ماہرین کا خیال ہے کہ تہران کے پاس اب بھی زیرِ زمین مقامات پر تقریباً ایک ہزار میزائل محفوظ ہیں، جس کے باعث جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایران میزائل حملے جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سی این این نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کی بحالی کے حوالے سے امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تمام اندازوں اور مقررہ ٹائم لائنز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
گزشتہ 8 اپریل کو جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد ایران نے اپنے فوجی اڈوں کی بحالی کے کام میں نمایاں تیزی پیدا کر دی۔
تہران نے ان سڑکوں کی بھی مرمت کی جنہیں امریکہ اور اسرائیل نے میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کے استعمال کو روکنے کے لیے نشانہ بنایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بمباری سے بننے والے بیشتر گڑھے اب بھر دیے گئے ہیں، جبکہ دو مقامات پر سڑکوں کو مکمل طور پر دوبارہ تعمیر اور پختہ کر دیا گیا ہے۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ زمین کی گہرائی میں محفوظ میزائل ذخائر کو سطحی حملوں سے شدید نقصان پہنچنے کا امکان کم ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ سال بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی سرنگوں کے داخلی راستوں کو اسی طرز پر نشانہ بنایا تھا۔
اصفہان کے قریب واقع ایک میزائل اڈے پر امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے دوران 4 سرنگی داخلی راستوں کو بند کرنے کے لیے متعدد حملے کیے۔
تصاویر میں کم از کم 18 بموں کے گڑھے دکھائی دیتے ہیں، جو استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی شدت کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسی دوران خمین شہر کے نزدیک واقع ایک اور اڈے پر اپریل کے وسط میں لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں کم از کم 10 تعمیراتی گاڑیاں ایک داخلی راستے کو دوبارہ فعال بنانے کے کام میں مصروف دکھائی دیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ ایک جانب دونوں فریق کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
ادھر ثالثی کی کوششیں بھی ہر فریق کے اپنے مطالبات اور شرائط پر اصرار کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔