سوئٹزرلینڈ کے بورگن اسٹاک ریزورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور کا اختتام ہو گیا ہے۔
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقوں نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا۔
مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیاں، لبنان کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
وہ لمحہ جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کی دھمکیوں کے باعث مذاکرات معطل کرنے کی خبر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو دی اور اس کے بعد مذاکراتی ماحول کس طرح یکدم کشیدہ اور تناؤ کا شکار ہو گیا۔
ایرانی وفد کے اچانک چلے جانے پر پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف واضح طور پر صدمے میں دکھائی دیے۔ ان کے چہرے پر حیرت، الجھن اور بے یقینی کے تاثرات نمایاں تھے، گویا کئی ماہ کی سفارتی کوششیں اور مسلسل ثالثی ایک ہی لمحے میں خطرے میں پڑ گئی ہوں۔