براہ راست نشریات

ورلڈ کپ سے محرومی کے باوجود عمر عرتن کو ایک لاکھ ڈالر معاوضہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عمر عرتن

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت سے محروم ہونے والے صومالی ریفری عمر عرتن کے لیے عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں مکمل مالی معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
عمر عرتن کو امریکی حکام نے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، جس کے باعث وہ ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کرنے سے محروم رہ گئے، تاہم فیفا نے ان کی مالی حق تلفی نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت سے محروم ہونے کے باوجود صومالی فٹبال ریفری عمر عرتن کے لیے ایک خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے انہیں مکمل مالی معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ وہ ٹورنامنٹ میں ایک بھی میچ نہیں کرا سکیں گے۔

عمر عرتن کو ورلڈ کپ میں ریفری کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ 

میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تقریباً 11 گھنٹے تک پوچھ گچھ کے بعد امریکی حکام نے ان کا سفارتی پاسپورٹ اور سنگل انٹری ویزا مسترد کرتے ہوئے انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔

مزید پڑھیں

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق فیفا نے فیصلہ کیا ہے کہ عمر عرتن کو وہ تمام مالی مراعات اور معاوضے دیے جائیں گے جو ورلڈ کپ میں فرائض انجام دینے والے ریفریز کو دیے جاتے ہیں، گویا وہ ٹورنامنٹ میں عملی طور پر شریک رہے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ میں ریفریز کو ملنے والی حتمی رقم کا تعین عموماً ٹورنامنٹ کے اختتام پر کیا جاتا ہے، اسی لیے ابھی تک درست رقم سامنے نہیں آئی، تاہم امکان ہے کہ یہ رقم قابلِ ذکر ہوگی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں عمر عرتن کے 

ساتھ ہونے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 

انگلینڈ کی ریفریز کمیٹی کے سابق سربراہ کیتھ ہیکیٹ نے بھی اس معاملے پر شدید مایوسی ظاہر کرتے ہوئے فیفا سے مطالبہ کیا تھا کہ عرتن کو مالی اور اخلاقی طور پر معاوضہ دیا جائے۔

ہیکیٹ کے مطابق عمر عرتن تاریخی موقع سے محروم ہو گئے، کیونکہ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں میچ کرانے والے پہلے صومالی ریفری بننے جا رہے تھے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اتنی محنت سے عالمی سطح تک پہنچنے والے نوجوان ریفری کو اس طرح موقع سے محروم کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

ChatGPT Image 10 يونيو 2026، 08 43 36 م 1

34 سالہ عمر عرتن کو 2018 میں بین الاقوامی ریفری کا درجہ ملا تھا اور وہ فیفا کی جانب سے منتخب کیے گئے 52 مرکزی ریفریز میں شامل تھے جنہیں ورلڈ کپ 2026 کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

اگرچہ ان کا ورلڈ کپ کا خواب ادھورا رہ گیا، لیکن ان کے کیریئر کی ترقی کا سفر جاری ہے۔ یورپی فٹبال تنظیم نے انہیں آئندہ یورپی سپر کپ میچ کے لیے منتخب کیا ہے، جہاں وہ یورپی چیمپئنز لیگ کے فاتح پیرس سینٹ جرمین اور یوروپا لیگ کے فاتح آسٹن ولا کے درمیان مقابلے میں فرائض انجام دیں گے۔

فیفا ورلڈ کپ: پہلے راؤنڈ کے میچز، شیڈول کے لیے کلک کریں

اس سے قبل جون 2025 میں عمر عرتن تاریخ رقم کر چکے ہیں، جب وہ افریقی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں ریفری کے فرائض انجام دینے والے پہلے صومالی بنے تھے۔ 

اس فائنل میں مصری کلب پیرامڈز نے جنوبی افریقہ کے مامیلوڈی سن ڈاؤنز کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

ورلڈ کپ میں شرکت کا خواب اگرچہ ٹوٹ گیا، لیکن فیفا کے فیصلے اور مسلسل بین الاقوامی اعتماد نے ثابت کر دیا کہ عمر عرتن کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ ان کے لیے مزید بڑے مواقع مستقبل میں منتظر ہیں۔