ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرے نے عالمی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بعد بحری آمدورفت کی بحالی متوقع ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے تیل کی عالمی تجارت کو مستقل طور پر متاثر کیا ہے۔
خریدار اب خلیجی تیل پر مکمل انحصار سے گریز کر رہے ہیں جبکہ پیدا کرنے والے ممالک بھی متبادل پائپ لائنوں اور برآمدی راستوں پر توجہ بڑھا رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات فجیرہ تک ایک اضافی پائپ لائن بچھانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے، جبکہ سعودی عرب بحیرہ احمر تک جانے والی اپنی پائپ لائن کے ذریعے بلند سطح پر تیل کی ترسیل جاری رکھ سکتا ہے۔
یہ منصوبے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آج توانائی کی سلامتی صرف تیل کے ذخائر کے حجم سے وابستہ نہیں رہی بلکہ اس بات سے بھی جڑی ہے کہ بنیادی ڈھانچہ جغرافیائی رکاوٹوں اور بحرانوں سے نمٹنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بعد مارکیٹ میں کچھ سکون آیا ہے اور دبئی خام تیل کی اضافی قیمت جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ گئی ہے، تاہم ماہرین اب بھی محتاط ہیں۔
فورٹیکسا کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کزاویر تانگ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے سے متعلق جنگی خطرات کی اضافی قیمت اس وقت تک تیل کی قیمتوں کو سہارا دیتی رہے گی جب تک بحری آمدورفت کے مکمل طور پر محفوظ ہونے کے واضح اشارے سامنے نہیں آ جاتے۔