سوئس حکومت نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر جمعہ 19 جون کو بورگن شٹوک میں دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستانی اور قطری ثالثوں کی تجویز پر منتخب کیے گئے اس مقام پر سکیورٹی انتظامات تیز کر دیے گئے ہیں، جبکہ اطلاعات ہیں کہ تمام ہوٹل بک ہو چکے ہیں۔
امریکی اور ایرانی حکام پہلے ہی دستاویز پر ابتدائی الیکٹرانک دستخط کر چکے ہیں۔
سوئس حکومت نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے پر جمعہ کے روز وسطی سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن شٹوک میں دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
سوئس وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
وزارت کے مطابق موجودہ منصوبے کے تحت 19 جون بروز جمعہ کانٹن نِڈوالڈن کے مشہور سیاحتی مقام بورگن شٹوک میں معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں
بیان میں کہا گیا کہ اس مقام کا انتخاب پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کی مشترکہ تجویز پر کیا گیا۔
دستخطی تقریب ایک پرتعیش ہوٹل میں منعقد ہوگی جو وسطی سوئٹزرلینڈ میں واقع بورگن شٹوک پہاڑ کی چوٹی پر قائم ہے اور جھیل لوسرن کا دلکش منظر پیش کرتا ہے۔
سوئس وزارت خارجہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا
کہ یہ مقام محدود رسائی کی وجہ سے سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے، تاہم تقریب کی تفصیلات اور طریقہ کار کے بارے میں فی الحال مزید معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
دوسری جانب سوئس خبر رساں ویب سائٹ ’شفائیز ہوٹے‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تقریب کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور ریزورٹ کے تمام ہوٹل اتوار تک مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔
یہی بورگن شٹوک ریزورٹ جون 2024 میں یوکرین امن کانفرنس کی میزبانی بھی کر چکا ہے، جس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زلنسکی سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکا۔ایران معاہدے پر دستخط کی تیاریاں
سوئس حکومت نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے جمعہ 19 جون کی تاریخ تجویز کی ہے۔
تقریب وسطی سوئٹزرلینڈ کے معروف پہاڑی ریزورٹ بورگن شٹوک میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
مقام کے انتخاب میں پاکستان اور قطر نے بطور ثالث اہم کردار ادا کیا اور دونوں نے یہی مقام تجویز کیا۔
سوئس وزارت خارجہ امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تقریب کی حتمی تیاری مکمل کی جا سکے۔
بورگن شٹوک اپنی جغرافیائی ساخت اور محدود رسائی کے باعث انتہائی محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے۔
سوئس ذرائع کے مطابق ریزورٹ کے تمام ہوٹل اتوار تک مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔
یہی مقام 2024 میں یوکرین امن کانفرنس کی میزبانی بھی کر چکا ہے، جس میں عالمی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے پر ابتدائی الیکٹرانک دستخط پہلے ہی ہو چکے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اپنے اپنے وفود کی قیادت کریں گے۔
معاہدے کی دستاویز صرف ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے اور اس میں جنگ کے خاتمے اور آئندہ مذاکرات کے بنیادی اصول شامل ہیں۔
ایک سطر میں پورا مضمون
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے سوئٹزرلینڈ کے محفوظ ترین مقامات میں شمار ہونے والے بورگن شٹوک ریزورٹ کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تاریخی تقریب متوقع ہے۔
ادھر ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ابتدائی طور پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں۔
امریکی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی جانب سے مجلس شورٰی کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دستاویز کی توثیق کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی رسمی دستخطی تقریب میں اپنے اپنے ممالک کے وفود کی قیادت کریں گے۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ مفاہمتی یادداشت محض ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ عمومی اصولوں اور بنیادی نکات پر مبنی ہے۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر دستخطی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ اس وقت فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جس کے باعث سوئٹزرلینڈ آمد کا امکان موجود ہے اگر معاہدے کی حتمی تیاریاں مکمل ہو جائیں۔