براہ راست نشریات

ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے بیانیہ بدلنا ضروری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: فائل)

کویتی میڈیا سے وابستہ معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر صالح المطیری نے کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کی پائیداری کا اصل امتحان سفارتی معاہدوں میں نہیں بلکہ تہران کے داخلی بیانیے کی تبدیلی میں پوشیدہ ہے۔

مزید پڑھیں

انہوں نے الجزیرہ پر شائع اپنے تجزیے میں واضح کیا کہ محض تصویریں کھنچوانے یا دستاویزات پر دستخط کرنے سے برسوں پرانی تلخیاں ختم نہیں ہو سکتیں بلکہ اس کے لیے زبان اور مفردات بدلنے ہوں گے۔

نیلسن منڈیلا کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ دشمن سے امن کے لیے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے، جس کا مطلب بند 

کمروں کے بجائے عوامی سطح پر ایک دوسرے کے لیے احترام پیدا کرنا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی سیاسی اور میڈیا بیانیے میں خلیج عرب کو غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے، جو کہ حقائق کے منافی اور ایک منظم طریقے سے پھیلایا گیا پروپیگنڈا تھا۔

حالیہ کشیدگی کے خاتمے میں خلیجی دارالحکومتوں نے جو اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے، اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ ممالک خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے امن کا ایک بنیادی اور متوازن ستون ہیں۔

mines in hormuz3
عالمی آئل ٹینکر آپریٹرز کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل تک بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع نہیں کریں گے (فوٹو: الجزیرہ)

یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ جن ممالک کو برسوں تک جنگ کا اڈہ قرار دے کر نشانہ بنایا گیا، وہی ممالک آج ایران اور دیگر قوتوں کے درمیان ثالثی اور مفاہمت کے لیے بہترین پلیٹ فارم بن چکے ہیں۔

ڈاکٹر صالح کے مطابق ایران کو اب حسنِ جوار کے روایتی وعدوں سے آگے بڑھ کر اپنے میڈیا اداروں اور سیاسی اشرافیہ کی سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی تاکہ خلیجی ممالک کو مکمل طور پر خود مختار ریاستیں تسلیم کیا جائے۔

ونسٹن چرچل اور ابراہام لنکن کے اقوال کی روشنی میں انہوں نے زور دیا کہ عوامی رائے ہی وہ طاقت ہے جو جنگوں کو روکتی ہے، اس لیے ایرانی عوام میں خلیج کے بارے میں مثبت شعور بیدار کرنا اب ناگزیر ہے۔

ایران خلیجی ممالک تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی و میڈیا بیانیے کی تبدیلی پر مبنی تجزیہ
اصل امتحان سفارتی معاہدوں میں نہیں بلکہ تہران کے داخلی بیانیے کی تبدیلی میں پوشیدہ ہے (فوٹو: اے آئی)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح خلیجی میڈیا نے برسوں سے ایرانی حکام اور تجزیہ نگاروں کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا، اسی طرح تہران کو بھی اپنے میڈیا میں خلیجی آوازوں کو براہ راست جگہ دینی چاہیے۔

امریکہ اور جاپان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے درمیان پائیدار اتحاد اسی لیے ممکن ہوا کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے والی زبان بدلی تھی۔

رپورٹ کے آخر میں کہا گیا کہ جغرافیہ تبدیل نہیں ہو سکتا، اس لیے باہمی احترام اور خود مختاری کا تحفظ ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے میں مستقبل کی نسلوں کے لیے امن یقینی بنایا جا سکتا ہے۔