محمد منیر قمر
الخبر
حرمین شریفین دنیا کے وہ دو مقدس مقامات ہیں جہاں پہنچ کر کسی مسلمان کا دل واپسی پر آمادہ نہیں ہوتا۔
مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی زیارت اور مدینہ منورہ میں روضۂ رسولﷺ کی حاضری ایسی روحانی نعمتیں ہیں جن کی لذت الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی۔
یہاں عبادت، ذکر و دعا اور روحانی سکون کے ایسے خزانے موجود ہیں کہ زائر جتنا وقت گزارے، کم محسوس ہوتا ہے۔
مکہ مکرمہ کی فضیلت یہ ہے کہ یہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے، جبکہ مدینہ منورہ کی مسجد نبویﷺ میں ادا کی جانے والی ایک نماز عام مقامات کی ایک ہزار نمازوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔
اسی لیے حج یا عمرہ کے دوران دونوں مقدس شہروں میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا یقیناً باعثِ سعادت ہے۔
مشاهد من المسجد الحرام في اليوم الرابع عشر من ذي الحجة.#حياكم_الله | #واس_حج47 pic.twitter.com/OQ0ORUrXbR
— واس العام (@SPAregions) May 31, 2026
مزید پڑھیں
چالیس نمازوں کا تصور... حقیقت کیا ہے؟
عام طور پر بہت سے حجاج یہ سمجھتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں کم از کم 8 دن قیام اور مسجد نبویﷺ میں مسلسل 40 نمازیں ادا کرنا حج کا لازمی حصہ ہے۔
بعض اوقات لوگ اس قدر اس پابندی کو ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کسی نماز کی جماعت رہ جائے تو شدید پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں 8 دن قیام اور 40 نمازوں کی ادائیگی حج کا کوئی رکن، فرض یا واجب نہیں۔
البتہ بعض روایات میں مسلسل 40 نمازوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے، لیکن محدثین کی ایک بڑی تعداد نے ان روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔
اس لیے ان پر عمل کرنا باعثِ ثواب تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے حج کا لازمی حصہ سمجھنا درست نہیں۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ نفاق اور جہنم سے نجات کی بشارت صرف مدینہ منورہ میں 40 نمازوں تک محدود نہیں۔
دیگر صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص 40 دن تک تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرے، اس کے لیے بھی ایسی عظیم بشارتیں مذکور ہیں۔
دورانِ حج تجارت اور مزدوری کا شرعی حکم
عوام میں ایک غلط تصور پایا جاتا ہے کہ حج کے دوران تجارت، خرید و فروخت یا مزدوری کرنے سے حج متاثر ہوجاتا ہے، بلکہ بعض لوگ ایسے افراد کی نیت تک پر سوال اٹھاتے ہیں۔
قرآنِ کریم اس تصور کی نفی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل (رزق) تلاش کرو۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حج کے دوران جائز کاروبار، تجارت یا مزدوری کرنا شرعاً ممنوع نہیں۔
زمانۂ جاہلیت میں اگرچہ حج کے موسم کو تجارتی میلوں کی شکل دے دی گئی تھی، لیکن اسلام نے اصل خرابیوں کو ختم کیا، تجارت کو نہیں۔
صحابۂ کرامؓ، تابعین، مفسرین اور فقہاء کی آراء بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں کہ حج کے دوران جائز معاشی سرگرمیوں میں شرکت کرنا درست ہے، بشرطیکہ حج کے اعمال متاثر نہ ہوں۔
بہترین تحائف کون سے ہیں؟
حج اور عمرہ سے واپسی پر عزیز و اقارب کے لیے تحائف لانا ایک فطری عمل ہے۔
لوگ کپڑے، گھڑیاں، جانمازیں اور دیگر اشیاء خریدتے ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر دو ایسے تحائف ہیں جو واقعی سرزمینِ حجاز کی روحانی سوغات شمار ہوتے ہیں۔
پہلا تحفہ آبِ زمزم ہے، جو مکہ مکرمہ کی مقدس یادگار ہے۔
دوسرا قیمتی تحفہ عجوہ کھجور ہے، جس کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح 7 عجوہ کھجوریں کھائے، اسے اس دن زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
احادیث میں عجوہ کو جنتی پھل اور شفا کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
مناسک مکمل ہونے کے بعد جلد واپسی کیوں؟
اگرچہ حرمین شریفین میں قیام ہر مسلمان کی آرزو ہے لیکن نبی اکرمﷺ کی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سفر کا مقصد پورا ہوجائے تو بلا ضرورت قیام کو طول دینا پسندیدہ نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
سفر عذاب کا ایک حصہ ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اپنا کام مکمل کرلے تو جلد اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹ آئے۔
ایک دوسری روایت میں حج کے حوالے سے خصوصی طور پر ارشاد فرمایا گیا:
جب تم میں سے کوئی مناسکِ حج مکمل کرلے تو اسے جلد اپنے گھر لوٹ جانا چاہیے، یہی اس کے لیے زیادہ اجر کا باعث ہے۔
علمائے امت نے ان احادیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مناسک کی ادائیگی کے بعد جلد وطن واپسی مستحب ہے، البتہ اگر کوئی شخص چند دن مزید قیام کرنا چاہے تو اس میں بھی کوئی ممانعت نہیں۔
واپسی کے آداب
اگر کوئی حاجی حج سے پہلے مدینہ منورہ کی زیارت کرچکا ہو اور مکہ مکرمہ سے براہِ راست وطن واپس جارہا ہو تو اسے طوافِ وداع کے بعد روانہ ہونا چاہیے۔
اور اگر حج کے بعد مدینہ منورہ گیا ہو تو مسجد نبویﷺ سے نکلتے وقت کسی خاص انداز یا الٹے قدموں چلنے کی ضرورت نہیں۔
سنت یہی ہے کہ معمول کے مطابق نکلتے ہوئے دعائیں پڑھی جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی دعا مانگی جائے۔
گھر واپسی پر اپنی بستی یا شہر نظر آنے لگے تو نبی کریمﷺ کی مسنون دعائیں پڑھنی چاہئیں، اور گھر پہنچنے سے پہلے مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرنا بھی سنتِ نبویﷺ ہے۔
خلاصۂ کلام
حج کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، عبادت اور روحانی تربیت ہے۔
مدینہ منورہ میں 40 نمازوں کو حج کا لازمی جز سمجھنا درست نہیں، دورانِ حج جائز تجارت ممنوع نہیں، اور مناسک کی تکمیل کے بعد جلد وطن واپسی سنت و مستحب عمل ہے۔
حاجی کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری تشویشات سے بچتے ہوئے عبادت کے اصل مقصد پر توجہ دے، حرمین شریفین کی برکات سمیٹے اور روحانی سرمایہ لے کر اپنے گھر لوٹے۔