ادھر ایک اسرائیلی ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان آج پیر کے روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
یہ رابطہ اس سے قبل ہوا جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایران اور اسرائیل دونوں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ’جہالت یا حماقت‘ آڑے آئی تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ فوراً فائرنگ بند کر دی جائے۔
دریں اثنا ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو یقین نہیں کہ اسرائیل واشنگٹن کی منظوری یا رابطے کے بغیر ایران پر ایسے حملے کر سکتا ہے۔
ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ امریکہ پر ایران کا عدم اعتماد مزید بڑھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ کشیدگی اس وقت بھڑک اٹھی جب دو ماہ قبل ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔
یہ صورتحال خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے لیے خطرہ بن گئی تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
یہ مذاکرات جنگ بندی کے بعد شروع ہوئے تھے تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اگرچہ ٹرمپ بارہا جلد معاہدہ ہونے کی امید ظاہر کر چکے ہیں۔