اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

ایران اور اسرائیل میں دوبارہ جنگ بندی، باہمی حملے روکنے کا اعلان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران اسرائیل جنگ بندی

ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد ہونے والے تازہ حملوں کا سلسلہ روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران نے اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کو مزید سخت جواب کی دھمکی دی، جبکہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روکنے کی تصدیق کی۔
ادھر واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

ایران اور اسرائیل نے آج پیر کے روز ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے مشترکہ کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر‘ نے اعلان کیا کہ تہران نے آج اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کر دی ہیں، تاہم خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ 

ایرانی حکام کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ’دردناک جواب‘ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر اسرائیل ایران کے خلاف حملے روک دے گا تاہم اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور اس کی پالیسی بدستور یہ رہے گی کہ اگر اسرائیلی بستیوں پر حملہ ہوا تو بیروت کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی گفتگو مجموعی طور پر مثبت رہی۔ 

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی موجود ہے، اگرچہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے دو مواقع پر امریکی مؤقف سے اختلاف کیا، جن میں بیروت پر حملہ اور ایران کے خلاف جوابی کارروائی شامل ہیں۔

ChatGPT Image 7 يونيو 2026، 09 19 09 ص 1

ادھر ایک اسرائیلی ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان آج پیر کے روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ 

یہ رابطہ اس سے قبل ہوا جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایران اور اسرائیل دونوں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ’جہالت یا حماقت‘ آڑے آئی تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ 

انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ فوراً فائرنگ بند کر دی جائے۔

دریں اثنا ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو یقین نہیں کہ اسرائیل واشنگٹن کی منظوری یا رابطے کے بغیر ایران پر ایسے حملے کر سکتا ہے۔ 

ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ امریکہ پر ایران کا عدم اعتماد مزید بڑھ رہا ہے۔

پاکستان ایران امریکا ثالثی

واضح رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ کشیدگی اس وقت بھڑک اٹھی جب دو ماہ قبل ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔ 

یہ صورتحال خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے لیے خطرہ بن گئی تھی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ 

یہ مذاکرات جنگ بندی کے بعد شروع ہوئے تھے تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اگرچہ ٹرمپ بارہا جلد معاہدہ ہونے کی امید ظاہر کر چکے ہیں۔