ایلون ماسک کا کہنا ہے کہ نیورالنک کی دماغی چِپ ٹیکنالوجی فالج، بینائی اور بولنے کی صلاحیت سے محروم افراد کے لیے غیر معمولی امکانات پیدا کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق 12 شدید فالج زدہ افراد اب تک امپلانٹ استعمال کر چکے ہیں، جبکہ 2026 میں بڑے پیمانے پر پیداوار اور خودکار سرجری کی تیاری کی جا رہی ہے۔
امریکی کاروباری شخصیت ایلون ماسک نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی نیورالنک کی تیار کردہ دماغی چِپس مستقبل میں انسانوں کو ایسی صلاحیتیں فراہم کر سکتی ہیں جو آج ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہیں، اور یہ ٹیکنالوجی ’معجزات‘ کے قریب پہنچ رہی ہے۔
ماسک کے مطابق نئی دماغی رابطہ ٹیکنالوجی دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کا شکار افراد کی بحالی میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ ایسے لوگ جو برسوں سے بولنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں، دوبارہ گفتگو کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مریضوں میں یہ کامیابی پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ان افراد کی بینائی بھی بحال کر سکتی ہے جو اپنی آنکھیں یا بصری اعصاب کھو چکے ہیں، بلکہ ایسے افراد کے لیے بھی امید پیدا کر سکتی ہے جو پیدائشی طور پر مکمل نابینا ہیں۔
ان کے مطابق دماغ کے بصری مراکز سے براہِ راست رابطہ قائم کرکے یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ماسک کا کہنا تھا کہ دماغی چِپس مفلوج افراد کو دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، اور یہ انسانیت کے لیے ایک انتہائی اہم پیش رفت ہوگی۔
نیورالنک چپ کیا ہے؟
دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہِ راست رابطہ بنانے والی جدید ٹیکنالوجی
1۔ بنیادی خیال
نیورالنک چپ ایک دماغی کمپیوٹر انٹرفیس ہے، جو دماغی اشاروں کو پڑھ کر انہیں ڈیجیٹل کمانڈز میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔
2۔ یہ کیسے لگتی ہے؟
یہ چھوٹی ڈیوائس سرجری کے ذریعے دماغ کے مخصوص حصے میں نصب کی جاتی ہے، جہاں باریک تاریں اعصابی سرگرمی ریکارڈ کرتی ہیں۔
3۔ مقصد کیا ہے؟
ابتدائی مقصد معذور یا مفلوج افراد کو صرف سوچ کے ذریعے کمپیوٹر، موبائل یا دیگر آلات کنٹرول کرنے میں مدد دینا ہے۔
4۔ مستقبل کی امید
کمپنی کے مطابق مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بولنے، دیکھنے اور حرکت کی صلاحیت متاثر ہونے والے افراد کے لیے مددگار بن سکتی ہے۔
کام کرنے کا آسان طریقہ
ایلون مسک نے کہا ہے کہ ’یہ ٹیکنالوجیز حضرت عیسیٰؑ سے منسوب معجزات کے درجے کے قریب پہنچ رہی ہیں‘ جیسا کہ ان کے الفاظ ہیں۔
ان کے بقول اگر سائنس اس سطح تک پہنچ جائے تو یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہوگی۔
رواں سال کے آغاز میں ماسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا تھا کہ نیورالنک 2026 میں دماغ اور کمپیوٹر کو جوڑنے والے آلات کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرے گی، جبکہ سرجری کے عمل کو مکمل طور پر خودکار بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔
یہ دماغی چِپس بنیادی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ اور دیگر اعصابی بیماریوں میں مبتلا افراد کی مدد کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
پہلا مریض جس کے دماغ میں یہ چِپ لگائی گئی، اس نے ویڈیو گیمز کھیلنے، انٹرنیٹ استعمال کرنے، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے اور کمپیوٹر کا کرسر صرف دماغی اشاروں سے کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
نیورالنک نے 2024 میں انسانی آزمائشوں کا آغاز کیا تھا، جب امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات کو دور کر لیا گیا۔
کمپنی کے مطابق گزشتہ سال ستمبر تک دنیا بھر میں شدید فالج کے شکار 12 افراد کے دماغ میں یہ چِپس نصب کی جا چکی تھیں، اور وہ دماغی سگنلز کے ذریعے ڈیجیٹل اور جسمانی آلات کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔
کمپنی نے جون میں 650 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری بھی حاصل کی تھی۔