اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

اختلافات برقرار: دو گھنٹہ اجلاس کے بعد بھی فیصلہ نہ ہوسکا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران معاہدہ
ایران نے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری واپسی کو مذاکرات کی اہم شرط قرار دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں دو گھنٹے طویل اجلاس کے باوجود ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ تہران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ابھی کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ مجوزہ مفاہمت سے متعلق حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اہم اجلاس کے بعد بھی کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس اختتام پذیر ہو گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اجلاس میں کئی اہم اور متنازع امور پر غور کیا گیا، جن میں ایران کے منجمد اثاثے بھی شامل تھے۔ 

عہدیدار کے مطابق ان معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث صدر ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اس سے قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ 

ممکنہ مفاہمتی یادداشت پر ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے لیے سچویشن روم میں اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، جبکہ آبنائے ہرمز کو تمام بین الاقوامی جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس اور رکاوٹ کے کھول دیا جائے۔

ٹرمپ ایران بحری محاصرہ
ٹرمپ نے ایران سے متعلق ’حتمی فیصلہ‘ کے لیے سچویشن روم میں اجلاس طلب کیا

ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز دوبارہ اپنی نقل و حرکت شروع کر سکیں گے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے۔ 

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے افزودہ جوہری مواد کو امریکہ، ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے تلف کیا جائے گا، جبکہ ایران کو کسی بھی قسم کی مالی ادائیگی فی الحال نہیں کی جائے گی۔

ایران کے منجمد
اثاثے سمیت
کئی معاملات پر
اختلافات برقرار ہیں

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن کسی حتمی سمجھوتے تک ابھی رسائی حاصل نہیں ہوئی۔
بقائی نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کا فیصلہ ایران اور سلطنت عمان کو مشترکہ طور پر کرنا چاہیے، تاکہ دونوں ممالک کے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اس مرحلے پر یورینیم افزودگی یا دیگر جوہری تفصیلات پر بات نہیں کر رہا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی ’بحری ناکہ بندی‘ کے خاتمے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اپنے اقدامات واپس لیتا ہے تو یہ دراصل ایک غیر قانونی اقدام کا خاتمہ ہوگا، کیونکہ تہران کے مطابق یہ ناکہ بندی ابتدا ہی سے بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی۔

اسماعیل بقائی
ایران نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا

ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ’حقیقت اور مبالغہ آرائی کا امتزاج‘ ہیں اور ان کا مقصد ’مصنوعی سیاسی فتح‘ کا تاثر دینا ہے۔

تاہم اختلافات کے باوجود، رائٹرز نے ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایک ابتدائی سیاسی مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں، لیکن کئی حساس معاملات ابھی حل طلب ہیں، جس کے باعث معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔