براہ راست نشریات

قشم پر وار، بحرین و کویت میں خطرے کی گھنٹیاں، کشیدگی عروج پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکا کی جانب سے قشم اور گورک میں ایرانی ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی دھمکی دے دی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ 7 میں سے 6 ایرانی میزائل تباہ کر دیے گئے۔
بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔

آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان محاذ آرائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ 

امریکی افواج کی جانب سے ایرانی جزیرہ قشم اور گورک میں ساحلی نگرانی کے ریڈار مراکز کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آج ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔ پاسداران کے مطابق امریکا خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار ہے اور ہرمز کی بندش کے نتائج بھی واشنگٹن کو بھگتنا ہوں گے۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب امریکی فوج نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے کویت اور بحرین کی جانب 7 بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، جن میں سے 6 کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے 

کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے کے ایرانی دعوے بھی بے بنیاد ہیں۔ 

ChatGPT Image 6 يونيو 2026، 11 31 22 ص

کویت اور بحرین میں ہنگامی صورتحال

حالیہ کشیدگی کے دوران ہفتے کی صبح کویت ایئرپورٹ اور بحرین کے دارالحکومت منامہ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ 

بحرینی وزارت داخلہ نے فوری طور پر خطرے کے سائرن بجانے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف 3 روز قبل ایران سے منسوب حملے میں کویت ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 63 افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایئرپورٹ کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ 

کویتی فوج کے مطابق اس حملے کے دوران 30 ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا گیا۔

مذاکرات تعطل کا شکار

فوجی کشیدگی میں یہ اضافہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات میں تعطل کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ 

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

پاکستان ان اختلافات کو ختم کرنے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کیے ہوئے ہے، تاہم اب تک کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

ChatGPT Image 6 يونيو 2026، 11 34 00 ص

ایران اور امریکا کے مؤقف میں خلیج

ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت منجمد اربوں ڈالر کے اثاثوں کی رہائی، تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، امریکی بحری محاصرے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں اپنے کردار کو تسلیم کروانے پر زور دے رہا ہے۔ 

اس کے برعکس امریکا آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی پر کسی قسم کی پابندی قبول کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ 

واشنگٹن ایرانی فنڈز کی رہائی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

قشم اور گورک میں امریکی کارروائی

امریکی مرکزی کمانڈ ’سینٹکام‘ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے متعدد ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو ناکام بنایا۔

سینٹکام کے مطابق ایران کی جانب سے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی سمت بھیجا گیا تھا، جنہیں امریکی افواج نے تباہ کر دیا۔ 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز خطے میں بحری آمدورفت کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہے تھے۔

654546465 1

بیان کے مطابق اس کے بعد ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کے ساحلی علاقے گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ساحلی نگرانی کے ریڈار مراکز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ بحری حملے کو روکا جا سکے۔

قشم کی اہمیت

جزیرہ قشم آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اسے ایران کی بحری حکمت عملی میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ 

یہاں فوجی تنصیبات، بحری اڈے اور جدید نگرانی کے نظام موجود ہیں جو خلیجی پانیوں میں سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔

اسی طرح گورک خلیج عرب کے ساحل پر واقع ایک اہم ساحلی مقام ہے، جہاں نصب ریڈار نظام بحری راستوں کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ 

کشیدگی کا نیا مرحلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی تنازعات حل نہیں ہو سکے۔ 

منجمد اثاثوں، جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور علاقائی اثر و رسوخ کے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑے اختلافی نکات ہیں، جبکہ حالیہ عسکری کارروائیوں نے خطے کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔