روسی سیکیورٹی اداروں نے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے قریبی رفقا کی حفاظت کے لیے مخصوص نگرانی کے نظام کے کچھ حصوں کو بند کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ غیر معمولی احتیاطی اقدام تہران میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد کیا گیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اس حفاظتی نظام کو انجینئرز کے معائنے کے بعد انٹرنیٹ سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے۔
اس کا مقصد نظام میں اُن تکنیکی خامیوں کو ختم کرنا ہے جنہیں ایرانی نگرانی کے نظام میں دراندازی اور ہیکنگ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایران میں ٹریفک کیمروں کے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے 28 فروری کو ہونے والے ایک اہم اجلاس کا سراغ لگایا تھا۔
اس حملے میں کئی اعلیٰ ایرانی حکام مارے گئے تھے، جس نے اب روسی حکام کو بھی سخت پریشان کر دیا ہے۔
روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورتنیکوف نے علاقائی سیکیورٹی سربراہان کو خبردار کیا ہے کہ نگرانی کے جدید آلات اب ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے تہران کے نظام میں موجود سافٹ ویئر کی خامیوں کو ہدف بنانے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے اب لاکھوں گھنٹوں پر مشتمل ویڈیوز میں سے بھی کسی مخصوص شخص یا گاڑی کی نقل و حرکت کو تلاش کرنا آسان ہو گیا ہے۔
انٹیلی جنس ادارے سادہ زبان میں ہدایات دے کر حساس معلومات اور انسانی رویوں کے پیٹرن نکالنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی مثال دی گئی ہے، جنہوں نے طویل عرصے تک روایتی طریقوں سے جدید ٹیکنالوجی کو چکمہ دیا۔
وہ اکتوبر 2024 میں ایک اتفاقی مقابلے میں شہید ہونے سے پہلے کئی ماہ تک ہائی ٹیک نگرانی سے مکمل محفوظ رہے تھے۔
واضح رہے کہ جہاں دنیا بھر میں نگرانی کی ٹیکنالوجی بہتر بنائی جارہی ہے، وہیں اب سیکیورٹی چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔
روس اب اپنے حساس ترین نظاموں کو بیرونی مداخلت سے بچانے کے لیے انہیں عالمی نیٹ ورک سے کاٹ کر مکمل طور پر محفوظ بنانے میں مصروف ہے۔