براہ راست نشریات

قطری وفد تہران پہنچ گیا، امن معاہدہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران امن معاہدہ

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق قطری وفد تہران پہنچ گیا ہے، جہاں اس نے ایرانی اعلیٰ حکام سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر بات چیت کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں، جبکہ ایران نے ابھی تک مفاہمتی یادداشت پر اپنے حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق قطری وفد آج اتوار کے روز تہران پہنچا، جہاں اس نے ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ 

یہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور ثالثی عمل کا حصہ ہے۔

تسنیم نے بتایا کہ قطری وفد نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ 

اس سے قبل رائٹرز نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ قطری مذاکرات کار تہران پہنچے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

مزید پڑھیں

اگرچہ امریکا اور پاکستان کی قیادت نے امید ظاہر کی تھی کہ اتوار کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو جائیں گے، تاہم ایران نے معاہدے کے وقت کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ تہران کی جانب سے حتمی فیصلہ ابھی زیر غور ہے اور مجوزہ معاہدے کے سیاسی، قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ ماہرین اور اعلیٰ فیصلہ 

سازوں کی سطح پر جاری ہے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے اور اس کی تکمیل 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ معاہدے پر اتوار کو دستخط ہوں گے اور اس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دی جائے گی۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر آئندہ چند دنوں میں ڈیجیٹل دستخط کیے جا سکتے ہیں۔