امریکا اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد ایک تاریخی مفاہمتی معاہدے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے، ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات کی بحالی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل بحالی اور حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعہ کو جنیوا میں متوقع ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں، جبکہ جنیوا میں جمعہ کو ہونے والی تقریب میں شریک ہونے والے وفود کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ اور سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
دستخطی تقریب کے فوراً بعد عباس عراقچی جنیوا میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور میں بھی شرکت کریں گے، جہاں معاہدے کی تفصیلات پر مزید بات چیت کی جائے گی۔
مزید پڑھیں
اگرچہ بعض امریکی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ شرکت کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے تاحال اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے صدر اور نائب صدر دونوں کی ایک ساتھ بیرون ملک موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سوئس وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وسطی سوئٹزرلینڈ کے تاریخی برگن اسٹاک میوزیم میں منعقد ہوگی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کسی قسم کا انعام نہیں بلکہ امریکی عوام کے مفادات کے حصول کی ایک کوشش ہے۔
امریکا۔ایران فریم ورک معاہدہ
ایک منٹ میں خلاصہ
امریکا اور ایران کے درمیان فریم ورک معاہدہ فوری جنگ بندی، بحری محاصرے کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور 60 دن کے اندر جامع معاہدے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
معاہدے کا ٹائم لائن
10 اہم ترین نکات
امریکا اور ایران کے درمیان فریم ورک معاہدے پر جمعہ کو جنیوا میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔
ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف جبکہ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے۔
تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان متوقع ہے۔
جامع معاہدے کے لیے 60 دن کا مذاکراتی فریم ورک طے کیا گیا ہے۔
امریکا دستخط کے فوراً بعد بحری محاصرہ ختم کرے گا۔
اقتصادی اور مالی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی متوقع ہے۔
ایران 30 دن میں مکمل بحری آمدورفت بحال کرے گا۔
تہران نے دوبارہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
حتمی معاہدے کے بعد امریکی فوجی تعیناتی کم ہونے کا امکان ہے۔
معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور کرانے کی تجویز شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایران کے وعدے حقیقت پر مبنی ہیں یا محض بیانات، اور آیا تہران اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
دوسری جانب معاہدے کی مسودہ دستاویزات میں ایسے کئی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی نکات شامل ہیں جو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی بنیاد بن سکتے ہیں۔
مسودے کے مطابق ایران کو فوری طور پر تیل اور ایندھن کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ اس کے بدلے تہران اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق مخصوص ضمانتیں فراہم کرے گا۔
دستاویز کے مطابق تمام فریق جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کریں گے، جس میں لبنان سمیت تمام محاذ شامل ہوں گے، جبکہ آئندہ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا دھمکی سے گریز کا عہد بھی کیا جائے گا۔
واشنگٹن اور تہران اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مذاکرات مکمل کیے جائیں گے، البتہ باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔
مسودے کے مطابق امریکی وزارت خزانہ ایران کو تیل فروخت کرنے کے لیے فوری رعایتیں جاری کرے گی، جبکہ پابندیوں میں نرمی کا عمل ایران کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔
اس کے ساتھ امریکا نئے اقتصادی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ کرے گا اور حتمی معاہدے کے بعد ایران کے اطراف تعینات اپنی افواج واپس بلانے پر بھی آمادگی ظاہر کرے گا۔
ایران کے ذمے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں اور دیگر رکاوٹوں کو ہٹانا اور 30 دن کے اندر مکمل بحری آمدورفت بحال کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ تہران ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جبکہ افزودہ یورینیم اور جوہری پروگرام کی دیگر حساس تفصیلات کو حتمی معاہدے میں زیر بحث لایا جائے گا۔
مسودہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکا ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی، تیل اور بینکاری کے شعبوں پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے۔
ذرائع کے مطابق حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی منظوری ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے دی جا سکتی ہے، جس سے معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔