براہ راست نشریات

جنگ ختم، خوف باقی: ہرمز نے دنیا کی توانائی حکمت عملی بدل دی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز بحران

ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرے نے عالمی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بعد بحری آمدورفت کی بحالی متوقع ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے تیل کی عالمی تجارت کو مستقل طور پر متاثر کیا ہے۔
خریدار اب خلیجی تیل پر مکمل انحصار سے گریز کر رہے ہیں جبکہ پیدا کرنے والے ممالک بھی متبادل پائپ لائنوں اور برآمدی راستوں پر توجہ بڑھا رہے ہیں۔

ممکن ہے کہ آبنائے ہرمز آئندہ چند دنوں میں دوبارہ معمول کے مطابق کام کرنا شروع کر دے، لیکن گزشتہ چند ماہ کے واقعات نے عالمی توانائی منڈی پر ایسے اثرات چھوڑے ہیں جنہیں صرف بحری آمدورفت کی بحالی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ 

ایران کے ساتھ جنگ نے نہ صرف توانائی کی ترسیل کو عارضی طور پر متاثر کیا بلکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک اور خریداروں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک پر انحصار کی حقیقی لاگت پر دوبارہ غور کریں۔

مزید پڑھیں

خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق حالیہ تجربہ غالباً مشرق وسطیٰ کی تیل تجارت کی حرکیات کو مستقل طور پر تبدیل کر دے گا، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش جو پہلے صرف تجزیہ کاروں کے فرضی خدشات میں شامل تھی، اب ایک حقیقی خطرے کے طور پر سامنے آ چکی ہے جو عالمی توانائی منڈیوں کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ جنگ نے واضح کر دیا کہ ایران عالمی تیل منڈی کو

کس قدر آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابتدائی مفاہمت کے باوجود مارکیٹ کے کھلاڑی خطرات کے مکمل خاتمے کے حوالے سے مطمئن نہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم تنازعات اب بھی موجود ہیں۔

```html
آبنائے ہرمز کے بعد تیل تجارت کی نئی دنیا
بلومبرگ: حالیہ بحران مشرق وسطیٰ کی تیل تجارت کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتا ہے
0اہم نکات
0جاپان کی سابق خلیجی انحصار %
0متبادل برآمدی منصوبے
0اہم گزرگاہ

ایک منٹ میں

اگرچہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی جانب بڑھ رہی ہے، لیکن حالیہ جنگ نے دنیا کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ عالمی توانائی کی سپلائی ایک ہی گزرگاہ پر انحصار نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے خریدار نئے ذرائع تلاش کر رہے ہیں جبکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک متبادل راستوں پر سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔

⚠️کشیدگی
🛢️تیل منڈی متاثر
🚢شپنگ لاگت بڑھی
🌏متبادل ذرائع
📈نئی تجارتی حقیقت

آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو شدید متاثر کیا۔

بلومبرگ کے مطابق حالیہ بحران مشرق وسطیٰ کی تیل تجارت کو مستقل طور پر بدل سکتا ہے۔

جنگ نے ثابت کیا کہ ایران عالمی توانائی سپلائی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایشیائی خریدار اب خلیجی تیل پر مکمل انحصار سے گریز کر رہے ہیں۔

تیل خریدار خطرات کے باعث زیادہ رعایتیں طلب کر سکتے ہیں۔

انشورنس اور بحری نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے کا امکان برقرار ہے۔

جاپان امریکا، میکسیکو، وینزویلا اور دیگر ذرائع سے خام تیل خرید رہا ہے۔

سعودی عرب اور امارات متبادل برآمدی راستوں پر سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات فجیرہ تک اضافی پائپ لائن منصوبے پر غور کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے خطرات تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔

BY: overseaspost.net

خطرے کی مستقل قیمت

جنگ سے پہلے ایشیائی خریدار خام تیل خریدتے وقت بنیادی طور پر قیمت، معیار اور شپنگ لاگت کو مدنظر رکھتے تھے، لیکن اب ان کے فیصلوں میں ایک نیا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے، یعنی آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خطرات اور ممکنہ سپلائی تعطل۔

بلومبرگ کے مطابق مستقبل میں:

  • ایشیائی خریدار خلیجی تیل پر اضافی رعایتوں کا مطالبہ کر سکتے ہیں تاکہ سمندری خطرات کی تلافی ہو سکے۔
  • شپنگ کمپنیاں زیادہ انشورنس اخراجات اور ممکنہ تاخیر یا جہازوں کی روک تھام کے خدشات کے باعث کرایوں میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
  • یوں جغرافیائی سیاسی خطرات تیل کے ہر بیرل کی قیمت کا مستقل حصہ بن سکتے ہیں، چاہے جنگ ختم ہی کیوں نہ ہو جائے۔

ایشیا متبادل ذرائع کی تلاش میں

خلیجی ممالک کا تیل بنیادی طور پر ایشیائی منڈیوں میں جاتا ہے، لیکن حالیہ جنگ نے ایشیائی ممالک کو اپنی توانائی کی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ChatGPT Image 17 يونيو 2026، 02 01 05 م

بلومبرگ کا خیال ہے کہ اگرچہ ایشیائی ریفائنریاں سپلائی معمول پر آنے کے بعد دوبارہ مشرق وسطیٰ کا تیل خریدیں گی، تاہم وہ ماضی کی طرح مکمل انحصار کی پالیسی اختیار کرنے سے گریز کریں گی۔

جاپان اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ 

جنگ سے قبل جاپان کی تقریباً 90 فیصد تیل درآمدات خلیجی ممالک سے آتی تھیں، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی خام تیل جاپانی ریفائنریوں کے لیے ایک اہم متبادل بن چکا ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی ایسے راستوں کے ذریعے سپلائی پر غور کیا جا رہا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت کو کم کریں۔

جاپان پیٹرولیم ایسوسی ایشن کے سربراہ شونیچی کیتو نے کہا کہ جاپان قومی ذخائر کے استعمال اور متبادل ذرائع کی فراہمی کے ذریعے صورتحال سے نمٹ رہا ہے، اور انہیں موسم گرما میں طلب کے عروج کے دوران کسی بڑے سپلائی بحران کی توقع نہیں۔

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 01 55 31 م 1

انہوں نے بتایا کہ بعض جاپانی کمپنیاں میکسیکو، ایکواڈور، وینزویلا، الاسکا اور روس کے سخالین-2 منصوبے سے بھی خام تیل خرید رہی ہیں۔

تاہم اس تنوع کی اپنی قیمت بھی ہے۔ 

کیتو کے مطابق امریکی خام تیل لے جانے والے بڑے ٹینکرز کو جنوبی افریقہ کے راستے سفر کرنا پڑتا ہے، جس میں تقریباً 55 دن لگتے ہیں، جو خلیج سے آنے والی سپلائی کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ وقت ہے۔

پیدا کرنے والے ممالک بھی متحرک

تبدیلی صرف خریداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ خلیجی خطے کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق حالیہ جنگ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے منصوبوں میں تیزی لانے پر آمادہ کیا ہے۔

ایشیائی خریدار
اب خلیجی تیل پر
مکمل انحصار سے
گریز کر رہے ہیں

متحدہ عرب امارات فجیرہ تک ایک اضافی پائپ لائن بچھانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے، جبکہ سعودی عرب بحیرہ احمر تک جانے والی اپنی پائپ لائن کے ذریعے بلند سطح پر تیل کی ترسیل جاری رکھ سکتا ہے۔
یہ منصوبے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آج توانائی کی سلامتی صرف تیل کے ذخائر کے حجم سے وابستہ نہیں رہی بلکہ اس بات سے بھی جڑی ہے کہ بنیادی ڈھانچہ جغرافیائی رکاوٹوں اور بحرانوں سے نمٹنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بعد مارکیٹ میں کچھ سکون آیا ہے اور دبئی خام تیل کی اضافی قیمت جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ گئی ہے، تاہم ماہرین اب بھی محتاط ہیں۔
فورٹیکسا کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کزاویر تانگ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے سے متعلق جنگی خطرات کی اضافی قیمت اس وقت تک تیل کی قیمتوں کو سہارا دیتی رہے گی جب تک بحری آمدورفت کے مکمل طور پر محفوظ ہونے کے واضح اشارے سامنے نہیں آ جاتے۔

بلومبرگ کے مطابق خلیج آنے والی کئی دہائیوں تک عالمی تیل صنعت کا مرکز رہے گی، لیکن حالیہ جنگ نے یہ سبق ضرور دیا ہے کہ توانائی کی ضروریات کے لیے کسی ایک خطے پر حد سے زیادہ انحصار روایتی قیمتوں کے حساب کتاب سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ خریدار اور پیدا کرنے والے ممالک اس حقیقت کو اب اپنی طویل مدتی تجارتی اور سرمایہ کاری حکمت عملیوں میں شامل کرنا شروع کر چکے ہیں۔

بشکریہ: الجزیرہ