اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ تیسری جنگ کی تیاریاں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت اسرائیلی فوج کے اعلیٰ افسران کو ’ہوم فرنٹ‘ کی جنگی آمادگی انتہائی سطح تک بڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے اسرائیل کو فضا میں ایندھن بھرنے والے جدید ترین ’کے سی 46‘ طیارے فراہم کیے ہیں، جو ایران کے خلاف دُور تک کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے پر شدید تحفظات ہیں، کیونکہ اسرائیلی
حکام کا خیال ہے کہ گزشتہ جنگ اپنے اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے سینئر افسران نے 28 مئی 2026 کو انکشاف کیا ہے کہ انہیں سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے ’ہوم فرنٹ‘ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے فوری طور پر تیار رکھنے کی سخت ہدایات موصول ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ ہوم فرنٹ اسرائیلی دفاعی افواج کا ایک ریجنل کمانڈ یونٹ ہے۔
اسرائیلی نیٹ ورک ’کان‘ کے مطابق ان ہدایات کا مقصد معاشرے کو اس طرح تیار کرنا ہے کہ ہوم فرنٹ کمانڈ کسی بھی حملے کی صورت میں صفر سے 100 فیصد تک کی رفتار سے فوری ردعمل دینے کے قابل ہو۔
عسکری حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگ کی منصوبہ بندی کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ دشمن کے خلاف حیرت انگیزی کا عنصر برقرار رہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو قبل از وقت وارننگ نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ 40 روزہ جنگ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نے 550 میزائل داغے تھے، جن میں سے 72 فیصد کلسٹر وار ہیڈز پر مشتمل تھے اور ان سے اسرائیل کے 1200 مقامات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
ان حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر غیر ملکی ورکرز اور بزرگ شامل تھے، جس کے بعد اب عبرانی زبان نہ جاننے والے طبقات تک وارننگ پہنچانے کے نظام پر ازسرنو نظرثانی کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے گزشتہ جنگوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو مزید جدید بنا لیا ہے اور وہ کسی بھی نئی جنگ میں پہلے سے زیادہ تیزی اور شدت کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا۔
لیکوڈ پارٹی کے رہنما ڈیوڈ بٹان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلیوں کو اب ہر ڈیڑھ سے 2 سال بعد ایران کے ساتھ ایک بڑی اور شدید جنگ کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نواتیم ایئر بیس پر امریکی طیاروں کی آمد کو ’گیم چینجر‘ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ طیارے اسرائیلی فضائیہ کو امریکی مدد کے بغیر بھی ایران کے خلاف آزادانہ اور طویل المدتی آپریشنز کی بھرپور صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
سی این این کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں ایرانی فوجی مقامات پر سرنگوں کو دوبارہ کھولنے کے شواہد ملے ہیں، جس نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ تہران بڑی تیاری کر رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ کے مطابق امریکی صدر نے علاقائی رہنماؤں کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے مسودے سے آگاہ کیا ہے، تاہم اسرائیلی میڈیا اس ممکنہ معاہدے کو ملک کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ قرار دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ دو ہفتوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 4 بار رابطہ کیا ہے، جس میں ایران اور حزب اللہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی سمیت خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
دریں اثنا اسرائیل نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ ریزرو فورسز کی بڑے پیمانے پر طلبی اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔