15 جون 2026ء کو سامنے آنے والے نیویگیشنل ڈیٹا کے مطابق قطر کی بندرگاہ راس لفان سے آنے والا مائع قدرتی گیس (LNG) کا ٹینکر دیشا (DISHA) آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان میں داخل ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں
آبنائے ہرمز میں یہ نقل و حمل ایک ایسے وقت میں شرعو ہوئی ہے جب اس اہم آبی گزرگاہ پر سیکیورٹی خدشات اور محتاط نیویگیشن کا سلسلہ جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک اس پیش رفت کو امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں ہونے والے سیاسی معاہدے کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ٹینکر ’دیشا‘ کا پس منظر
اوپن سورس انٹیلی جنس یونٹ کی نگرانی کے مطابق مالٹا کا پرچم بردار ٹینکر دیشا، جس کا بین الاقوامی میری ٹائم شناختی نمبر 9250713 ہے، 2004ء میں سروس میں شامل ہوا تھا۔
یہ ٹینکر بنیادی طور پر قطر اور بھارت کے درمیان گیس سپلائی کے روٹ پر فعال ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق یہ ٹینکر بھارت کی ’پیٹرونیٹ ایل این جی‘ کمپنی سے منسلک ہے اور اسے قطر سے بھارت کی دہیج بندرگاہ تک ایل این جی پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے انتظام و انصرام میں جاپانی کمپنی مٹسوئی او ایس کے لائنز’ بھی شامل ہے۔
آبنائے ہرمز میں نیویگیشنل صورتحال
آبنائے ہرمز سے دیشا کا گزر اس لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس گزرگاہ سے گیس ٹینکرز کی نقل و حرکت انتہائی محدود اور وقفے وقفے سے رہی ہے۔
شپنگ کمپنیوں نے اس آبی گزرگاہ پر سیکیورٹی کے غیر یقینی حالات کے پیش نظر انتہائی احتیاط برتی ہے۔
یونٹ کی جانب سے کیے گئے گزشتہ ریکارڈز کے مطابق مئی 2026ء سے اب تک صرف 5 قطری ایل این جی ٹینکرز ہی اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ان ٹینکرز میں الخريطيات، محزم، فویرط، الريان اور الظعاين شامل ہیں، جو مختلف منزلوں بشمول چین کی جانب گامزن تھے۔
ایران امریکہ پیش رفت
حالیہ نیویگیشنل پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیاسی ہلچل عروج پر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹیکس کے کھول دیا جائے گا اور امریکی بحری محاصرہ ختم کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا ہے کہ دنیا بھر کے جہاز اپنے انجن اسٹارٹ کریں کیونکہ تیل کی ترسیل بحال ہو رہی ہے۔
تاہم، ٹرمپ نے اپنے موقف میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کا انحصار جمعہ کو متوقع باضابطہ معاہدے پر ہے، جس کا بنیادی مقصد پہلے مرحلے میں بارودی سرنگوں کی صفائی کرنا ہوگا۔
اگرچہ دیشا کا محفوظ گزر ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن خطے میں توانائی کی ترسیل کا عالمی نظام تاحال انتظار اور مشاہدے کی کیفیت میں ہے۔
سیاسی اعلانات کے باوجود تجارتی شپنگ کمپنیاں کسی بھی بڑی نقل و حرکت سے قبل سیکیورٹی کی ضمانتوں اور باضابطہ حکومتی اعلانات کی منتظر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کا بحران جس قدر گہرا ہے، اس کے حل کے لیے محض زبانی اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ کو مکمل بحالی کے لیے ٹھوس سیکیورٹی میکانزم اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد درکار ہے۔