جدہ میں مکمل تاریکی 6 منٹ تک جاری رہنے کی توقع، پاکستان میں جزوی گرہن ہوگا
سعودی عرب 2 اگست 2027 کو 75 سال سے زائد عرصے بعد تاریخی مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کرے گا۔
جدہ اور ابہا سمیت بعض شہروں میں سورج تقریباً 6 منٹ تک مکمل طور پر چھپ جائے گا۔
پاکستان مکمل گرہن کے راستے میں شامل نہیں، تاہم کراچی، کوئٹہ، ملتان، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں جزوی سورج گرہن دکھائی دے گا۔
دوپہر کا وقت ہوگا، سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہوگا اور معمولاتِ زندگی اپنے روایتی انداز میں جاری ہوں گے۔
پھر چند لمحوں کے اندر روشنی مدھم پڑنے لگے گی، درجۂ حرارت کم ہوگا اور آسمان پر شام جیسا منظر چھا جائے گا۔
پرندوں اور جانوروں کے رویّے بدل سکتے ہیں، روشن ستارے اور سیارے دکھائی دینے لگیں گے اور سورج کے گرد اس کا پراسرار سفید ہالہ نمودار ہوگا۔
یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ 2 اگست 2027 کو سعودی عرب سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں رونما ہونے والا ایک تاریخی مکمل سورج گرہن ہوگا۔
یہ رواں صدی کے طویل ترین سورج گرہنوں میں سے ایک اور 21ویں صدی کا دوسرا طویل ترین مکمل سورج گرہن قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے عروج پر مصر کے شہر الاقصر کے قریب سورج تقریباً 6 منٹ 22 سیکنڈ تک مکمل طور پر چاند کے پیچھے چھپا رہے گا۔
سعودی عرب اس غیر معمولی فلکیاتی واقعے کے مرکزی راستے میں شامل ہوگا، جبکہ پاکستان میں مکمل کے بجائے جزوی سورج گرہن دیکھا جائے گا۔ کراچی اور ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں اس کا اثر نسبتاً زیادہ نمایاں ہوگا۔
مزید پڑھیں
سعودی عرب میں 75 سال بعد تاریخی منظر
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ مملکت میں 75 سال سے زائد عرصے بعد اپنی نوعیت کا نمایاں مکمل سورج گرہن ہوگا۔
مغربی اور جنوبی سعودی عرب کے بڑے حصے چاند کے مکمل سائے میں آجائیں گے اور کچھ علاقوں میں دن تقریباً 6 منٹ کے لیے رات جیسے اندھیرے میں تبدیل ہو جائے گا۔
مکمل گرہن کا راستہ بحرِ اوقیانوس سے شروع ہوکر جنوبی اسپین، آبنائے جبل الطارق، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور مصر سے گزرتا ہوا سعودی عرب، یمن اور صومالیہ تک پہنچے گا۔
اس تنگ مگر طویل راستے کے اندر واقع علاقوں میں چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا۔
جدہ، مکہ مکرمہ، طائف، ابہا، خمیس مشیط اور سعودی عرب کے متعدد مغربی اور جنوبی شہر اس تاریخی فلکیاتی منظر کے اہم مراکز ہوں گے۔
سورج گرہن کیوں ہوتا ہے؟
جب چاند اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے سورج اور زمین کے درمیان آجاتا ہے تو اس کا سایہ زمین کے بعض حصوں پر پڑتا ہے اور سورج مکمل یا جزوی طور پر چھپ جاتا ہے۔
چاند درمیان میں
چاند سورج اور زمین کے درمیان ایک سیدھ میں آجاتا ہے۔
سایہ زمین پر
چاند سورج کی روشنی روک کر اپنا سایہ زمین پر ڈالتا ہے۔
مکمل یا جزوی کسوف
گہرے سائے میں مکمل اور اطراف کے علاقوں میں جزوی گرہن دکھائی دیتا ہے۔
جدہ میں 6 منٹ کی تاریکی
جدہ دنیا کے ان نمایاں بڑے شہروں میں شامل ہوگا جہاں مکمل سورج گرہن غیر معمولی طویل دورانیے تک دیکھا جاسکے گا۔
فلکیاتی حسابات کے مطابق جدہ میں جزوی گرہن دوپہر تقریباً 12 بجے شروع ہوگا۔
مکمل سورج گرہن کا مرحلہ دوپہر ایک بج کر 22 منٹ کے بعد شروع ہوگا اور تقریباً 6 منٹ جاری رہنے کے بعد ایک بج کر 28 منٹ پر ختم ہوگا۔
اس کے بعد سورج بتدریج چاند کے سائے سے باہر نکلے گا اور پورا فلکیاتی عمل تقریباً پونے 3 بجے مکمل ہوگا۔
مکہ مکرمہ میں مکمل گرہن کا دورانیہ 5 منٹ سے زیادہ، طائف میں تقریباً چار منٹ اور ابہا اور خمیس مشیط میں چھ منٹ کے قریب رہنے کی توقع ہے۔
ابہا میں مکمل سورج گرہن تقریباً 6 منٹ 3 سیکنڈ اور خمیس مشیط میں تقریباً 6 منٹ ایک سیکنڈ تک جاری رہ سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دونوں شہر بھی عالمی سطح پر گرہن کے مشاہدے کے اہم مقامات بن سکتے ہیں۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے نادر موقع
جدہ، مکہ مکرمہ، طائف، ابہا، خمیس مشیط، جازان، نجران، باحہ اور جنوب مغربی سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں۔
ان میں سے بڑی تعداد کو اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ مکمل سورج گرہن براہِ راست دیکھنے کا موقع ملے گا۔
خصوصاً جدہ اور ابہا میں موجود پاکستانی خاندان اس مقام پر ہوں گے جہاں چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا۔
چند منٹ کے لیے دن کی روشنی ختم ہوگی، سورج کا بیرونی ہالہ نمایاں ہوگا اور آسمان میں بعض روشن ستارے اور سیارے بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ مکمل سورج گرہن صرف اس مخصوص راستے کے اندر دیکھا جاسکے گا جہاں چاند کا گہرا سایہ زمین پر گزرے گا۔
سعودی عرب کے وسطی، شمالی اور مشرقی علاقوں میں گرہن جزوی ہوگا اور بعض مقامات پر سورج کا بڑا حصہ چھپنے کے باوجود مکمل اندھیرا نہیں ہوگا۔
پاکستان میں کیا منظر ہوگا؟
پاکستان مکمل سورج گرہن کے راستے میں شامل نہیں، اس لیے ملک کے کسی حصے میں سورج مکمل طور پر غائب نہیں ہوگا۔
تاہم ملک کے مختلف شہروں میں دوپہر کے بعد جزوی سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔
پاکستان میں یہ فلکیاتی عمل مجموعی طور پر دوپہر تقریباً 2 بج کر 43 منٹ سے شام 4 بج کر 51 منٹ کے درمیان مختلف مقامات پر دکھائی دے گا۔ آغاز، عروج اور اختتام کا وقت ہر شہر کے جغرافیائی محلِ وقوع کے مطابق مختلف ہوگا۔
جنوبی اور جنوب مغربی پاکستان میں گرہن نسبتاً نمایاں جبکہ شمال مشرقی علاقوں میں اس کی شدت کم ہوگی۔
کراچی میں سب سے نمایاں منظر
بڑے پاکستانی شہروں میں کراچی اس جزوی سورج گرہن کے نمایاں ترین مقامات میں شامل ہوگا۔
کراچی میں گرہن سہ پہر تقریباً 3 بج کر ایک منٹ پر شروع ہوگا، 3 بج کر 57 منٹ پر عروج پر پہنچے گا اور 4 بج کر 49 منٹ پر ختم ہوگا۔ عروج کے وقت چاند سورج کی سطح کا تقریباً 29 فیصد حصہ ڈھانپ سکتا ہے۔
کراچی میں پورا عمل تقریباً ایک گھنٹہ 47 منٹ جاری رہے گا۔ اگر مطلع صاف رہا تو شہری سورج کی روشن گولائی کا ایک نمایاں حصہ چاند سے ڈھکا ہوا دیکھ سکیں گے، تاہم مکمل تاریکی نہیں ہوگی۔
کوئٹہ، ملتان اور لاہور میں اوقات
کوئٹہ میں جزوی گرہن دوپہر تقریباً 2 بج کر 59 منٹ پر شروع ہوگا، 3 بج کر 48 منٹ پر عروج تک پہنچے گا اور 4 بج کر 34 منٹ پر ختم ہوجائے گا۔
ملتان میں اس کا آغاز 3 بج کر 10 منٹ، عروج 3 بج کر 52 منٹ اور اختتام 4 بج کر 32 منٹ پر متوقع ہے۔
لاہور میں گرہن 3 بج کر 17 منٹ پر شروع ہوگا، 3 بج کر 52 منٹ پر زیادہ سے زیادہ ہوگا اور تقریباً 4 بج کر 25 منٹ پر اختتام پذیر ہوجائے گا۔ یہاں سورج کا نسبتاً چھوٹا حصہ چاند کے پیچھے جائے گا۔
اسلام آباد میں جزوی گرہن تقریباً 3 بج کر 14 منٹ سے 4 بج کر 19 منٹ تک جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ اس کا عروج 3 بج کر 47 منٹ کے قریب ہوگا۔
یوں پاکستان میں گرہن کی شدت مغرب اور جنوب سے مشرق اور شمال مشرق کی جانب بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
ملک منتخب کریں اور مکمل اوقات دیکھنے کے لیے بٹن کھولیں۔
🇸🇦 سعودی عرب مکمل سورج گرہن ⌄
🇵🇰 پاکستان جزوی سورج گرہن ⌄
6 منٹ کا گرہن اتنا خاص کیوں ہے؟
مکمل سورج گرہن عام طور پر چند منٹ یا بعض اوقات صرف چند سیکنڈ جاری رہتا ہے، لیکن 2 اگست 2027 کے گرہن میں چاند زمین کے نسبتاً قریب ہوگا۔
اس وجہ سے زمین سے اس کا ظاہری حجم سورج سے بڑا نظر آئے گا اور وہ سورج کو طویل وقت تک مکمل طور پر ڈھانپ سکے گا۔
گرہن کے عروج کے وقت مصر کے الاقصر کے قریب مکمل تاریکی تقریباً 6 منٹ 22 سیکنڈ تک جاری رہے گی۔
سعودی عرب پہنچنے تک چاند کے سائے کا راستہ بدستور اتنا وسیع ہوگا کہ جدہ اور ابہا جیسے شہروں میں مکمل گرہن چھ منٹ کے قریب دیکھا جاسکے گا۔
سورج کا پراسرار ہالہ نمودار ہوگا
مکمل گرہن شروع ہونے سے چند لمحے پہلے سورج کی روشنی تیزی سے کم ہونے لگے گی۔ چاند کے کناروں سے گزرتی آخری شعاعیں موتیوں کی لڑی جیسا منظر پیدا کریں گی، جسے فلکیات میں بیلیز بیڈز کہا جاتا ہے۔
اس کے فوراً بعد سورج کے کنارے پر ایک انتہائی روشن نقطہ دکھائی دے گا، جو سیاہ چاند کے گرد چمکتی انگوٹھی کا منظر پیش کرے گا۔ اس مظہر کو ڈائمنڈ رنگ کہا جاتا ہے۔
مکمل گرہن کے دوران سورج کا روشن قرص دکھائی نہیں دے گا، لیکن اس کے گرد پھیلی بیرونی فضا، یعنی شمسی تاج یا کورونا، سفید اور چاندی کے رنگ کے ہالے کی صورت میں نمودار ہوگی۔
اسی دوران درجۂ حرارت میں کمی، ہوا کی رفتار اور سمت میں تبدیلی اور جانوروں اور پرندوں کے معمولات میں وقتی ردوبدل بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے ساتھ سیاحت کا بڑا موقع
سعودی عرب کے لیے یہ واقعہ صرف ایک فلکیاتی نظارہ نہیں بلکہ سائنسی تحقیق، تعلیمی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ کا ایک بڑا موقع بھی ہے۔
دنیا بھر سے ماہرینِ فلکیات، فوٹوگرافر، سائنس دان اور گرہن کے شوقین افراد جدہ، ابہا اور دیگر سعودی شہروں کا رخ کر سکتے ہیں۔
ساحلی میدانوں میں اگست کے دوران نسبتاً صاف موسم کے امکانات بعض مقامات کو مشاہدے کے لیے مزید موزوں بنا سکتے ہیں۔
جامعات، خلائی ادارے اور فلکیاتی انجمنیں شمسی تاج، درجۂ حرارت، فضائی تبدیلیوں اور حیاتیاتی ردِعمل کا مطالعہ کرسکیں گی۔
اسکولوں اور عوامی مقامات پر محفوظ مشاہدے کے مراکز قائم کرکے اس واقعے کو ایک بڑی سائنسی اور تعلیمی سرگرمی میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
عام دھوپ کا چشمہ کافی نہیں
مکمل یا جزوی سورج گرہن کو عام دھوپ کے چشمے، موبائل کیمرے، ایکسرے فلم، دھویں لگے شیشے یا غیر محفوظ دوربین سے دیکھنا انتہائی خطرناک ہے۔
سورج کی تیز شعاعیں چند سیکنڈ میں آنکھ کے پردے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اور بعض اوقات متاثرہ شخص کو فوری طور پر درد بھی محسوس نہیں ہوتا۔
محفوظ مشاہدے کے لیے عالمی حفاظتی معیار کے مطابق تیار کردہ مخصوص سولر ایکلپس گلاسز یا منظور شدہ شمسی فلٹر استعمال کرنا ضروری ہوگا۔ کیمرے، دوربین اور ٹیلی اسکوپ کے سامنے بھی الگ شمسی فلٹر نصب ہونا چاہیے۔
پاکستان میں چونکہ گرہن صرف جزوی ہوگا، اس لیے کسی بھی مرحلے پر حفاظتی چشمہ اتار کر سورج کو براہِ راست دیکھنا محفوظ نہیں ہوگا۔ سعودی عرب میں بھی حفاظتی چشمہ صرف اسی مختصر مرحلے میں ہٹایا جاسکتا ہے جب سورج مکمل طور پر چاند کے پیچھے چھپ جائے، اور سورج کا معمولی حصہ ظاہر ہوتے ہی اسے دوبارہ پہننا ہوگا۔
ایک آسمان، دو مختلف تجربات
دو اگست 2027 کو سعودی عرب اور پاکستان ایک ہی فلکیاتی واقعے کے دو بالکل مختلف مناظر دیکھیں گے۔
جدہ، ابہا اور سعودی عرب کے متعدد مغربی اور جنوبی شہروں میں دن چند منٹ کے لیے رات میں بدل جائے گا، جبکہ کراچی، کوئٹہ، ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں سورج جزوی طور پر چاند کے پیچھے جائے گا۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اس تاریخی واقعے کے سب سے شاندار منظر کے عینی شاہد بن سکیں گے، جبکہ پاکستان میں موجود ان کے اہلِ خانہ اسی وقت آسمان پر جزوی گرہن دیکھ رہے ہوں گے۔
یوں چاند کا ایک سایہ بحیرۂ احمر کے کنارے سے پاکستان کے شہروں تک لاکھوں پاکستانیوں کو ایک ایسے فلکیاتی تجربے سے جوڑ دے گا جو چند گھنٹوں میں ختم ہوجائے گا، مگر اس کے مناظر طویل عرصے تک یاد رکھے جائیں گے۔