بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی فضائی حملے نے خطے میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ایران نے حملے کو امریکا کی جانب سے وعدوں کی عدم پاسداری قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال نہ بدلی تو سفارتی عمل جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے حملے کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے پر بھی غیر یقینی کے سائے پھر سے منڈلانے لگے ہیں۔
لبنان کے دار الحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر آج اتوار کے روز اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی، جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ بیروت کے جنوبی علاقے پر اسرائیلی حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا پھر ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر طے شدہ وعدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
تجاوز صهیونیستها به ضاحیه باردیگر نشان داد آمریکا یا ارادهای برای اجرای تعهدات خود ندارد یا توان آن را. با چراغ سبز نشان دادن به رژیم نمیتوانید امتیاز بگیرید. بازی پلیس بد و پلیس خوب قدیمی شده است.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 14, 2026
اگر اراده و توان اجرای تعهدات خود را ندارید، سخن گفتن از ادامه مسیر ممکن نیست.
دوسری جانب خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے نائب کمانڈر محمد جعفر اسدی نے خبردار کیا کہ بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیل کی کارروائیاں جواب کے بغیر نہیں رہیں گی اور ایران اس حملے کا مناسب ردعمل دے گا۔
مزید پڑھیں
حزب اللہ کا مرکز نشانہ بنایا
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِدفاع اسرائیل کاٹس نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں اور فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔
اسرائیلی قیادت نے خبردار کیا کہ شمالی اسرائیل کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے کہا کہ فوج اس وقت اپنی توجہ لبنان پر مرکوز کیے ہوئے ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
الغبیری میں جانی نقصان
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملہ الضاحیہ کے علاقے الغبیری میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر کیا گیا۔
لبنان کے سول ڈیفنس ادارے نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوئے ہیں۔
امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے کارروائیاں کیں۔
العربیہ کے ذرائع کے مطابق حملے میں حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما علی الحاج بھی مارے گئے۔
اسرائیل نے حملے سے پہلے امریکا کو آگاہ کیا
اس دوران اسرائیلی اور امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے بیروت پر حملے سے قبل واشنگٹن کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔
امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے کارروائی سے کچھ دیر پہلے امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ کو آگاہ کیا تھا، جیسا کہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیل نے امریکا کو حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دی تھی، تاہم اس کارروائی کے لیے امریکی منظوری طلب نہیں کی گئی تھی۔
یہ اطلاع دونوں ممالک کے درمیان معمول کے سکیورٹی رابطے کے تحت دی گئی۔
بیروت حملہ، ایران۔اسرائیل کشیدگی میں نیا موڑ
اہم نکات ایک نظر میں
🎯 اسرائیلی حملہ
الضاحیہ، بیروت میں حزب اللہ کے مبینہ کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
⚠️ جانی نقصان
کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوئے۔
🛡️ حزب اللہ
ذرائع کے مطابق رہنما علی الحاج حملے میں مارے گئے۔
🇮🇷 ایرانی ردعمل
محمد باقر قالیباف نے امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
🚨 مذاکرات خطرے میں
تہران نے خبردار کیا کہ اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔
🔥 جوابی کارروائی
ایرانی فوجی قیادت: حملہ جواب کے بغیر نہیں رہے گا۔
🇺🇸 امریکی مؤقف
اسرائیل نے حملے سے قبل امریکا کو اطلاع دی لیکن منظوری حاصل نہیں کی۔
🗣️ ٹرمپ کا بیان
اسرائیلی حملہ ایسے وقت میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔
🤝 امن معاہدہ
امریکا کا کہنا ہے مذاکرات اب بھی درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
🚢 آبنائے ہرمز
مجوزہ معاہدے میں ہرمز کی بحالی اور بعض ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔
مذاکراتی عمل کو دھچکا
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی توقع کی جا رہی تھی، جسے دونوں ممالک کے درمیان جاری بحران کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا تھا۔
تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو تہران مذاکراتی عمل پر نظرثانی کر سکتا ہے، کیونکہ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جنگ بندی یا سیاسی معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں کو شامل ہونا چاہیے۔
ایک ایرانی ذریعے کے مطابق حملے سے قبل قطر کی وساطت سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری تھا، لیکن ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ: امن کے موقع کو ضائع نہ کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی حملے کو نامناسب وقت پر ہونے والی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے تاکہ خطے میں دائمی امن کے قیام کا موقع ضائع نہ ہو۔
امریکی وزیرِدفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا کہ واشنگٹن کو نہیں لگتا کہ بیروت پر اسرائیلی حملے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو سبوتاژ کریں گے اور بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز اور جوہری فائل
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ غور مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی، جبکہ اس کے بدلے ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کے ایک حصے کی رہائی ممکن ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق حساس معاملات کو معاہدے کے بعد الگ تکنیکی مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا جائے گا، جو تقریباً 60 روز تک جاری رہ سکتے ہیں، تاکہ بحران کے مستقل اور جامع حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔