امریکی جریدے ’نیوز ویک‘ کی رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس کے آئی پی او کے بعد ایلون مسک کی دولت ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
دولت میں اس غیر معمولی اضافے نے انہیں دنیا کے پہلے ’ٹریلین ایئر‘ کلب میں شامل کر دیا ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ٹریلین ڈالر کا تصور اور حقیقت
ایک ٹریلین ڈالر کی رقم کا اندازہ لگانا عام انسان کی سوچ سے باہر ہے۔
ٹریلین ڈالر گننے میں 31 ہزار 700 سال لگیں گے اور نوٹوں کا یہ ڈھیر 109 ہزار کلومیٹر اونچا مینار بنا سکتا ہے۔
مالی طاقت اور اثاثے
’9 آئی کیپٹل گروپ‘ کے سی ای او کے مطابق زیادہ تر لوگ دولت اور نقد رقم کے فرق کو نہیں سمجھتے۔
کیون تھامسن نے بتایا کہ ایلون مسک کی یہ دولت نقد نہیں بلکہ اثاثوں پر مبنی ہے۔ یہ مالیت انہیں سرمایہ کاری اور قرض لینے کی زبردست طاقت فراہم کرتی ہے۔
عالمی معیشتیں اور مسک کی دولت
ایلون مسک کی دولت کا موازنہ کئی ممالک کی سالانہ جی ڈی پی سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ رقم سوئٹزرلینڈ کی معیشت کے قریب ہے اور ہالینڈ کی مجموعی قومی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ایک فرد کی ایسی مالی طاقت ہے جو کئی قومی معیشتوں کو ٹکر دے رہی ہے۔
اس دولت سے کیا خریدا جا سکتا ہے؟
اگر یہ رقم امریکی خاندانوں میں تقسیم کی جائے تو ہر خاندان کو 7800 ڈالر مل سکتے ہیں۔
یہ رقم امریکی حکومت کے سالانہ دفاعی بجٹ کے ایک بڑے حصے کو پورا کر سکتی ہے یا پھر دنیا کے 100 بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے تعمیر کرنے کے لیے کافی ہے۔
اسٹاک مارکیٹ اور خدشات
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم ’اسپیس ایکس‘ اور ’ٹیسلا‘ جیسے اداروں کے حصص کی مارکیٹ ویلیو کا مجموعہ ہے۔
حصص کی فروخت پر عائد پابندیوں کے باعث یہ دولت فوری نقد شکل میں دستیاب نہیں ہے۔ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے اس دولت میں سیکڑوں ارب ڈالر کا فرق پڑ سکتا ہے۔
ایلون مسک کا ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچنا ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ یہ کامیابی ان کی نجی زندگی میں فوری تبدیلی نہیں لائے گی، لیکن یہ ایک ایسا معاشی سنگ میل ہے جو عالمی سرمایہ کاری اور کارپوریٹ طاقت کے نئے مراکز کی نشاندہی کرتا ہے۔