اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

ایران نے 50 زیرِ زمین میزائل سرنگیں دوبارہ فعال کر دیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران میزائل سرنگیں
سیٹلائٹ تصاویر: ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کی سرنگیں دوبارہ فعال کر دیں (ایئربس)

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی اپنی زیرِ زمین میزائل تنصیبات کے بیشتر داخلی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نے 69 میں سے 50 سرنگی راستے بحال کر لیے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے زیرِ زمین میزائل ذخائر کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے بعد بحالی کا عمل غیرمعمولی رفتار سے مکمل کیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے اب تک 18 زیرِ زمین میزائل تنصیبات کے 69 میں سے 50 سرنگی داخلی راستے دوبارہ کھولنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جنہیں گزشتہ 40 روزہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق جائزہ لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے بلڈوزرز اور مٹی ڈھونے والے ٹرکوں جیسی سادہ مشینری استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی اس مہم کا مقابلہ کیا، جس کا مقصد زیرِ زمین میزائل اڈوں تک جانے والی سڑکوں کو تباہ کرنا اور سرنگوں کے داخلی راستوں کو ملبے تلے دفن کرنا تھا۔

مزید پڑھیں

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صرف سرنگوں کے داخلی راستوں کو نشانہ بنا کر ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ یہ امریکی فضائی حملوں کی حکمتِ عملی کی حدود کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ تہران کے پاس اب بھی زیرِ زمین مقامات پر تقریباً ایک ہزار میزائل محفوظ ہیں، جس کے باعث جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایران میزائل حملے جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سی این این نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کی بحالی کے حوالے سے امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تمام اندازوں اور مقررہ ٹائم لائنز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ChatGPT Image 31 مايو 2026، 10 14 40 م

گزشتہ 8 اپریل کو جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد ایران نے اپنے فوجی اڈوں کی بحالی کے کام میں نمایاں تیزی پیدا کر دی۔ 

تہران نے ان سڑکوں کی بھی مرمت کی جنہیں امریکہ اور اسرائیل نے میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کے استعمال کو روکنے کے لیے نشانہ بنایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بمباری سے بننے والے بیشتر گڑھے اب بھر دیے گئے ہیں، جبکہ دو مقامات پر سڑکوں کو مکمل طور پر دوبارہ تعمیر اور پختہ کر دیا گیا ہے۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ زمین کی گہرائی میں محفوظ میزائل ذخائر کو سطحی حملوں سے شدید نقصان پہنچنے کا امکان کم ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ سال بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی سرنگوں کے داخلی راستوں کو اسی طرز پر نشانہ بنایا تھا۔

اصفہان کے قریب واقع ایک میزائل اڈے پر امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے دوران 4 سرنگی داخلی راستوں کو بند کرنے کے لیے متعدد حملے کیے۔ 

تصاویر میں کم از کم 18 بموں کے گڑھے دکھائی دیتے ہیں، جو استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی شدت کی عکاسی کرتے ہیں۔

Untitled 1 3
ایئربس کی سیٹلائٹ تصویر: زیرِ زمین میزائل اڈے پر کم از کم 10 تعمیراتی مشینیں سرنگ کا داخلی راستہ دوبارہ کھولنے میں مصروف

اسی دوران خمین شہر کے نزدیک واقع ایک اور اڈے پر اپریل کے وسط میں لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں کم از کم 10 تعمیراتی گاڑیاں ایک داخلی راستے کو دوبارہ فعال بنانے کے کام میں مصروف دکھائی دیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ ایک جانب دونوں فریق کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ 

ادھر ثالثی کی کوششیں بھی ہر فریق کے اپنے مطالبات اور شرائط پر اصرار کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔