اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

شہباز شریف پُرامید: ایران، امریکا امن فارمولہ جلد سامنے آئے گا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ امن مذاکرات

شہباز شریف کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں ثالثی اور سفارتی رابطوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کی صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج پیر کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری امن مذاکرات کا حتمی مقصد اب حقیقت بننے کے قریب ہے، جس سے خطے میں دیرپا استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب ہونے والی فوجی کارروائیاں اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ نازک جنگ بندی کسی بھی وقت خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل، دانشمندی اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کریں تاکہ خطے کو مزید تباہی اور عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ شدید فوجی تصادم دیکھنے میں آیا۔ 

ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے جنہیں لبنان کے جنوبی مضافات

پر اسرائیلی حملوں کا ردعمل قرار دیا گیا، جبکہ اسرائیل نے جواباً ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔

اس تازہ کشیدگی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری امن کوششوں کو دھچکا پہنچایا۔ 

ٹرمپ نے دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کو بھی جوابی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

بعد ازاں ایرانی فوجی قیادت اور ایک اسرائیلی عہدیدار نے باہمی حملوں کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے کشیدگی کم ہونے کے اشارے دیے، جس کے بعد سفارتی کوششوں کے دوبارہ کامیاب ہونے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔