اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ، عملہ محفوظ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کا ایک AH-64 اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکار بحفاظت بچا لیے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی فنی خرابی کا شکار ہوا یا کسی اور وجہ سے گرا ہے۔
یہ ایران، امریکا جنگ کے آغاز کے بعد اپاچی ہیلی کاپٹر کا پہلا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کو ایک اہم نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں امریکی فوج کا ایک AH-64 اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر کل پیر کے روز گر کر تباہ ہوگیا۔ 

امریکی ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا اور وہ محفوظ ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تاحال یہ تعین نہیں ہوسکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فضائی دفاع یا فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا حادثے کی کوئی اور وجہ تھی۔ 

امریکی حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

امریکی مرکزی کمان حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز میں اپنی عسکری سرگرمیاں بڑھا چکی ہے۔ 

اپاچی ہیلی کاپٹر، MQ-9 ریپر ڈرونز، F/A-18 اور F-35 جنگی طیارے خطے میں تعینات ہیں تاکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر عائد رکاوٹوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اس جنگ کے دوران متعدد امریکی ڈرونز مار 

گرا چکا ہے جبکہ چند امریکی جنگی طیارے بھی مختلف کارروائیوں میں ضائع ہوئے۔ 

تاہم فروری 2026 میں جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج نے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کھویا ہے۔

ChatGPT Image 9 يونيو 2026، 09 59 06 ص

فوجی ماہرین کے مطابق AH-64 اپاچی دنیا کے خطرناک ترین حملہ آور ہیلی کاپٹروں میں شمار ہوتا ہے۔ 

یہ ’ہیل فائر‘ میزائلوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز میں چھوٹی تیز رفتار کشتیوں اور ڈرون خطرات کے خلاف اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل پر دونوں ممالک نے حملے روکنے کا اعلان کیا، تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ جوابی حملے شروع کر سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل تمام محاذوں پر تیار ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔