امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں دو گھنٹے طویل اجلاس کے باوجود ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ تہران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ابھی کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن کسی حتمی سمجھوتے تک ابھی رسائی حاصل نہیں ہوئی۔
بقائی نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کا فیصلہ ایران اور سلطنت عمان کو مشترکہ طور پر کرنا چاہیے، تاکہ دونوں ممالک کے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اس مرحلے پر یورینیم افزودگی یا دیگر جوہری تفصیلات پر بات نہیں کر رہا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی ’بحری ناکہ بندی‘ کے خاتمے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اپنے اقدامات واپس لیتا ہے تو یہ دراصل ایک غیر قانونی اقدام کا خاتمہ ہوگا، کیونکہ تہران کے مطابق یہ ناکہ بندی ابتدا ہی سے بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی۔