فیفا کے سابق صدر جوزف بلاٹر نے صومالی ریفری عمر آرتان کو امریکا میں داخلے سے روکنے کے معاملے پر موجودہ فیفا انتظامیہ اور صدر جیانی انفانٹینو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بلاٹر نے اس واقعے کو ’شرمناک‘ اور ’فٹبال کی خودمختاری کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیفا کو سیاسی فیصلوں کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے۔
امریکا میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 کی گہما گہمی کے درمیان بین الاقوامی فٹبال سیاست کا ایک پرانا باب دوبارہ کھل گیا ہے۔
فیفا کے سابق صدر جوزف بلاٹر نے اپنے جانشین جیانی انفانٹینو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عالمی فٹبال انتظامیہ پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
فرانسیسی اخبار لیکیپ کو دیے گئے جرات مندانہ انٹرویو میں 90 سالہ بلاٹر نے صومالی ریفری عمر آرتان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
انہوں نے اس معاملے کو ’شرمناک‘ اور ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ فٹبال کی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے۔
مزید پڑھیں
بلاٹر کے مطابق یہ محض ایک انتظامی یا سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی سنگین غلطی ہے جو کھیل کی بنیادی اقدار کو متاثر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی ریفری میزبان ملک میں داخل نہیں ہو سکتا تو یہ ورلڈ کپ کی عالمی اور غیرجانبدار حیثیت پر سوالیہ نشان ہے۔
سابق فیفا صدر نے بالواسطہ طور پر انفانٹینو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی تعلقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ انفانٹینو کو ثابت کرنا چاہیے کہ وہ ’اپنے قریبی دوست، جو وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے، سے زیادہ طاقتور ہیں‘۔
اس بیان کو مبصرین نے انفانٹینو اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات پر براہ راست تنقید قرار دیا ہے۔ بلاٹر کا اشارہ اس جانب تھا کہ فیفا کے موجودہ سربراہ امریکی سیاسی فیصلوں اور امیگریشن پالیسیوں کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ عالمی فٹبال ادارے کو آزاد اور خودمختار رہنا چاہیے۔
یہ تازہ بیان دونوں رہنماؤں کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔
بلاٹر خود کو ایک ایسے ناقد اور نگران کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو ہر اس موقع پر آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے جہاں فیفا کی ساکھ یا اس کے اصول متاثر ہوتے دکھائی دیں۔
انفانٹینو ماضی میں بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ورلڈ کپ ایک ایسا عالمی ایونٹ ہے جو سب کے لیے کھلا ہے، تاہم عمر آرتان کو امریکا میں داخلے سے روکنے اور بعد ازاں استنبول واپس بھیجنے کے واقعے نے ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بلاٹر کا مؤقف ہے کہ فیفا بتدریج اپنی آزادی کھو رہی ہے اور حکومتی پالیسیوں کے زیراثر آتی جا رہی ہے۔
ان کے نزدیک یہ رجحان عالمی فٹبال کے لیے خطرناک ہے اور اس راستے سے انحراف کے مترادف ہے جس پر ان کے بقول فیفا نے ان کے 17 سالہ دورِ صدارت میں سفر کیا تھا۔