں اور روشن لکیروں کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔
شہابِ ثاقب کا سلسلہ ہر سال 17 جولائی سے 24 اگست تک جاری رہتا ہے، تاہم 11 سے 14 اگست کے درمیان اس کی سرگرمی عروج پر پہنچتی ہے۔
اس سال عرب خطے میں مشاہدے کے حالات انتہائی سازگار ہیں، کیونکہ عروج کے وقت چاند کی روشنی موجود نہیں ہوگی۔
روایتی عروج جمعرات 13 اگست کو گرین وچ وقت کے مطابق رات دو سے صبح 4 بجے کے درمیان متوقع ہے۔
یہ سعودی عرب کے وقت کے مطابق صبح 5 سے 7 بجے اور پاکستان میں صبح 7 سے 9 بجے بنتا ہے، البتہ سورج نکلنے کی وجہ سے پاکستان میں اصل مشاہدے کا بہتر وقت فجر سے پہلے ہوگا۔
اہم فلکیاتی اوقات ⌄
بدھ 12 اگست 2026
مکمل گرہن کی زیادہ سے زیادہ مدت 2 منٹ 18 سیکنڈ
گرہن کا عالمی مرحلہ مکمل ہوگا
جمعرات 13 اگست؛ مقامی طور پر فجر سے پہلے مشاہدہ بہتر ہوگا
شہروں کی روشنی سے دور کسی تاریک اور کھلی جگہ سے ایک گھنٹے میں تقریباً 50 سے 75 شہابِ ثاقب دیکھے جا سکتے ہیں۔
لیکن روشن شہری علاقوں میں یہ تعداد کم ہوکر صرف چند شہاب تک محدود رہ سکتی ہے۔
کیا تمام سیارے ایک قطار میں آرہے ہیں؟
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مبالغہ سیاروں کے مبینہ غیرمعمولی اجتماع کے بارے میں کیا جا رہا ہے۔
محمد شوکت عودہ کے مطابق 12 اگست کو سیاروں کے کسی نادر یا غیرمعمولی اجتماع کی خبر درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیارے فطری طور پر آسمان میں ایک فرضی راستے کے قریب دکھائی دیتے ہیں جسے ’دائرۃ البروج‘ کہا جاتا ہے۔
اسی عام ترتیب کو بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایک غیرمعمولی فلکیاتی واقعے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
بدھ 12 اگست کو چار فلکیاتی مظاہر کے متعلق مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔ ماہرِ فلکیات محمد شوکت عودہ کے مطابق مکمل سورج گرہن حقیقی ہے، لیکن یہ سعودی عرب اور پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔
برشاوی شہابی برسات 12 اور 13 اگست کی درمیانی رات عروج پر ہوگی اور تاریک علاقوں میں فی گھنٹہ 50 سے 75 شہاب دیکھے جاسکتے ہیں۔ تاہم سیاروں کی کسی نادر صف بندی کی خبر گمراہ کن ہے۔ ربیع الاول کا ہلال 13 اگست کو تلاش کیا جائے گا۔
غروبِ آفتاب کے بعد زہرہ مغربی افق پر ایک انتہائی روشن جرم کی صورت میں دکھائی دے گا۔ زحل آدھی رات کے قریب مشرقی افق سے طلوع ہوگا، جبکہ مریخ تقریباً 3 بجے صبح نارنجی مائل سرخ نقطے کی طرح نظر آئے گا۔
عطارد اور مشتری طلوعِ آفتاب سے کچھ پہلے مشرقی افق کے قریب ہوں گے، لیکن افق سے قربت اور صبح کی روشنی کے باعث ان کا مشاہدہ مشکل ہوگا۔
لہٰذا سیارے ضرور دکھائی دیں گے، مگر ان کی ترتیب کو کسی نادر ’سیاروی پریڈ‘ یا خطرناک فلکیاتی واقعے سے تعبیر کرنا درست نہیں۔
نئے چاند کی حقیقت کیا ہے؟
چوتھا دعویٰ ’قمرِ محاق‘ یا نئے چاند سے متعلق ہے۔
ماہرِ فلکیات کے مطابق محاق ہر قمری مہینے میں پیش آنے والی معمول کی کیفیت ہے۔
اس مرتبہ اس کی نمایاں بات صرف یہ ہے کہ یہ سورج گرہن کے ساتھ واقع ہو رہا ہے۔
اصل قابلِ توجہ مرحلہ جمعرات 13 اگست کو غروبِ آفتاب کے بعد ربیع الاول کا ہلال دیکھنے کی کوشش ہوگا۔
یہ دن بعض اسلامی ممالک میں 29 صفر اور دیگر میں 30 صفر ہوگا۔
محمد شوکت عودہ کے مطابق عرب دنیا کے بیشتر علاقوں میں ہلال کو دوربین کی مدد سے دیکھا جا سکے گا، جبکہ جنوبی اور مغربی افریقہ اور براعظم شمالی و جنوبی امریکا کے بعض حصوں میں اسے خالی آنکھ سے دیکھنے کے امکانات موجود ہوں گے۔
یوں 12 اور 13 اگست کی رات واقعی فلکیاتی اعتبار سے اہم ہوگی، لیکن ہر وائرل دعویٰ درست نہیں۔
سورج گرہن اور شہابی بارش حقیقی اور قابلِ مشاہدہ واقعات ہیں، جبکہ سیاروں کے کسی غیرمعمولی اجتماع کی خبر محض مبالغہ ہے۔