براہ راست نشریات

مذاکرات میں بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے قریب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران مذاکرات

سوئٹزرلینڈ کے بورگن اسٹاک ریزورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور کا اختتام ہو گیا ہے۔
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقوں نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا۔
مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیاں، لبنان کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔

قطر اور پاکستان نے، جو سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکی، ایرانی مذاکرات کے ثالث ہیں، اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کا اختتام ہو گیا ہے، جبکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات پورا ہفتہ بورگن اسٹاک ریزورٹ میں جاری رہیں گے۔ اس دوران متعدد حساس معاملات پر پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے ماحول میں ہوئی جب مذاکرات کے آغاز پر کشیدگی نمایاں تھی۔ 

ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا عندیہ دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دہرائی اگر طے شدہ مفاہمتوں پر عمل نہ ہوا۔

دوحہ اور اسلام آباد کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق امریکہ اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ 

اس کے علاوہ تکنیکی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک طریقۂ کار اور مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔

مزید پڑھیں

بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے ایک براہِ راست رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

اسی طرح لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ڈی کنفلیکشن سیل قائم کیا جائے گا تاکہ جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے 

متعلق مفاہمت پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

بورگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات پیر کی علی الصبح تک جاری رہے، جن میں امریکی اور ایرانی وفود نے قطری اور پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں شرکت کی۔ 

مذاکرات میں ایرانی جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، علاقائی سلامتی، لبنان کی صورتحال اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وہ لمحہ جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کی دھمکیوں کے باعث مذاکرات معطل کرنے کی خبر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو دی اور اس کے بعد مذاکراتی ماحول کس طرح یکدم کشیدہ اور تناؤ کا شکار ہو گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات سے متعلق بعض چھوٹ، منجمد اثاثوں کے جزوی اجرا اور ملکی تعمیرِ نو و اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے آغاز کی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات میں جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور لبنان کی صورتحال سمیت کئی اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ 

ان کے مطابق فریقین کشیدگی میں کمی اور نئے سفارتی مرحلے کی جانب پیش رفت کے حوالے سے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ایرانی وفد کے اچانک چلے جانے پر پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف واضح طور پر صدمے میں دکھائی دیے۔ ان کے چہرے پر حیرت، الجھن اور بے یقینی کے تاثرات نمایاں تھے، گویا کئی ماہ کی سفارتی کوششیں اور مسلسل ثالثی ایک ہی لمحے میں خطرے میں پڑ گئی ہوں۔

مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آنے والے دنوں میں تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ قطر اور پاکستان بطور ثالث اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ مذاکرات کا مثبت اور تعمیری ماحول برقرار رہے اور مقررہ مدت کے اندر ایک جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچا جا سکے۔